جمعرات , 1 دسمبر 2022

عمران خان کی سکیورٹی کیسی تھی اور اس میں کوتاہی کہاں ہوئی؟

(شہزاد ملک)

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے حملے کے بعد لانگ مارچ کے دوران جہاں ان کی سکیورٹی کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں، وہیں یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ انھیں بطور سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے سربراہ کس قسم کی سکیورٹی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔

جمعرات کی شام جب لانگ مارچ کا قافلہ اللہ والا چوک کے علاقے سے گزر رہا تھا تو مرکزی کنٹینر پر گولیاں چلائی گئیں۔ اس واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تحریکِ انصاف کے سربراہ سمیت پانچ افراد گولی لگنے سے اور نو دیگر وجوہات کی بنا پر زخمی ہوئے۔

عمران خان کی ٹانگ پر گولی لگی اور ان کا علاج لاہور میں جاری ہے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تسلی بخش ہے۔

عمران خان کی سکیورٹی کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے لیے جس کنٹینر پر چیئرمین پی ٹی آئی سوار ہوتے ہیں اس پر سکیورٹی کے دو حصار ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک حصار میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہوتے ہیں جبکہ سکیورٹی کا دوسرا حصار عمران خان کے ذاتی سکیورٹی گارڈ کا ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی قیادت کے پاس جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ’صرف اسی شخص کو کنٹینر پر چڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے جسے پارٹی قیادت اجازت دیتی ہے۔‘

تاہم لانگ مارچ کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکار کنٹینر کے اردگرد کی سکیورٹی کے حوالے سے تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے دعوؤں سے متفق نظر نہیں آتے۔

پنجاب پولیس کے اہلکار شبیر احمد کے مطابق ’ہر بندہ عمران خان کو قریب سے دیکھنا چاہتا ہے اس لیے لوگوں کو کنٹینر کے پاس جانے سے روکنا ممکن نہیں ہے۔‘

اہلکار نے بتایا کہ شاہدرہ کے قریب پی ٹی آئی کے کارکنوں کو کنٹینر کے پاس جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی تو کنٹینر پر موجود پارٹی قیادت کی طرف سے پولیس اہلکاروں کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا۔

’اگر کسی کارکن کو پولیس اہلکار کنٹینر کے قریب آنے سے روکتے تھے تو وہاں پر موجود پی ٹی آئی کی مقامی قیادت پولیس اہلکار کو جھاڑ پلا دیتی تھی۔‘

حملے کے بارے میں اعجاز چوہدری نے کہا کہ یقیناً سکیورٹی میں کچھ خامیاں رہ گئی ہوں گی جب ہی ایسا واقعہ رونما ہوا ہے تاہم انھوں نے اس واقعے کو عمران خان کے خلاف کی جانے والی ’سازش‘ کا ایک حصہ قرار دیا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے سے دو روز قبل وزیرآباد میں ہی ایک اجلاس میں عمران خان پر حملہ کرنے کی باتیں کی گئی تھیں اور انھوں نے اس بارے میں وزیر آباد میں لانگ مارچ کی میزبانی کرنے والے رکنِ اسمبلی احمد چٹھہ کو مطلع کیا تھا جنھوں نے متعلقہ پولیس افسر کو بھی آگاہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ احمد چٹھہ خود بھی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں۔

ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران عمران خان اور تحریکِ انصاف کو بارہا کہا گیا چیئرمین پی ٹی آئی کے تحفظ کے لیے مجوزہ حفاظتی انتظامات پر عمل کیا جائے مگر ان سفارشات کو نظرانداز کیا گیا۔

سٹی پولیس افسر گوجرانوالہ کی طرف سے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ایک خط بھی لکھا گیا تھا اور یہ تجویز دی گئی تھی کہ وہ بلٹ پروف سکرین کا استعمال کریں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

