جمعہ , 9 دسمبر 2022

سلامتی کونسل میں ایران مخالف اجلاس کی چین اور روس کی مخالفت

نیویارک:چین اور روس نے سلامتی کونسل میں ایران مخالف غیر رسمی اجلاس (آریا فارمولا)کی مخالفت کی۔تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ میں چینی مندوب نے کہا کہ آریا فارمولا اجلاس کا مقصد سلامتی کونسل کے ارکان کو امن و سلامتی سے متعلق مسائل کے بارے میں غیر سرکاری طور پر رپورٹ کرنا ہے جبکہ ایران کے حالیہ مسائل اس کے اندرونی مسائل کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور انہیں آریا فارمولا اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس ضمن میں روس کے نمائندے نے ستمبر مہینے میں ایران کی 22 سالہ لڑکی مہسا امینی کی موت پر افسوس کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی مغربی ملکوں کے رویے اور دوہرے طرز عمل کی نشاندہی کے لیے "ایشلی بابیت” کی موت کی طرف اشارہ کیا۔

خیال رہے کہ بابیت وہ نوجوان لڑکی ہے جسے 6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس کی عمارت پر حملے کے دوران پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

روسی مندوب نے کہا کہ ہمیں ایرانی نوجوان لڑکی مہسا امینی کی موت پر افسوس ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ایرانی حکام اس کی تحقیقات کریں گے۔ لیکن ان اجلاسوں کا مقصد کیا ہے؟ ایران کے احتجاج پر تشویش کا اظہار؟ برسلز، پیرس اور برلن میں ہونے والے مظاہروں کا کیا ہوگا؟ جورج فلویڈ کی موت اور کانگریسی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایشلی بابیت کے قتل کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے سلامتی کونسل میں ہونے والے اس ایران مخالف اجلاس میں کہا کہ اس اجلاس کے پس پردہ کوئی اور مسئلہ ہے، سلامتی کونسل کی انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش اور فکرمندی کا کوئی مفروضہ نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

جرمنی میں حکومت کا تختہ الٹنے کا منصبوبہ ناکام، فوجیوں سمیت 25 گرفتار

برلن: جرمنی میں حکومت کے خلاف سازش کرکے اقتدار کا تختہ الٹنے کا منصوبہ ناکام …