بدھ , 7 دسمبر 2022

عمران خان کا لانگ مارچ: لوگ کم یا آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت اسلام آباد آنا حکمتِ عملی کا حصہ؟

(عمر دراز ننگیانہ)

پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو لاہور سے چلے لگ بھگ پانچ روز ہو چلے ہیں تاہم وہ ابھی گوجرانوالہ تک ہی پہنچ پایا ہے۔ پہلے روز مارچ کا آغاز لاہور کے لبرٹی چوک سے ہوا تو رات گئے بارہ بجے کے قریب جا کر اس کا اختتام داتا دربار پر ہوا۔

اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، جو کنٹینر پر سوار مارچ کی قیادت کر رہے تھے، لاہور میں اپنی رہائش گاہ زمان پارک چلے گئے۔

پہلے روز کے بعد معمول اسی قسم کا رہا ہے۔ دوسرے روز لانگ مارچ نے شاہدرہ سے آغاز کیا لیکن محض چند ہی گھنٹے چلنے کے بعد مریدکے سے بھی پہلے ختم ہو گیا۔ عمران خان وہاں سے واپس لاہور چلے گئے۔ وہ لگ بھگ دن ایک بجے کے بعد شاہدرہ پہنچے تھے۔

اگلے چند روز بھی عمران خان قریب اسی وقت پر مارچ میں پہنچتے رہے جس کے بعد مارچ کا آغاز کیا جاتا ہے۔ تاہم شرکا چند ہی گھنٹے سفر کرتے ہیں اور پھر اس روز کے لیے مارچ ختم کر دیا جاتا ہے۔ عملی طور پر ایک مقام سے دوسرے تک مارچ کے شرکا کا سفر ایک دن میں محض چند گھنٹے سے زیادہ نظر نہیں آیا۔

ماضی میں عمران خان سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے ہونے والے لانگ مارچز پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ مارچ میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد کے باوجود مارچ کی رفتار اس سے کہیں زیادہ تیز رہی ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اس مرتبہ پی ٹی آئی کی جانب سے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت مارچ کی رفتار سست رکھی جا رہی ہے۔ ’وہ چاہتے ہیں ان کا مارچ اس وقت اسلام آباد پہنچے جب ملک میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا وقت ہو گا۔‘

یاد رہے کہ نومبر ہی کے مہینے میں پاکستان میں فوج کی کمانڈ کی تبدیلی ہونا ہے۔ مہینے کے آخر میں موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع ختم ہو رہی ہے اور فوج کے ترجمان کے مطابق انھوں نے مزید توسیع نہ لے کر ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کے لیے ایک نیا پلان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ان کا مارچ مزید سست روی سے چلتا ہوا آئندہ اتوار کے روز تک جہلم پہنچے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور قیادت میں شامل دیگر رہنماؤں کے مطابق ’مارچ میں شامل لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی پیش قدمی سست ہو رہی ہے۔‘

تاہم کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ان کی رائے میں لوگوں کی تعداد توقعات سے کم ہے۔ صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ میں اتنے لوگ نہیں ہیں جتنے کی عمران خان اور ان کی جماعت توقع کر رہی تھی۔ ’بات تو لاکھوں کی کی جا رہی تھی لیکن یہاں تو معاملہ ہزاروں کا نکلا ہے۔‘

مگر سلیم بخاری یہ بھی سمجھتے ہیں کہ لانگ مارچ کی پیش قدمی سست ہے اور انھیں بھی لگتا ہے کہ ایسا کرنا عمران خان کی حکمت عملی ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے خیال میں بظاہر پی ٹی آئی کی حکمت عملی یہی نظر آتی ہے کہ وہ سست روی سے چلتے ہوئے اس وقت اسلام آباد پہنچیں جب فوج کے اگلے سربراہ کی تعیناتی کا وقت قریب ہو۔ ’اس طرح وہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔‘

تاہم وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی ایک بیان میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اگلے آرمی چیف کی تعیناتی وہ خود کریں گے۔

انھوں نے ایک دعویٰ کیا تھا کہ ’عمران خان نے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے انھیں پیغام بھجوایا تھا کہ تین نام آپ دیں، تین میں دیتا ہوں، مل کر آرمی چیف کی تعیناتی کرتے ہیں۔ لیکن میں نے شکریہ کہہ کر انکار کر دیا۔‘ تاہم اگلے ہی روز لانگ مارچ میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اس بیان کی تردید کی تھی۔

تو ایسے میں کیا لانگ مارچ کو لے کر اسلام آباد پہنچنے پر عمران خان وزیراعظم شہباز شریف سے اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کا آرمی چیف تعینات کیا جائے؟ اور اگر ایسا ہے تو وہ لانگ مارچ کے ذریعے وہ اس ارادے میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟

