جمعرات , 1 دسمبر 2022

طاقتور اشرافیہ کا پاکستان

(سلمان عابد)

پاکستان کا بنیادی مسئلہ عام آدمی کی طاقت سے جڑا ہوا ہے ۔ یہ طاقت اسے آئین پاکستان میں حاصل ہے جو اس کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ۔ عام آدمی کو سب سے بڑی توقع ہی اس ریاستی نظام میں موجود ان بنیادی حقوق سے ہوتی ہے جو اسے معاشرے کی سطح پر باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

عام یا کمزور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کے حالات معاشی آسودگی کا شکار ہیں مگر ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے تو اس کے دکھوں کا مداوا ہوجاتا ہے کیونکہ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ ان مشکلات میں سیاسی طور پر تنہا نہیں بلکہ ریاست کا مجموعی نظام اس کے ساتھ کھڑا ہے ۔

یہ سیاسی ، جمہوری ، قانونی اور آئینی نظام ہی معاشرے میں اپنی سیاسی ساکھ کو قائم کرتا ہے اور عام لوگوں کے نظام پر اعتماد کو بحال کرنے کا سبب بھی بنتا ہے ۔ معاشرے میں جو سیاسی ،معاشی ، سماجی اور ملک میں انصاف کے نام پر جو تفریق یا دوہرا معیار یا طبقاتی فرق ہے اسے ختم کرکے ہی ہم حکومت اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو کم کرسکتے ہیں ۔

عملی سیاست میں پاکستان کا مقدمہ بہت کمزور ہے ۔ اس ملک میں تمام لوگوں کا حق اتنا ہی بنتا ہے جتنا کہ مخصوص طبقے کا جو اس کا دعوے دار ہیں ۔لیکن پاکستان میں طاقت ور اشرافیہ چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو اس کے اور عام آدمی کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے ۔

عام آدمی یہ سمجھ رہا ہے کہ اس کی حیثیت کو معاشی بنیادوں پر دیکھا جارہا ہے اور اگر اس کی معاشی حالت درست نہیں تو وہ اس طاقت ور اشرافیہ کے لیے کچھ بھی نہیں ۔یہ سوچ عام ہوتی جارہی ہے کہ ملک کے طاقت ور طبقات خوشنما نعروں ، جذباتی باتوں ، تقریروں یا خوبصورت لفاظی کی مدد سے ان کا ہر سطح پر استحصال کررہے ہیں۔جمہوریت اور سیاست اسی صورت میں اپنی ساکھ قائم کرتی ہے جب وہ لوگوں کی مشکلات کے درمیان نہ صرف کھڑی ہو بلکہ ان کے مسائل کے مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت بھی ہو۔

اس ملک کی اشرافیہ کی زندگی کا شاہانہ انداز عوام کی قیمت یعنی سرکاری وسائل کی لوٹ مار، اقرباپروری ، مراعات یا سہولتوں سے جڑا ہوا ہے ۔ایک ایسا ملک جو معاشی طور پر بہت کمزور ہے وہاں حکومتی یا ادارہ جاتی وسائل پر اس طاقت ور طبقہ کی سیاسی ڈکیتی کا جواب کون دے گا ۔

ہمارا مکمل انتظامی ڈھانچہ عیاشی کے میناروں پر کھڑا ہے۔اس بات پر غور کیا جانا چاہیے کہ وہ ممالک جو معاشی طور پر طاقت ور ہیں کیا ان کی حکمرانی کا نظام اسی شاہانہ انداز پر قائم ہے جیسے ہم نے اختیار کیا ہوا ہے تو جواب نفی میں ہوگا ۔

روزانہ کی بنیادوں پر ہمیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت ریاست کے مختلف اداروں کی جانب سے خود کو دی جانے والی مراعات کا تماشہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں مقصد ملک پر حکمرانی کرنے یا اسے شفاف بنانے کا نہیں بلکہ اپنی ذاتیات پر مبنی خواہشوں کی تشکیل کا نام ہے ۔

یہ بحران کسی ایک حکومت ، کسی ایک جماعت یا قیادت کا نہیں ہے ۔ اس حمام میں سیاسی یا غیر سیاسی حکومتیں یا ریاستی ادارے سب ہی شامل ہیں ۔جو بھی جماعت ملک میں فلاحی سیاست کے نام پر سیاست کرتی ہے یا مذہب کو سیاست میں بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔

مہنگی مہنگی سرکاری رہائش گاہیں ، ان کی آرائش وتزین ، بڑی بڑی گاڑیاں ،ملازموں کی بڑی تعداداور سیکیورٹی کے نام پر ہونے والے بڑے اخراجات کی تفصیلات یا ان کے علاج و معالجہ یا سفری اخراجات کی تفصیلات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہم حکمرانی کے نظام میں کہاں کھڑے ہیں ۔جو بھی حکومتیں آتی ہیں وہ نظام کی تبدیلی یا نظام میں موجود خرابیوں کو ختم کرکے مضبوط اصلاحات لانے کے بجائے خود ان مراعات پر سمجھوتہ کرلیتی ہیں اور عام آدمی کی زندگی کو اور زیادہ مشکل میں ڈال دیتی ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عام آدمی کو مضبوط بنانے کے بجائے پہلے سے موجود طاقت ور طبقہ کو مضبوط کیا ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ اس ملک میں طاقت ور طبقہ کا اپنا ایک سیاسی کلب ہے ۔ اس کلب میں تمام شعبہ جات کے طاقت ور افراد کا ایسا گٹھ جوڑ ہے جو ایک دوسرے کے سیاسی اور معاشی مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ یہ کلب عام آدمی کو محض جذباتیت کی سیاست میں الجھا کر اپنی مفاد پر مبنی سیاست اور معیشت کو ترجیح دیتا ہے ۔ وسائل کی تقسیم ہو یا بجٹ کی سیاست اس میں آپ کو مراعات یافتہ طبقہ کی سیاسی اجارہ داری کی شکلیں ہی دیکھنے کو ملیں گی۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خان صاحب کو داد دیں

(تحریر : رؤف کلاسرا) وقت بھی کیا کیا ستم کرتا ہے۔ ایک سال پہلے تک …