جمعہ , 9 دسمبر 2022

فراموش شدہ، ہمارا راستہ

(تحریر: سید ثاقب اکبر)

پارٹ 1

6 جولائی 1987ء کو مینار پاکستان لاہور کے عظیم الشان سبزہ زار میں قرآن و سنت کانفرنس کے موقع پر فرزند اسلام قائد شہید و محبوب علامہ عارف حسین الحسینی علیہ الرحمہ نے ملت اسلامیہ پاکستان کی خدمت میں ’’آزادی و نجات کے سفر میں ہمارا راستہ‘‘ کے عنوان سے ایک منشور پیش کیا۔ یہ ایک بہت سوچی سمجھی اور گہرے غور و فکر و مطالعہ کے بعد منصہ شہود میں آنے والی ایک دستاویز تھی، جسے خود قائد شہید کے ماننے والوں کی اکثریت نے فراموش کر دیا۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں اس دستاویز کی طرف ایک مرتبہ پھر رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔اس میں انسان کے مقام اور اس کی حیثیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، انبیاء کی تحریک کے عظیم مقاصد اور ان کی شاندار جدوجہد کی نشاندہی کی گئی ہے اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے آنے والے کامل ترین پروگرام کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن کی معجزانہ صداقتوں کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ آپؐ کے اسوہ حسنہ اور آپ ؐہی کی حکومت کو رہتی دنیا تک ہر فرد اور معاشرے کے لیے بہترین اور کامل ترین نمونہ قرار دیا گیا ہے۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ آپؐ کے بعد آپؐ کے اہل بیت علیہم السلام اور آپ کے مخلص و پاکباز اصحاب رضوان اللہ علیہم نے آپؐ کے عالمی اور دائمی مشن کو جاری رکھا۔ پھر یزید جیسے سفاک ظالم، فاسق و فاجر شخص کے ہاتھ میں اسلامی معاشرے کی باگ ڈور کے آجانے کے المیہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں طاغوتی قوتوں کے اقتدار کا ذکر کرتے ہوئے برصغیر میں برطانیہ کے نوآبادیاتی نظام کے قیام کا حوالہ دیا گیا ہے۔ برصغیر میں جنگ آزادی اور جہاد و حریت کی تحریک کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کی ایک آزاد مملکت کے قیام کے روشن ایام کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں پاکستان کس طرح سے انحراف کے راستے پر چل پڑا، اس سلسلے میں ’’ہمارا راستہ‘‘ میں لکھے گئے یہ جملے توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں:

’’لاالہ الا اللہ کے ولولہ انگیز انقلابی نعروں کی گونج میں پاکستان معرضِ وجود میں آگیا، لیکن اس نوزائیدہ مملکت کو بہت سے مسائل بھی حصہ میں ملے۔ مہاجرین کی آبادکاری، اثاثوں کی تقسیم، معاشی مشکلات اور مؤثر انتظامی ڈھانچہ کی عدم موجودگی اور زیر خطر سالمیت جیسے سنگین مسائل پر عوام کی پُرجوش شرکت اور ہمہ گیر اعتماد کے بغیر صحیح طور پر قابو پانا ممکن نہ تھا۔ ضروری تھا کہ عوام کے اسلامی انقلابی جذبے کو بروئے کار لا کر اس مملکت کی تعمیر کا آغاز کیا جاتا، مگر حکمران طبقہ آہستہ آہستہ عوام سے دور ہوتا چلا گیا۔ شائد حکمران چاہتے بھی یہی تھے کہ عوام امور مملکت میں دلچسپی لینا چھوڑ دیں، تاکہ وہ اقتدار کے ایوانوں میں جو چاہیں کرسکیں۔ حکمرانوں کی اس روش نے مزید کئی ایک سنگین مسائل اور مشکلات کو جنم دیا۔‘‘

جن طبقوں نے روپ بدل بدل کر پاکستان کے وسائل کو لوٹا اور عوام کو بار بار دھوکہ دیا، ان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ’’یہ ایک حقیقت ہے کہ اختیارات کی تقسیم میں کمی بیشی کے ساتھ بہروپ، صورتیں اور ظاہری وابستگیاں بدل بدل کر مخصوص طبقے ہی آج تک حکمران رہے ہیں۔ یہ طبقے ہیں جاگیردار و سرمایہ دار، فوجی جرنیل اور نوکر شاہی۔ پاکستان پر عوام کے نمائندوں کی نہیں بلکہ زر اور زور والوں کی حکومت رہی ہے۔ اقتدار کا حامل طبقہ ہر قسم کی سیاسی اخلاقیات سے ماورا ہو کر صرف اور صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے جوڑ توڑ، سازش اور منافقانہ گٹھ جوڑ میں ہمہ وقت مبتلا رہا ہے۔‘‘

