جمعرات , 1 دسمبر 2022

’صحافیوں کے قتل میں ملوث مجرموں کو سزا نہ ملنے کی شرح خوفناک حد تک بلند

لندن:صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں نہ ملنے کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ صحافیوں کے قتل کے لیے عالمی استثنیٰ کی شرح 86 فیصد کی خوفناک حد تک بلند ہے۔

رپورٹ کے مطابق یونیسکو کی صحافیوں کی حفاظت اور 2020.21 کے عرصےکے دوران ان کے خلاف ہونے والے جرائم سے استثنیٰ کے خطرے سے متعلق رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ گزشتہ 10 برسوں میں استثنیٰ کی شرح میں صرف 9 فیصد کمی آئی ہے، یونیسکو نے اس سسٹ لیکن مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ استثنیٰ کی یہ کم شرح پرتشدد کارروائیوں کو روکنے میں کامیابی کے لیے ناکافی ہے۔

ان 2 برسوں میں 2008 میں اس رپورٹ کے پہلے اجرا کے بعد مجموعی طور پر کسی بھی دوسری رپورٹنگ مدت کے مقابلے میں اموات کی سب سے کم تعداد دیکھی گئی، رپورٹ میں سال 2021 میں 55 ہلاکتوں کے ساتھ 14 برسوں کے دوران سب سے کم سالانہ اموات کی تعداد ظاہر کی گئی ہے۔

2021 میں سب سے زیادہ مہلک حملے ایشیا اور بحرالکاہل میں ہوئے جن میں 23 صحافیوں کو قتل کیا گیا جو کہ دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کا 42 فیصد ہے، اس کے بعد لاطینی امریکا اور کیریبین جزائر میں 14صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا جو کہ عالمی سطح پر ہونے والی ہلاکتوں کا 25 فیصد ہے۔

یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں میکسیکو میں 9 صحافیوں کو قتل کیا گیا، اسی طرح افغانستان میں 7، بھارت میں 5، پاکستان میں 4، کانگو میں 3، فلپائن میں 3 ، آذربائیجان، بنگلہ دیش، ایتھوپیا، میانمار اور صومالیہ میں 2.2 اور برازیل، کولمبیا، ایکواڈور، یونان، گوئٹے مالا، ہیٹی، کینیا، لبنان، نیدرلینڈ، ترکی اور یمن میں ایک ایک صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

یونیسکو کی رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ صحافیوں کے لیے کوئی ملک اور مقام محفوظ نہیں، 2020.2021 میں صحافی ہونے کی وجہ سے مارے گئے 117 صحافیوں میں سے 91 یا 78 فیصد صحافیوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب کہ وہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، انہیں ایسے وقت میں نشانہ بنایا گیا جب کہ کسی خاص اسائنمنٹ پر نہیں بلکہ اپنے گھر، اپنی گاڑی یا روڈ پر موجود تھے اور مارے گئے، ان صحافیوں میں سے کئی کو ان کے بچوں سمیت خاندان کے افراد کے سامنے قتل کیا گیا۔

یونیسکو وہ ادارہ ہے جو شعور و آگاہی اور صلاحیت پیدا کرنے کے ذریعے عالمی سطح پر صحافیوں کی حفاظت کے لیے اقوام متحدہ کے مرتب کردہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے صحافیوں کی حفاظت کو فروغ دیتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ شرح بھی ناقابل قبول حد تک زیادہ ہے لیکن صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر سزا نہ دیے جانے کے عمل میں مسلسل کمی آئی ہے، 2022 میں یونیسکو کی جانب سے عالمی استثنیٰ کی شرح 86 فیصد کا تخمینہ لگایا گیا جو کہ 2018 میں 89 فیصد تھی، ان ہی اعداد و شمار کے پیش نظر یونیسکو عالمی سطح پر 2018 میں 11 فیصد سے 2022 میں 14 فیصد تک جرائم کے حل شدہ کیسز میں اضافے کا رجحان دیکھ رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آسٹریلوی وزیراعظم کا امریکا سے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کیخلاف کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ

کینبرا:آزادی اظہار کے لیے سرگرم کارکن اور وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج خفیہ دستاویزات …