منگل , 6 دسمبر 2022

عمران خان تحمل مزاجی سے کام لے رہے ہیں!!!!

(محمد اکرم چوہدری)

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر ہونے والا حملہ جہاں افسوسناک ہے وہیں اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے بھی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکنان سراپا احتجاج ہیں چونکہ ان کے لیڈر پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے اور حملہ کرنے والے نے اعترافی بیان میں بھی عمران خان کو اپنا ہدف قرار دیا ہے اس لیے پی ٹی آئی کارکنان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے احتجاج کرتے ہوئے لازم ہے سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور سرکاری عمارتوں کا خیال رکھا جائے۔ موجودہ حالات میں جب ایک مقبول سیاسی لیڈر پر قاتلانہ حملہ ہو جائے تو اس کے بعد حکومت اور ریاستی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مظاہرین ملک کے شہری ہیں اور شہریوں کی زندگی کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ گوکہ حالات بہت خراب ہیں اور عمران خان زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی طرف تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ بالخصوص حملے بعد انہوں نے نہ تو تشدد کی سیاست کا پرچار کیا ہے نہ ہی جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے بلکہ عمران خان کی طرف سے کارکنوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کا غصہ بجا ہے کیونکہ ان کے قائد پر حملہ ہوا ہے اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وہ سینئر سیکیورٹی اہلکار پر ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں اس حوالے سے انہیں بردباری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پی ٹی آئی پر مشکل وقت ہے، عمران خان تکلیف میں اور شفاف تحقیقات کے لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا راستہ نکالے جس سے شفاف تحقیقات کی راہ ہموار ہو اور لوگوں کا اعتماد بحال ہو۔ دفاعی اداروں کو بھی اپنی خدمات ضرور پیش کرنی چاہئیں تاکہ تحقیقات میں کسی قسم کا جھول یا کمی نہ رہ جائے۔

اس سارے واقعے میں پنجاب حکومت مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وزیر اعلیٰ ان کا اپنا ہے پھر معاملات بگڑے کیوں ہیں، تھریٹ تھا تو اس پر مناسب انداز میں کارروائی کیوں نہیں کی گئی، کیوں سکیورٹی کا مناسب انتظام نہیں کیاگیا، کیوں کنٹینر کے لیے ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ جب اعلیٰ قیادت کنٹینر پرہے طویل سفر ہے تو پھر سکیورٹی کے انتظامات اور مناسب حکمت تیار کرنے کی بھی ضرورت تھی۔ ایسے بڑے احتجاج کے لیے خاص انتظامات، بھرپور مانیٹرنگ اور ہر لمحہ باخبر رہنے اور اداروں کو ہر وقت متحرک رکھنے کی ضرورت تھی۔ اگر آج احتجاج ہو رہا ہے اور ملک مشکل صورتحال سے گذر رہا ہے تو اس میں پنجاب حکومت بھی ذمہ دار ہے۔

جہاں تک تعلق مظاہرین کا ہے انہیں پنجاب میں گورنر ہاو¿س کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ ہاو¿س کے سامنے بھی احتجاج کرنا چاہیے گورنر تو وفاق کا نمائندہ ہے انتظامی طور پر تو وزیر اعلیٰ صوبے کا سربراہ ہے مطالبہ تو اس سے ہونا چاہیے۔ پشاور میں احتجاج کے نام پر جو کچھ ہوا ہے اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کا حق ہے۔ فوج کے خلاف نفرت پھیلانا یا فوج کے خلاف نعرے لگانا قومی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو ایسے واقعات کی مذمت کرنی چاہیے اور اپنے کارکنوں کو ایسے کاموں سے دور رہنے کا سبق دینا چاہیے۔ سیاسی جھگڑوں میں فوج ملوث نہیں کرنا چاہیے دشمن ایسے واقعات کا انتظار کرتا ہے اور پھر وہ ایسے مظاہروں اور احتجاج کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ احتجاج، مظاہروں اور سیاسی جھگڑوں سے فوج کو دور رکھا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ پر اعتراض ہے، پی ٹی آئی موجودہ کیس میں متاثرہ ہے اور وہاں سے جذبات میں بھی ایسے بیانات جاری ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مناسب الفاظ کا استعمال کریں۔ وہ جس انداز میں گفتگو کر رہے ہیں اس سے بہتر بات چیت کر سکتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آج سیاسی رہنماو¿ں یا کارکنوں میں شدت آئی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس شدت پسند سیاسی رجحان کی ذمہ داری بھی پاکستان تحریکِ انصاف پر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ ان کے رہنما عوامی مقامات اور میڈیا میں بات چیت کرتے ہوئے بے رحمی سے سیاسی مخالفین کو پکارتے ہیں اور انہیں نامناسب ناموں سے پکارتے ہیں اب وہ حکومت میں نہیں ہیں تو انہیں احساس ہو رہا ہے کہ شاید ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے لیکن پی ٹی آئی کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے جو سلوک اپنے دور حکومت میں رانا ثناءاللہ کے ساتھ کیا تھا جواب میں موجودہ وفاقی وزیر داخلہ نے تو ایسا کچھ نہیں کیا۔ وفاقی وزیرِ داخلہ کی طرف سے بیانات ضرور آتے ہیں لیکن انہوں نے نہ تو کسی کو گرفتار کیا ہے نہ کسی پر ہیروئن کا مقدمہ قائم کیا ہے۔ یہ رانا ثناءاللہ کا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے اب تک کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا۔ ڈرانے دھمکانے اور عمل کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے اس لیے پی ٹی آئی والے کچھ کہنے سے پہلے اپنے فیصلوں پر نظر ضرور دوڑایا کریں۔ گوکہ اس معاملے میں پی ٹی آئی کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے لیکن پھر بھی حکومت میں ہونے کی وجہ سے رانا ثناءاللہ کو چاہیے کہ وہ نرم رویہ اختیار کریں۔ بات چیت کے راستے نکالیں، سیاسی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے بجائے انہیں ساتھ ملانے کی کوشش کریں۔ اگر گرفتار نہیں کرنا تو پھر گرفتاری کا پیغام بھجوا کر ماحول کو کشیدہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔حکومت، پاکستان تحریکِ انصاف، ریاستی اداروں کو موجودہ حالات میں اپنی ذمہ داری نبھانے کی ضرورت ہے۔بشکریہ نوائے وقت

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

گجرات کے چوہدری کس طرف ہیں؟

بہترین وقت میں بھی یہ بتانا مشکل ہے کہ ق لیگ کیا کر رہی ہے۔ …