جمعہ , 9 دسمبر 2022

عمران خان کا لانگ مارچ: تحریک انصاف اور حکمران اتحاد کس پریشانی سے دوچار ہیں؟

(عبدالرزاق کھٹی) 

حکومت گنوانے کے بعد عمران خان کا دوسرا لانگ مارچ لاہور سے روانہ ہوچکا ہے۔ اس سے پہلے وہ رواں سال 25 مئی کو پشاور سے روانہ ہوئے تھے۔ مگر اُن دنوں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، جبکہ اس بار ان کی اپنی حکومت ہے، اسی لیے اس بار انہوں نے لانگ مارچ کا آغاز پشاور کے بجائے لاہور سے کیا۔ اس بار بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ مطالبات وہی ہیں جو 25 مئی والے احتجاج کے وقت تھے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جو شیڈول جاری کیا ہے اس کے مطابق لانگ مارچ کے قافلے جمعے کے روز اسلام آباد پہنچیں گے۔ اسلام آباد کے چاروں اطراف ان کی حکومتیں ہیں، اس لیے انہیں نہ صرف مالی وسائل کی پریشانی نہیں بلکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے اسلام آباد پہنچنے کی امید بھی ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ لانگ مارچ میں اپنی تقاریر کے دوران اب حکومت کے ساتھ ساتھ پہلے سے زیادہ کُھل کر اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کی تقاریر میں زیادہ جارحانہ انداز ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد آیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی کا باضابطہ طور پر کسی پریس کانفرنس میں اچانک موجود ہونا اور کُھل کر بولنا پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کے لیے بھی حیران کن تھا، کیونکہ یہ پریس کانفرنس نہ صرف اچانک بلائی گئی تھی بلکہ یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ اس میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود ہوں گے۔ یہی سبب تھا کہ پریس کانفرنس کے بعد بہت سارے صحافی اپنے سینیئرز سے پوچھتے نظر آئے کہ کیا ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی ڈی جی آئی ایس آئی نے پریس کانفرنس کی ہے؟

2014ء میں ہونے والے لانگ مارچ کے وقت پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور وہ اسٹیبلشمنٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ عمران خان اور ان کے سیاسی کزن ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کے پیچھے وہی ہیں۔ لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں۔

پچھلے دھرنے میں تو یہ کزنز امپائر کی انگلی اٹھنے کے انتظار میں بھی تھے۔ پھر انہیں نامعلوم مقام سے بلاوا بھی آیا تھا جس پر وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے گئے تھے۔ اس بار دوسرا کزن ہے اور نہ ہی کسی بلاوے کا امکان کیونکہ جس طرح دھتکارا گیا ہے، اس کے بعد آنے والے دنوں میں جلدی معافی کا امکان بھی کم ہی ہے۔

تو اب ہوگا کیا؟، یہی وہ سوال ہے جس کا جواب عام آدمی کے پاس تو کیا اقتدار کے ایوانوں میں موجود لوگوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ ایک بے یقینی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے واضح یقین دہانی کروانے کے باوجود بھی حکمرانوں کو کھائے جارہی ہے۔ انہیں اب عمران خان کی وہ تقاریر یاد آرہی ہیں، جو وہ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد کیا کرتے تھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک آئینی عمل کے ذریعے عمران خان کو اقتدار سے نکالا، لیکن رواں سال مارچ اور اپریل میں جو کچھ عمران خان نے کیا اس سے تو لگتا ہے کہ انہوں نے خود اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کروائی۔

موجودہ حکمرانوں کے 6 ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ہے اس سے عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ حکمران اتحاد کے ایک رہنما بتارہے تھے کہ ’ہمارے آنے کے بعد لوگ انہیں [عمران خان کو] فرشتہ سمجھنے لگے ہیں‘۔ لیکن جو ہونا تھا وہ ہوچکا، اب کیا کیا جائے؟ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہی وہ سوال ہے جو ہمیں پریشان کیے رکھتا ہے‘۔

عمران خان کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا یا نہیں؟ اگر پہنچے گا تو کیا ریڈ زون کی طرف رخ کرے گا؟ اگر ریڈ زون کی طرف آئے گا تو کیا انتظامیہ اسے روک پائے گی؟ اس دوران اگر مزاحمت ہوئی تو کتنا جانی و مالی نقصان ہوگا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو حکومتی عہدے دار آپس میں ایک دوسرے سے کررہے ہیں۔

کیا یہ لانگ مارچ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود نتائج دے سکتا ہے؟ اگر اس لانگ مارچ میں گولی چل گئی تو کتنا جانی نقصان ہوسکتا ہے؟ کیا پرویز الہیٰ کی مالی اور سیاسی حمایت اسلام آباد پہنچنے تک جاری رہے گی؟ اگر لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ بھی جائے تو کتنے دن رکنا ہے؟ کیا سرد راتوں میں لوگوں کو ٹھہرانا اتنا آسان ہوگا، خصوصاً اس صورت میں جب اس بار ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی نہیں۔ پھر مالی طور پر مستحکم وہ شخصیات بھی نہیں جو اخراجات پورے کیا کرتی تھیں۔

