پیر , 5 دسمبر 2022

امریکہ اپنے سیاسی ایجنڈے کے لئے انسانی حقوق، اقوام متحدہ اور اس کے وسائل میں ہیرا پھیری کر رہا ہے:ایران

نیویارک:اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے غیر رسمی اجلاس (آریا فارمولا) کے موقع پر ایک پریس کانفرنس کے دوران اس ایران مخالف اجلاس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔

ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران ایران کے حالات اور وہاں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اسلامی جمہوریہ کے موقف کی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اپنے اندرونی مسائل کے حل کی تلاش میں ہے جبکہ آزادی اظہار اور پرامن اجتماع کا حق ایرانی آئین میں تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ایران مخالف غیر رسمی اجلاس کے انعقاد میں نفسیاتی حربوں، فریب اور کھلی منافقت کی مہم کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس اجلاس کا مقصد ایران کے انسانی حقوق کی حمایت کرنا ہے تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ ایرانی عوام ہی ہیں جو کئی دہائیوں سے امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں سے سب سے زیادہ اور وسیع ترین نقصانات سہہ رہے ہیں، وہ بھی ایک حقیقی جنگ میں جس کا جنگی ساز و سامان خوراک اور ادویات ہیں۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکہ اسٹینڈرڈ کے طور پر ایک گراں قدر مفہوم یعنی انسانی حقوق کا غلط استعمال کر رہا ہے اور اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم اور اس کے وسائل میں ہیرا پھیری کر رہا ہے۔ ایروانی نے مزید کہا کہ درحقیقت تاریخ خود اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ کبھی بھی ایران اور دیگر جگہوں میں انسانی حقوق کے لئے فکرمند نہیں رہا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کے اجلاس کا موضوع ایک خودمختار ریاست کے اندرونی معاملات میں واضح طور پر مداخلت ہے اور جب سے عالمی قانونی سسٹم کی بنیاد رکھی گئی ہے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کہا کہ ایران نے انسانی حقوق کو سیاسی بنانے کے عمل کو مسترد کیا ہے اور اقوام متحدہ کے نظام میں مخصوص حکومتوں کی طرف سے کوتاہ فکری والے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے جوڑ توڑ کو قابل قبول نہیں سمجھتا۔ یہ ایک خطرناک عمل ہے جس کے خلاف ہمیشہ خبردار کیا جاتا رہا ہے۔

ایروانی نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ انسانی حقوق کے لیے پرعزم رہا ہے اور یہ عزم انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی اظہار اور پرامن اجتماع کا حق ایرانی آئین میں تسلیم کیا گیا ہے اور ایرانی عوام کو ان حقوق سے لطف اندوز ہونے کے لیے حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ ایروانی نے ایرانی شہریوں کے موقف کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے اندر اور باہر تمام ایرانی جو علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور قومی خودمختاری کے بارے میں فکر مند ہیں تشدد، تباہی، افراتفری اور عدم استحکام کے خلاف ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

صیہونی صدر کے دورۂ بحرین کے موقع پر تل ابیب ایئرپورٹ کی چیک پوسٹ پر حملہ

یروشلم:صیہونی حکومت کے صدر کے پہلے دورۂ بحرین کے موقع پر، تل ابیب کے بین …