گجرات کے ریجنل پولیس آفیسر ڈاکٹر اختر عباس نے بھی حملے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران پولیس کی جانب سے متعدد مرتبہ بلٹ پروف گلاس اور روسٹرم استعمال کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں لیکن ان پر عمل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق سکیورٹی ہدایات پر عمل کیا جاتا تو عمران خان کے زخمی ہونے کا واقعہ رونما نہ ہوتا۔

اس بارے میں مقامی میڈیا پر ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے نائب صدر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کو سکیورٹی خدشات تھے مگر وہ کسی بلٹ پروف گلاس کے پیچھے کھڑے ہونے سے انکاری تھے۔

لانگ مارچ میں عمران خان کی سکیورٹی کیسی تھی؟
پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی حکومت نے عمران خان اور لانگ مارچ کے شرکا کی سکیورٹی کے لیے دو ہزار کے قریب اہلکاروں کو تعینات کیا ہے جن میں زیادہ تر اہلکار وردی میں جبکہ کچھ اہلکار سادہ کپٹروں میں گذشتہ ماہ کی 28 تاریخ سے اس مارچ کے شرکا کے ساتھ ہیں۔

اس کے علاوہ جن جن علاقوں سے یہ لانگ مارچ گزر رہا ہے ان شہروں کی پولیس کے اہلکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی ادا کرر ہے ہیں۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ جن علاقوں سے یہ لانگ مارچ گزر رہا ہے وہاں کی ریزو پولیس کے علاوہ تھانوں کی نفری بھی اس لانگ مارچ کی سکیورٹی کے لیے تعینات کی جارہی ہے اور تھانوں میں محرر اور ڈیوٹی افسر کے علاوہ چار سے پانچ اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

سکیورٹی ڈیوٹی کرنے والے پنجاب پولیس کے اہلکار شبیر احمد کے مطابق جس کنٹینر پر عمران خان سوار ہیں اس کنٹینر کے اردگرد پولیس اہلکاروں کا حصار ہوتا ہے جن میں سے کچھ یونیفارم میں اور کچھ سادہ کپٹروں میں ملبوس ہوتے ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق کنٹینر پر سادہ کپٹروں میں ملبوس کچھ پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں جبکہ باقی لوگ عمران خان کے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح سکیورٹی کے دو حصار تھے ایک میں پنجاب پولیس کے اہلکار تعینات تھے جبکہ دوسرا حصار عمران خان کے ذاتی سکیورٹی پر مامور افراد کا تھا۔

یہی نہیں بلکہ عمران خان کو بطور سابق وزیر اعظم بھی سکیورٹی حاصل ہے۔

سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار کے مطابق اس وقت اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی سکیورٹی پر 260 اہلکار تعینات ہیں جن میں اسلام آباد پولیس کے 60، خیبر پختونخوا پولیس کے 60، گلگت بلتستان پولیس کے 15، فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 100 اور رینجرز کے 15 اہلکار شامل ہیں جبکہ 22 کے قریب عمران خان کے ذاتی باڈی گارڈ ہیں۔

اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم جب خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر علاقوں میں جاتے تھے اس وقت اسلام آباد پولیس کے کچھ اہلکار ان کے ساتھ ہوتے تھے لیکن جب سے عمران خان نے لانگ مارچ کے لیے لاہور گئے ہیں تو ان کے ساتھ اسلام آباد پولیس کا کوئی بھی اہلکار موجود نہیں ہے۔

اہلکار کے مطابق عمران خان کے برعکس تین سابق وزارئے اعظم کو سکیورٹی کے لیے پولیس کے صرف پانچ اہلکار اور سکواڈ کی ایک گاڑی بھی دی گئی ہے۔ ان تین سابق وزرائے اعظم میں یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی شامل ہیں۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

آسٹریلوی وزیراعظم کا امریکا سے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کیخلاف کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ

کینبرا:آزادی اظہار کے لیے سرگرم کارکن اور وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج خفیہ دستاویزات …