جمعرات , 1 دسمبر 2022

امریکہ اور غاصب اسرائیل کی ناکامی

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی)

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور آرمینیا کے وزیراعظم کی موجودگی میں تہران اور ایریوان کے اعلیٰ سطحی وفود کی ملاقات ہوئی۔ تہران میں ہونے والی اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور آرمینیا میں موجود متنوع اور بے شمار صلاحیتوں کے پیش نظر، یہ ضروری ہے کہ دونوں ملک باہمی تعلقات کو فروغ دیں۔ تعلقات کی سطح کو بہتر بنانے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔ ابراہیم رئیسی نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو ایران اور آرمینیا کے درمیان تعلقات کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے دستیاب شعبوں اور صلاحیتوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ ایران برآمدات کو بڑھانے سمیت دیگر اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ایران اور آرمینیا کے درمیان اقتصادی تعاون کے مشترکہ کمیشن کے باقاعدہ اجلاسوں کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط کو مزید فعال بنانے کے لیے موثر قرار دیا اور طے شدہ ہدف کے حصول کے لیے کوششوں پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تبادلے کی حد تین بلین ڈالر تک طے کی گئی ہے۔

دوسری جانب آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشینیان نے سوچی میں جمہوریہ آذربائیجان اور روس کے ساتھ اپنے ملک کی سہ فریقی میٹنگ کے ساتھ ساتھ قفقاز میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں رپورٹ بھی پیش کی۔ اس ملاقات میں آرمینیا کے وزیراعظم نے بھی ایرانی حکومت کی طرف سے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو دی جانے والی ترجیح کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کے مفادات اور موجودہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی موجودہ سطح کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ اپنے بیان کے ایک اور حصے میں پاشینیان نے خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے تعمیری کردار کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران کی کوششوں کا مقصد ہمیشہ خطے میں امن و سلامتی کو استحکام اور مضبوط بنانا رہا ہے۔

ادھر ایرانی اور آرمینیائی حکام نے توانائی کے شعبے میں اقتصادی تعاون کے حوالے سے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے اور دونوں ممالک کے درمیان گیس اور بجلی کی فراہمی کو 2031ء تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس مفاہمت کی یادداشت پر ایران اور آرمینیا کے حکام نے آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پاشینیان کے دورہ ایران کے موقع پر تہران کے سعد آباد تاریخی ثقافتی کمپلیکس میں دستخط کئے۔ یہ دستاویز توانائی کے شعبے میں تعاون کی دستاویز ہے، جو بجلی کے ساتھ گیس کے تبادلے کے ذریعے گیس کے معاہدوں میں توسیع کے لیے وقف ہے اور اس کی بنیاد پر دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے تبادلے کو 2031ء تک بڑھایا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی وجہ سے ایران اور آرمینیا کے درمیان دیرینہ روابط ہیں۔ یہ مثبت تاریخ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بعض مسائل کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں میں کارگر رہی ہے۔ اسی وجہ سے آرمینیا کو پڑوسی ممالک میں ایران کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں اچھی پوزیشن حاصل ہے۔ آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پاشینیان اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی کی سرکاری دعوت پر ایک سیاسی اور اقتصادی وفد کی سربراہی میں منگل کو تہران پہنچے تھے۔

دوسری طرف سوچی میں سہ فریقی اجلاس کے اختتام پر، شریک رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں طاقت کے استعمال سے باز رہنے یا ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی سے پرہیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ روس، جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے سربراہان کے درمیان سوچی ملاقات کے حتمی بیان میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ انسانی مسائل سمیت باقی ماندہ مسائل کے بارے میں فوری حل تک پہنچنے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں گی۔ سوچی ملاقات میں جمہوریہ آذربائیجان اور روس کے سربراہان اور آرمینیا کے وزیراعظم نے باکو اور ایریوان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانے کے معاہدے کی پاسداری پر زور دیا گیا۔ کریملن پیلس نے بھی سوچی اجلاس کے بارے میں ایک بیان جاری کیا اور اعلان کیا: کہ تنازع کے فریقین 9 نومبر 2020ء کو روس، جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے رہنماؤں کے درمیان سہ فریقی معاہدوں پر عمل درآمد کے عمل کا جائزہ لیں گے۔

قبل ازیں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے آرمینیائی وزیراعظم نکول پاشینیان کے ساتھ ملاقات کے بعد اس بات پر زور دیا تھا کہ روس تنازعہ کا خاتمہ چاہتا ہے اور ماسکو آرمینیائی حکومت کے اس موقف کی ہر طرح سے حمایت کرتا ہے۔” اسی طرح سوچی ملاقات کے دوران، روس کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنازعہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اسے اب روکنا چاہیئے۔ روس کے صدر کے اس موقف کو متحارب فریقوں اور غیر ملکی قوتوں کے لیے ایک اہم موقف سمجھا جانا چاہیئے، جو جنوبی قفقاز کے علاقے میں تناؤ اور تنازعات پیدا کرکے اس خطے اور اس سے آگے کے مخصوص مقاصد تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ روس کے صدر 2020ء میں باکو اور ایریوان کے درمیان تنازع ختم کرنے والے معاہدے کے ثالث تھے۔

ظاہر ہے کہ صہیونی دھارے سے متعلق ماہرین کا ناموافق نقطہ نظر مغربی حکومتوں کی دوغلی اور تسلط پسندانہ پالیسیوں سے آتا ہے۔ ان موقفوں کی عکاسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مغربی اور صیہونی میڈیا کے پروپیگنڈے میں روس کو جنوبی قفقاز کے بحران کی وجہ کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے۔ لیکن اب روس کے صدر نے باکو-ایراوان تنازع پر ماسکو کے واضح موقف کا اظہار کیا ہے۔ اب خطے اور دنیا کے تمام آزاد سیاسی حلقوں اور دلچسپی رکھنے والی حکومتوں کے لیے ایک اور موقع ہے کہ وہ اس حقیقت کو واضح طور پر سمجھ سکیں کہ جنوبی قفقاز میں قراباغ تنازعے کے اصل کردار کون سی جماعتیں ہیں۔ اس صورتحال میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کی اقوام مستقل امن حاصل کرسکتی ہیں؟ جواب ہاں میں ہے، کیونکہ اس خطے کے لوگوں اور ان کے آباؤ اجداد کے درمیان پرامن بقائے باہمی کا دورانیہ ان کی جنگ کے زمانے سے کہیں زیادہ طویل تھا اور یہ حالیہ جنگ بھی ان ممالک پر حکومت کرنے والی سلطنتوں کے خاتمے کے ساتھ ہوئی تھی۔

حال ہی میں الہام علی اوف کی حکومت کے حکام نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، تاکہ ایران کے مواصلاتی راستوں کو خود مختار جمہوریہ نخچیوان کے ساتھ رابطے کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور آرمینیا کے وزیراعظم کی موجودگی میں تہران اور ایروان کے اعلیٰ سطحی وفود کی ملاقات اور سوچی میں روسی صدر کی موجودگی میں آرمینیا اور آذربائیجان کے وفود کی مصالحت ایک ایسا اقدام ہے، جس نے امریکہ اور غاصب اسرائیل کی سازشوں کو عارضی طور پر ناکام بنا دیا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

آسٹریلوی وزیراعظم کا امریکا سے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کیخلاف کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ

کینبرا:آزادی اظہار کے لیے سرگرم کارکن اور وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج خفیہ دستاویزات …