پیر , 28 نومبر 2022

ایرانی محکمہ خارجہ کی امریکہ اور انگلینڈ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سالانہ رپورٹ شائع

تہران: ایرانی محکمہ خارجہ کیجانب سے امریکہ اور برطانیہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سالانہ رپورٹ، ایرانی پارلیمنٹ کے 2013 کی منظور کی گئی قرارداد کے مطابق شائع کی گئی۔ امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں، بیشتر متنازعہ ملکی اور بین الاقوامی تنازعات میں اپنے رنگین کردار کے باوجود، ہمیشہ انسانی حقوق کی بنیادوں اور اصولوں کے دفاع کا دعوی کرتی رہی ہیں۔

اس بنیاد پر، ان حکومتوں نے اپنے آپ کو دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال اور حالات کے حوالے سے ہمیشہ مداخلت پسندانہ موقف اور تحریکیں رکھنے کی اجازت دی ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک کے انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے ان دونوں ممالک کے انسانی حقوق کے موقف کا تفصیلی جائزہ لینے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ان کے سیاستدانوں نے یہ موقف اپنی قلیل مدتی یا طویل المدتی سیاسی ترجیحات اور مفادات کی بنیاد پر اختیار کیا ہے۔ اور اس طریقہ کار نے انہیں بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے معاملے میں آلہ کار استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

یہ زیادہ افسوس شکی بات ہے کہ آج کی دنیا میں بڑے سیاسی اور بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے ان دو اتحادی حکومتوں کے سیاسی عمل کی بنیاد یہی مفاد پرستانہ ترجیحات ہیں۔ اور انسانی حقوق کے تصورات کا حوالہ دے کر وہ اپنی بڑی انسانی حقوق مخالف پالیسیوں کا جواز پیش کرتے ہیں، جن میں اقتصادی پابندیاں عائد کرنا اور دوسرے ممالک بالخصوص آزاد ممالک پر جانبدارانہ اور غیر منصفانہ طریقے سے سیاسی دباؤ ڈالنا شامل ہے۔

دریں اثناء شائع شدہ دستاویزات اور شواہد اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کی حکومت اپنے ممالک کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں بھی بار بار انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔

یہ معمول کی بات ہے کہ آزاد ماحول میں ایسی صورت حال واشنگٹن اور لندن کی دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کی اہلیت کی کمی کی تصدیق کرتی ہے اور اس ملک کو انسانی حقوق کے دعوے کرنے کے کسی بھی حق سے محروم کر دیتی ہے۔

اسلامی کونسل کی مئی 1391 کی تیسری قرارداد "آج دنیا میں امریکہ اور انگلینڈ کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا انکشاف” قانون کے تیسرے نوٹ کے بعد، وزارت خارجہ کو امریکہ اور انگلینڈ میں انسانی جقوق کی خلاف ورزیوں کی سالانہ رپورٹ تیار کرنے اور اسے 4 نومبر کو شائع کرنے کا پابند کرتی ہے۔

اسی بنا پر وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سے وابستہ انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں اور اداروں کی تازہ ترین سرکاری رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے دو رپورٹوں میں امریکہ اور انگلینڈ میں خاص طور پر خواتین، تارکین وطن اور ادارہ جاتی نسل پرستی جیسے شعبوں میں انسانی حقوق کیخلاف وزیوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔

ظاہر ہے کہ ان رپورٹوں میں جن کیسز کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ان ممالک کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تمام معاملات اور کیسز شامل نہیں ہیں اور دستیاب اعداد و شمار اور رپورٹس کی بنیاد پر صرف انتہائی قابل اعتماد کیسز کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بی جے پی کے رکن اسمبلی کی غنڈہ گردی؛ بس اسٹینڈ پر بنے گنبدوں کو ہٹادیا

میسور: کرناٹک میں مودی سرکار کے رکن اسمبلی نے ایک بس اسٹاپ پر بنے اسٹینڈ …