سہیل وڑائچ کے مطابق ’اگر وہ اپنی مرضی کے آرمی چیف کی تعیناتی نہ بھی چاہتے ہوں تو وہ یہ بھی نہیں چاہیں گے کہ اس معاملے پر ان کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیاجائے۔‘ تاہم وہ لانگ مارچ کے ذریعے یہ مقصد حاصل کر پائیں گے ’اس کا اندازہ اس وقت کیا جا سکے گا جب وہ مارچ کے ساتھ اسلام آباد پہنچیں گے۔‘

ان کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہ پی ٹی آئی دانستاً اپنی پیش قدمی کو سست رکھ رہی ہے، صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی بھی سمجھتے ہیں کہ ’عمران خان اور ان کی جماعت کا نومبر کا مہینہ ہے۔ وہ اسی وقت اسلام آباد پہنچنا چاہتے ہیں کیونکہ اسی مہینے نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہونا ہے۔‘

تاہم سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے سینٹرل سیکریٹری انفارمیشن فرخ حبیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ سست روی کا شکار ہے۔

انھوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ان کی جماعت دانستہ طور پر لانگ مارچ کی پیش قدمی کو سست رکھ رہی ہے تا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت اسلام آباد پہنچا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’لانگ مارچ کا آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے سے تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ تو ہمارا مطالبہ ہی نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ تو پہلے دن سے یہی ہے کہ حکومت نئے عام انتخابات کی تاریخ دے۔‘

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ سے ان کا مقصد جلد ملک میں نئے عام انتخابات کروانا ہے جس کا وہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سینٹرل انفارمیشن سیکرٹری کے مطابق ان کی جماعت کا لاہور سے شروع ہونے والا لانگ مارچ سست روی کا شکار نہیں ہے بلکہ لوگوں کی تعداد انتہائی زیادہ ہونے کی وجہ سے کم فاصلہ طے کر پایا ہے۔

بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی رفتار کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور ’اسٹیبلشمنٹ‘ کے درمیان بیک ڈور بات چیت ہو رہی ہے۔ یعنی اس پر پی ٹی آئی کو امید ہے کہ وہ اس بات چیت کے ذریعے اپنے مطالبات تسلیم کروانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اس پر سلمان غنی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی اگر سیاسی قیادت کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے تو بہت سے لوگ سیاستدانوں میں ایسے ضرور موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشنز میں دو تین ماہ کے فرق سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔

’اگر یہ طے ہے کہ الیکشن اگلے سال ہونے ہیں تو اگر وہ دو تین ماہ قبل ہو جائیں مگر اس سے ملک میں استحکام رکھا جا سکے تو دو تین ماہ سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔‘

تاہم ان کے خیال میں ’الیکشن اب عمران خان کا ہدف نہیں ہیں۔ وہ صرف افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔

’لیکن اگر ایسی صورتحال میں مارشل لا لگتا ہے تو اس کے صرف عمران خان ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ باقی سیاسی قیادت بھی اتنی ہی ذمہ دار ہو گی۔‘

صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی کھل کر یہ بات بتا چکی ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان نے ’چھپ چھپا کر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی ہے۔

’اپنی پریس کانفرنس میں آئی ایس آئی کے سربراہ (ندیم انجم) خود یہ بات بتا چکے ہیں کہ وہ رات کے اندھیرے میں ہم سے بات کرتے ہیں اور دن میں ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں۔‘

سلیم بخاری کے مطابق اس سے یہ بات تو ظاہر ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پہلے کوئی مذاکرات ہو بھی رہے تھے تو اب وہ بات چیت ختم ہو گئی ہے۔

’دوسری طرف وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے حالیہ بیانوں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے ساتھ بھی پی ٹی آئی کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘

خود پی ٹی آئی کے رہنما اپنے حالیہ بیانات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت کے اس وقت کسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

سلیم بخاری کے مطابق ’کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ لانگ مارچ سست ہونے کی اصل وجہ کچھ اور ہے۔‘ ان کے خیال میں لانگ مارچ میں لوگوں کی شرکت انتہائی کم ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ایسا ہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان توقع کر رہے تھے کہ جب وہ لانگ مارچ کی کال دیں گے تو لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ان کے پیچھے چلیں گے۔

’لیکن ہم نے دیکھا کہ ایسا نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اندھیرا ہوتے ہی اس دن کے لیے مارچ کو ختم کر کے واپس لاہور چلے آتے ہیں۔ اس لیے لانگ مارچ کا کوئی ٹیمپو نہیں بن پایا۔‘ سلمان غنی کے خیال میں عمران خان کی امیدیں اب زیادہ تر صوبہ خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں سے جڑی ہوں گی۔

صحافی سلیم بخاری کا بھی استدلال ہے کہ عمران خان لانگ مارچ میں لوگوں کی کم تعداد میں شرکت کی وجہ سے خوش نہیں ہیں بلکہ وہ جماعت کی قیادت سے نالاں ہیں۔