سب سے بڑی بات یہ کہ اگر لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ جائے اور اس کے باوجود بھی انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ ہوسکے تو عوام کو کیا بتایا جائے گا؟ کیا اس بار بھی 26 مئی جیسی تضحیک کا سامنا کرنا پڑے گا؟ کیا عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کا بوجھ اٹھانا آسان ہے؟ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کا اس ادارے سے خاندانی تعلق رہا ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو اس وقت تحریک انصاف کے اہم حلقوں میں ایک دوسرے سے پوچھے جا رہے ہیں۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ اس وقت امتحان سے گزر رہے ہیں، لیکن یہ امتحان اب زیادہ دیر چلنے والا نہیں ہے۔ انہیں لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی وگرنہ انہیں بھی آشیرباد سے محروم کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے اس وقت وہ پنجاب کے حکمران ہیں۔

لگ بھگ ایک ماہ سے خصوصاً اسلام آباد کے ریڈ زون کے داخلی راستوں پر اور عموماً شہر کے دیگر داخلی راستوں پر کنٹینرز موجود ہیں۔ شہر ایک ڈرائی پورٹ کا سماں پیش کررہا ہے۔ لاہور سے لانگ مارچ کی روانگی کے بعد اب ریڈ زون کو زیرو پوائنٹ تک توسیع دے دی گئی ہے۔ پہلے ریڈ زون کی حدود سیرینا ہوٹل چوک سے شاہراہِ دستور سے ہوتی ہوئی، میریٹ ہوٹل تک ہوتی تھی، مگر اب تقریباً آدھا شہر ریڈ زون قرار دیا جاچکا ہے۔

بڑی تعداد میں آنسو گیس کے شیل خریدے جاچکے ہیں، جبکہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں اور دیگر آلات کا بھی انتظام ہوچکا ہے۔ حکومت نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ کسی صورت لانگ مارچ کے شرکا کو اسلام آباد میں ایک مخصوص جگہ سے آگے نہیں آنے دے گی۔

25 مئی کو بھی جب لانگ مارچ روات چوک پر پہنچا تھا تو اس رات لانگ مارچ کے قافلوں میں شامل لوگ ریڈ زون کی طرف پہنچ رہے تھے، کچھ گھنٹوں بعد ڈی چوک پر درختوں کو آگ لگ چکی تھی اور آنسو گیس کے بے تحاشہ استعمال کے نتیجے میں ایک بڑے علاقے میں سانس لینا دشوار ہوچکا تھا۔ اس دن بھی مزاحمت ہوئی لیکن فورسز نے قابو پالیا تھا، پھر دوسرے دن عمران خان نے اپنا احتجاج ختم کردیا تو صورتحال معمول پر آنا شروع ہوگئی۔

اس بار عمران خان اپنے ارادوں سے جس طرح آگاہ کر رہے ہیں اس سے انتظامیہ کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں تحریکِ انصاف بہت زیادہ اثر رکھتی ہے جبکہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے قافلے بھی پہنچ چکے ہوں گے، اس لیے انتظامیہ کو بھی اندازہ ہے کہ اسے کس صورتحال کا سامنا ہوگا۔

بہرحال انتظامیہ کو ایک موہوم سی امید یہ بھی ہے کہ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل اس کا کوئی حل نکل آئے گا اور اسے کسی بڑے امتحان سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ مگر سیاسی طور پر اس مارچ کے کیا نتائج ہوں گے اس بارے میں چند ہی لوگ فیصلے کررہے ہیں۔

تحریکِ انصاف کو تاحال اسلام آباد میں احتجاج کے لیے کسی جگہ کو مختص کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ جبکہ پارٹی قیادت کے لیے بھی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ وہی صورتحال ہے جو میاں نواز شریف کے ’مجھے کیوں نکالا‘ والے بیانیے کے وقت مسلم لیگ (ن) کی تھی۔ ان دنوں مسلم لیگ (ن) میں موجود بہت سارے رہنما میاں نواز شریف کے بیانیے کے سخت مخالف تھے لیکن پارٹی میں کسی کی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ وہ نواز شریف کے سامنے بات کرسکے، چاہے ان کا اپنا بھائی اور بھتیجا ہی کیوں نہ ہوں۔

آج کل اسی صورتحال کا سامنا تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد تو نام لے کر ایک دو شخصیات کو للکارتے تھے لیکن عمران خان تو کُھلے الفاظ میں بات کر رہے ہیں۔ ان 6 برسوں کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے اپنے لوگ ہی اس کے زیادہ مخالف ہوگئے ہیں۔

اندازہ ہے کہ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد حکومت نئے آرمی چیف کی نامزدگی کا اعلان کرسکتی ہے کیونکہ اصل معاملہ ہی یہ ہے کہ عمران خان موجودہ چیف اور دیگر کو نشانہ بناکر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن نئے آرمی چیف کی تقرری کے اعلان کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔

اس دوران چوہدری پرویز الہیٰ بھی اپنا سیاسی فیصلہ کرچکے ہوں گے کیونکہ عمران خان کے بیانیے کا بوجھ وہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ اگر پرویز الہیٰ بوجھ اتار پھینکنے کو تیار ہوئے تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی انہیں سہارا دے کر اسی منصب پر بٹھانے کے لیے تیار ہوگی۔ لیکن رواں ہفتہ بہت دھماکے دار خبروں کا ہفتہ ہوسکتا ہے۔بشکریہ ڈان نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جرمنی: تختہ الٹنے کی مبینہ سازش

(پال کربی) حراست میں لیے جانے والے افراد میں خود کو ہنریک دواز دہم کہلوانے …