منگل , 29 نومبر 2022

خونی انقلاب سے پہلے

(ڈاکٹر توصیف احمد خان) 

چھ ماہ سے انقلاب دیکھ رہا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ انقلاب بیلٹ سے آئے گا یا خون ریزی سے۔ عمران خان کے ان بیانات کے بعد فیصل واوڈا کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔وزیر آباد میں چند لوگوں نے خودکار ہتھیاروں سے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے عمران خان اور دیگر 13افراد کو زخمی کردیا اور ایک بے گناہ جاں بحق ہوا۔

اس سیاسی تشدد کے دوران ایک المیہ یہ بھی ہوا کہ جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش پر اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بین کرتے رہے اور تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی لاہور منتقلی کے کام میں مصروف رہے۔ ملزم کا ایک گھنٹہ بعد اقبالی بیان نشر ہوا۔ پنجاب گورنمنٹ نے پورے تھانہ کو معطل کردیا۔

اسد عمر نے تحقیقاتی رپورٹ آنے سے قبل ہی وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ اور دیگر پر سارا ملبہ ڈال دیا۔ گجرات پولیس کے چیف کا کہنا ہے کہ عمران خان نے سیکیورٹی پروٹوکول کی پابندی نہیں کی، انھیں بلٹ پروف روسٹرم استعمال کرنا چاہیے تھا اور ان کے اردگرد پولیس اہلکاروں کو ہونا چاہیے تھا۔ اس سانحہ کی ذمے داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

موجودہ پنجاب حکومت کا اچھی حکمرانی کا دعویٰ غلط ثابت ہوا ۔ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کی اہمیت کو وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ بھی محسوس نہیں کررہے۔ ان کے بعض بیانات جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایم آر ڈی کی تحریک کو کچلنے کے لیے اس وقت کے وزیر داخلہ کے بیانات سے مماثلت رکھتے ہیں۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ نیب میرے کنٹرول میں نہیں تھا ورنہ یہ لوگ رہا نہ ہوتے۔

عمران خان کے پرانے دوست پرویز خٹک نے عمران خان کے پچھلے بیانیہ سے انحراف کرتے ہوئے کہاہے کہ جو بھی فوج کا سربراہ آئے ہمیں اعتراض نہیں ہے۔ انھوں نے پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کوئی بے وقوف ہوگا جو ایک جرنیل کو کہے گا کہ وہ میرا امیدوار ہے۔

خیبرپختون خوا کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ان کے صوبہ سے لوگ اسلحہ لے کر اسلام آباد آئیں گے پھر موصوف نے اپنے اس جملہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لائسنس یافتہ اسلحہ ہوگا۔ ٹی وی چینلز میں ایسی فوٹیج نشر ہوئی ہیں کہ تحریک انصاف کے ایک رہنما ہزاروں کی تعداد میں غلیل خرید رہے تھے۔

عمران خان کہہ رہے ہیں کہ یہ لانگ مارچ دس ماہ تک جاری رہ سکتا ہے، یوں وہ اس مارچ کی ناکامی کا بھی اعلان کررہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے ایک نیا مؤقف اختیار کیا ہے۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت سے بات چیت ہوسکتی ہے۔

عمران خان کی قیادت میں 28 اکتوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے لانگ مارچ کا آغاز ہوا۔ موصوف رات ہونے پر آنکھوں پر سیاہ چشمہ نہیں اتارتے ہیں۔

پھر رات کو اپنے لاہور کے خاندانی گھر زمان پارک میں آرام کرتے ہیں اور صبح 10 بجے کے بعد کاروں کے ہجوم میں روانہ ہوتے ہیں اور ایک حکمت عملی کے تحت ان کا قافلہ جس میں کئی ہزار افراد شامل ہیں آہستہ آہستہ چل رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی رائے عامہ کو یہ ثابت کرسکیں کہ لانگ مارچ میں لاکھوں افراد شریک ہیں اور یہ دنیا کا سب سے بڑا لانگ مارچ ہے مگر کسی صحافی کا خیال ہے کہ یہ دنیا کا سب سے زیادہ سست رفتاری سے چلنے والا ایونٹ ہے۔

عمران خان کا یہ مارچ ہر ضلع میں پانچ دن گزار رہا ہے اور اس مارچ کی گاڑیوں کی زد میں آکر اب تک دو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں ایک خاتون رپورٹر بھی شامل ہیں۔ اب یہ مارچ جب اسلام آباد پہنچے گا تو اس وقت تک مرنے والوں کی تعداد کیا ہوگی یہ نظر آرہا ہے۔

عمران خان دراصل پنجاب میں اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ جب 28 اکتوبر کو یہ مارچ لبرٹی چوک سے شروع ہوا تو لاہور کی بیشتر سڑکیں بند تھیں اور سڑکوں پر ٹریفک جام تھا۔ کوئی پولیس والا ٹریفک کو گائیڈ کرنے کے لیے موجود نہیں تھا۔