’لاہور جو کہ پونے دو کروڑ کی آبادی کا شہر ہے، وہاں بھی ہم نے دیکھا کہ لوگ نہیں نکلے۔ لبرٹی کے مقام پر بھی بہت زیادہ لوگ نہیں تھے۔ اور پھر جیسے جیسے مارچ آگے چلتا گیا، لوگوں کی تعداد مزید کم ہوتی گئی ہے۔ اور عمران خان اس وجہ سے پارٹی قیادت سے خوش نہیں ہیں۔ لوگوں کو لانے کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہو سکا۔‘

سلیم بخاری کے مطابق لانگ مارچ کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ وہ جی ٹی روڈ پر ان علاقوں میں سے گزرے گا جنھیں روایتی طور پر پاکستان مسلم لیگ ن کا سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ’اور یہ گارنٹی نہیں ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں آگے بھی شریک ہوں گے۔‘

’شروع دن سے ہماری حکمتِ عملی یہی ہے کہ لوگوں کو تھکانا نہیں‘
سابق گورنر پنجاب اور پنجاب کے وزیرِ اعلٰی پرویز الہٰی کے مشیر عمر سرفراز چیمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت پی ٹی آئی کی ’شروع دن سے یہی حکمتِ عملی تھی۔ اور وہ حکمتِ عملی تھی کہ مارچ میں شامل ہونے والے شرکا کو تھکانا نہیں ہے۔‘

عمر سرفراز چیمہ کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے آغاز ہی پر ’پی ٹی آئی کی قیادت نے یہ فیصلہ کیا تھا اور عوام کو اس سے آگاہ بھی کر دیا تھا کہ وہ رات کے وقت سفر نہیں کریں گے۔ اس وجہ سے دن کی روشنی میں سفر کیا جاتا ہے اور رات کے وقت روک دیا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رات کو سفر نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے نہیں کیا گیا تھا کہ کوئی سکیورٹی خدشات نہیں بلکہ اس لیے کیا گیا تھا کہ ’یہ ایک طویل مارچ تھا۔ اس لیے غیر ضروری طور پر شرکا کو تھکایا نہ جائے۔‘

سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کے مطابق پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے حوالے سے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ اس مرتبہ جہاں بھی لانگ مارچ موجود ہو گا وہاں کے مقامی افراد ہی ساتھ چلیں گے یا پڑاؤ کریں گے۔ باقی شہروں کے لوگ واپس چلے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے لاہور سے باہر لاہور کے لوگ وہیں رک گئے۔

’لیکن جب لانگ مارچ پنڈی پہنچے گا تو لاہور کے لوگ بھی اور اسی طرح دوسرے شہروں کے لوگ بھی وہاں پہنچ جائیں گے اور اس میں شریک ہو جائیں گے۔‘

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ جب عمران خان اسلام آباد پہنچتے ہیں تو کیا وہ لاکھوں کا وہ مجمع اکٹھا کر پاتے ہیں جس کا انھوں نے دعوٰی کیا تھا۔ تاہم ان کے خیال میں اس وقت وہ دانستاً لانگ مارچ کو سست روی سے لے کر چل رہے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے خیال میں اس کا ایک فائدہ عمران خان کو یہ بھی ہو رہا ہے کہ انھیں لوگوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کا موقع مل رہا ہے اور دوسرا وہ سیاسی مہم بھی چلا رہے ہیں۔

تاہم سہیل وڑائچ کے خیال میں ’لانگ مارچ کا کلاسیکی تصور ایسا تو نہیں ہے۔ یہ انھوں نے کوئی نئی چیز بنائی ہے۔ اس میں کوئی نئی جدت لائے ہیں کہ دن میں سفر کیا رات کو گھر چلا گیا۔‘

تاہم پی ٹی آئی کے سینٹرل سیکریٹری انفارمیشن فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا آغاز ہی سے یہ فیصلہ تھا کہ وہ رات کو سفر نہیں کریں گے۔ ان کا استدلال ہے کہ مارچ میں شامل لوگوں کی تعداد کم نہیں ہے اور نہ ہی یہ مارچ کی رفتار کم ہونے کی وجہ ہو سکتی ہے۔

’ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں اور سب کے سامنے ہیں۔اس میں ہمیں کچھ چھپانے کی ضرورت تو نہیں ہے۔ ہم رات کو سفر نہیں کر رہے اور اس کے اعتبار سے ہماری رفتار ٹھیک ہے، کم نہیں ہے۔‘

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ درحقیقت لوگ اتنی بڑی تعداد میں مارچ میں شامل ہوئے ہیں کہ مارچ کو جگہ جگہ رکنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ رفتار میں کمی آئی ہے۔

’اسی لیے ہم نے کچھ روٹ تو بالکل چھوڑ دیے ہیں۔ ہمارا ہر شہر میں لوگوں کو متحرک کرنے کا پلان تھا اور ہر شہر میں لوگ متحرک ہیں۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

فلسطین میں روز بروز شدید ہوتی مسلح اسلامی مزاحمت

(تحریر: حسین فاطمی) گذشتہ ہفتے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب واقع قصبے حوارہ …