مملکت خداداد کی بڑی طاقتوں سے وابستگی کو سب سے بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے ’’ہمارا راستہ‘‘ میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے: ’’ظاہر ہے عوام سے بے نیاز بلکہ عوام کو گمراہ کرنے اور دبانے کی پالیسی پر گامزن حکومتوں کو اِدھر اُدھر سے سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکمرانوں کی اسی ضرورت نے پاکستان کو بڑی طاقتوں کا کاسہ لیس اور طفیلی بنا دیا۔ یہاں تک کہ پاکستان کی حکومت پوری طرح امریکہ کی حاشیہ نشیں اور کٹھ پتلی بن کر رہ گئی ہے۔ امریکہ سے وابستگی کی پاکستان کی تاریخ بہت سیاہ ہے۔ امریکہ نے مختلف طریقوں سے حکمرانوں سے ساز باز کرکے پاکستان کے وسائل کو لوٹا ہے، عہد شکنی کی ہے، ظلم و جبر کی قوتوں کو تقویت دی ہے اور گمراہ کرنے کی اپنی عالمی پالیسی پر عمل کیا ہے۔‘‘

ملک کے سنگین مسائل کا خلاصہ اس دستاویز میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ’’یہ ان سنگین مسائل کے چند پہلو ہیں، جنھوں نے وطنِ عزیز کو اپنی منحوس گرفت میں لے رکھا ہے۔ ان مسائل کے سائنسی تجزیہ کے نتیجہ میں یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان خرابیوں کی وجہ اور موجودگی کا سبب یہ تین عناصر ہیں:
٭ عالمی سامراج
٭ حکمران طبقہ اور
٭ مروجہ نظام تعلیم
ان عناصر کے باہمی تعلق کی اس حوالے سے تشریح کی جاسکتی ہے کہ عالمی سامراج پاکستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے حکمران طبقہ کی سرپرستی کرتا رہا ہے اور حکمران طبقہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے سامراج کی کاسہ لیسی اور مروجہ نظام تعلیم کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ر ہا ہے۔‘‘

مسائل کی نشاندہی کے بعد ضروری تھا کہ ان مسائل سے نجات کے لیے جدوجہد کے خطوط کو واضح کیا جاتا۔ چنانچہ ’’ہمہ گیر جدوجہد کا آغاز‘‘ کے زیر عنوان بیان کیا گیا ہے: ’’پاکستان میں جدوجہد اور جنگ کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور یہ جنگ کس کے خلاف، کس کی حمایت میں کس کس کو کس انداز سے لڑنا ہے۔
یہ جدوجہد۔۔۔۔۔۔
٭ بیک وقت سامراج، وطن میں موجود اس کے گماشتوں اور مفاد پرست نمائندوں اور حکمرانوں کے خلاف ہے۔ سب سے پہلے ہمیں سامراج پر ضرب کاری لگانا ہے، کیونکہ سامراج ہی تمام تر برائیوں اور سیاہیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس سرچشمے کو بند کیے بغیر اور سامراج کے خون خوار ہاتھ کاٹے بغیر کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔
یہ جنگ۔۔۔۔۔
٭ عوام کو وسیع پیمانے پر انقلابی شعور دیے بغیر اور انھیں حقیقی دشمن، اس کے مقاصد، ہتھکنڈوں اور سازشوں سے آگاہ کیے بغیر ہرگز نہیں لڑی جا سکتی، اس لیے کہ یہ تمام تر سازشیں درحقیقت عوام ہی کے خلاف ہیں اور بالآخر یہ جنگ عوام ہی کو لڑنا ہے۔‘‘

اس کے لیے جس طرح کی قیادت درکار ہے، اس کی خصوصیات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ منشور میں اس کے بعد پاکستان میں جس طرح کا نظام شہید قائد اور ان کے رفقاء کے مدنظر تھا، اس کے خطوط کو واضح کیا گیا ہے۔ اس میں نظام حکومت، نظام قانون، نظام عدالت، نظام معیشت، خارجہ پالیسی، نظام تعلیم، نظام جہاد، حقوق عامہ اور نظام ثقافت وغیرہ گویا مختلف شعبوں کے بارے میں ترجیحات اور حکمت عملی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آخری حصے میں ملکی اور عالمی سطح کے مسائل کے بارے میں موقف بھی واضح کیا گیا ہے۔ آئندہ سطور میں ہم ان پہلوئوں کے بارے میں ’’ہمارا راستہ‘‘ کے خطوط کو واضح کریں گے۔ ان شاء اللہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جرمنی: تختہ الٹنے کی مبینہ سازش

(پال کربی) حراست میں لیے جانے والے افراد میں خود کو ہنریک دواز دہم کہلوانے …