انسانی حقوق کمیشن HRCPکے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والے انسانی حقوق کے ایک کارکن قاضی خضر نے کہا کہ لاہور کی سڑکوں پر اس بدنظمی سے کراچی کی سڑکوں کی بدنظمی کے مناظر تازہ ہوئے۔ عمران خان کے لانگ مارچ سے پہلے ان کے حامی سینئر صحافی اور اینکر پرسن کا کینیا میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہوا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور ان کے سوشل ایکٹیوسٹ نے فوراً یہ مفروضہ اپنا لیا کہ اس قتل کی ذمے دار پاکستان کی خفیہ ایجنسی ہے۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں واضح طور پر اس بیانیہ کی توثیق کی اور کسی مصدقہ تحقیقاتی رپورٹ کے آنے کا انتظار نہیں کیا۔ پھر یہ بھی کہا کہ انھوں نے اس صحافی کو ملک سے جانے کا مشورہ دیا تھا مگر حیرت اس بات پر ہے کہ انھوں نے اس صحافی کو برطانیہ نہیں بھیجا تھا جہاں گزشتہ 200 سال سے یقینی طور پر سیاسی منحرفین کو پناہ ملتی ہے اور برطانوی ریاست ان سیاسی منحرفین کے تحفظ کو یقینی بنانے میں شہرت رکھتی ہے۔

عمران خان کے قریبی ساتھی معروف وکیل حامد خان نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہا کہ انتخاب کی تاریخ پر تو بات چیت ہوسکتی ہے۔ پھر موجودہ اسمبلیوں کو چار سال سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے۔ اگلے سال مارچ کے مہینہ سے انتخابی عمل شروع ہوجائے گا۔ پھر صرف پانچ ماہ کے لیے خونی انقلاب کی دھمکیاں اور کروڑوں روپے سے منظم ہونے والے لانگ مارچ کی ضرورت کیا ہے۔ اس سوال کا جواب تحریک انصاف کی تاریخ میں مضمر ہے۔

عمران خان کے ایک معاون جن کے بارے میں پیپلز پارٹی کے باخبر حلقے کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔عمران خان نے شور مچانا شروع کیا کہ نواز شریف اور زرداری کے نامزد کردہ چیف آف اسٹاف کو قبول نہیں کریں گے۔

گزشتہ 10 برسوں میں میاں نواز شریف نے سب سے زیادہ چیف آف اسٹاف مقرر کیے ہیں۔ پھر صدر عارف علوی کے ذریعے یہ تجویز پیش کی گئی کہ وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کو اس بارے میں مشاورت کرنی چاہیے۔ قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت نے اپنی خواہشات کو حقیقی شکل دینے کے لیے عوام کا دباؤ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی حکمت عملی کے تحت قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے اعلان کے باوجود عمران خان نے 7حلقوں سے انتخاب میں حصہ لیا اور قوم کے کروڑوں روپے گزشتہ چھ ماہ کے دوران ضایع ہوئے۔

جو حقائق سامنے آئے ان سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان حکومت کی حمایت اور ڈرون حملوں کی مخالفت کا بیانیہ ان کا ہے جو گزشتہ کئی برسوں کے دوران ملازمتوں سے ریٹائر ہوئے اور جن کی پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان عالمی منظرنامہ میں تنہا رہ گیا۔

وہ سب عمران خان کے مؤقف کی بناء پر ان کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ ان ہی لوگوں کا یہ مفروضہ ہے کہ عمران خان اسلام آباد پر لشکرکشی کریں تو عمران خان کی دلی مراد پھر پوری ہوسکتی ہے۔ اب تو عمران خان مارشل لاء لگنے کی باتیں کر رہے ہیں مگر مارشل لاء کے خلاف مزاحمت کے بارے میں عوام کو تیار نہیں کررہے۔ یوں خونی انقلاب کی بات کرکے وہ اس ملک کو ایک خطرناک سمت میں دھکیل رہے ہیں۔

عمران خان کو چیف الیکشن کمشنر پر دس ارب کے دعوے جیسے غیر قانونی نعرے لگانے کے بجائے معقول دوستوں کی بات پر غور کرنا چاہیے اور حکمراں اتحاد سے بات چیت شروع ہونی چاہیے تاکہ اگلے سال انتخابات کے تمام مراحل شفافیت کے اصولوں کے تحت مکمل ہوسکیں۔

یہی وقت ہے کہ عمران خان اسلام آباد پر لشکر کشی کے بجائے سیاست دانوں کے بارے میں اپنے رویہ ٹھیک کریں۔ تمام سیاست دان ایک ایسی گول میز کانفرنس منعقد کریں جس میں نئے میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت پر اتفاق رائے ہوجائے، وزیر آباد کا یہ واقعہ خطرناک ہے۔ تمام سیاست دانوں کو اس واقعہ کے نقصانات پر غور کرنا چاہیے۔ تشدد جمہوری اداروں کو ختم کردیتا ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جدہ سیلاب کی لپیٹ میں.. محمد بن سلمان کے خیالی منصوبوں کا پردہ فاش

جدہ کے سیلاب نے شہر میں بڑے سیلاب کو جنم دیا جس نے ولی عہد …