ہفتہ , 10 دسمبر 2022

پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟

(تحریر: سید اسد عباس)

اس وقت پاکستان ایک مشکل سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ رواں برس اپریل میں پیدا کیا گیا سیاسی بحران اس وقت اپنے منطقی انجام کی جانب گامزن ہے۔ گذشتہ چند ماہ میں بالعموم اور گذشتہ چند روز میں بالخصوص یکے بعد دیگرے چند ایک ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں، جنہوں نے ہر پاکستانی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومتوں کی ناکامی، مسائل کی بہتات، مہنگائی، ناانصافی تو پاکستان میں کبھی مسئلہ رہے ہی نہیں۔ پیڑول مہنگا ہو یا ڈالر کو پر لگ جائیں، اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں یا بجلی کے نرخ دگنے کر دیئے جائیں، پاکستانی بالعموم ان مسائل پر کچھ آہ و بکا کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں۔ بے انصافی، رشوت ستانی اور اقرباء پروری معاشرتی مزاج کا حصہ بن چکے ہیں۔ جو یہ سب نہیں کرتا، وہ پس رہا ہے اور جو ان برائیوں کو عیب نہیں گردانتا، وہ اس میں بڑھ چڑھ کر قدم بڑھاتا ہے۔

’’سب چلتا ہے‘‘ اب ہمارے معاشرے میں تکیہ کلام بن چکا ہے۔ جس کے ہاتھ جو لگتا ہے، وہ اس سے استفادہ کیے بغیر نہیں رہتا، خواہ ریڑھی بان ہو یا کوئی سرکاری افسر، جہاں جس کا داؤ لگتا ہے وہ باز نہیں آتا۔ اس اندھیر نگری میں یکا یک پاکستان میں ہم کو ایک منفرد آواز سنائی دی۔ یہ عمران خان کی آواز تھی، جس نے کہا کہ ہمارے ملک کو قانون کی حکمرانی اور انصاف کی ضرورت ہے، ہمیں دو نہیں ایک پاکستان چاہیئے۔ ہمیں ایسا پاکستان چاہیئے، جہاں امیر اور غریب کے لیے یکساں قانون اور یکساں مواقع ہوں۔ ظاہر ہے کہ جھوٹ سننے کی عادی قوم کو یہ مثبت بات کہاں سے ہضم ہوسکتی تھی۔ پاکستانی قوم کی زندگی ایسے نعرے سنتے ہوئے گزری ہے۔ جو بھی آتا ہے، بلند بانگ دعوے کرکے اقتدار کے مزے لوٹتا ہے اور پھر چلتا بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران کی بات کو بھی اکثر حلقوں میں شک کی نگاہ سے ہی دیکھا گیا۔ نہ صرف عمران کی بات پر شک کیا گیا بلکہ ان کی حکومت کے تین سالہ کارکردگی کو عمران کے سیاسی دعووں کے جھوٹ ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا۔

اب بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں، جو عمران خان کی باتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تاہم ایسے افراد کی تعداد اب کم نہیں ہے، جو عمران خان کی بات پر یقین کرتے ہیں اور اسے اپنے نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ سچ پوچھیں تو جو کچھ ہم پاکستان میں گذشتہ تین دہائیوں میں دیکھتے آئے ہیں، ان کے تناظر میں ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے کہ نہ جانے کب عمران خان بھی اپنے پیشرو حکمرانوں کی مانند ہو جائے۔ تاہم خوشی کی بات یہ ہے کہ عمران خان اب تک ایسا ثابت نہیں ہوا ہے۔ اس کی زندگی کا پس منظر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس نے پاکستان کی نیک نامی کے لیے خلوص دل سے کام کیا، اس نے پاکستان میں دکھی انسانیت کی فلاح و بہبود اور تعلیمی ترقی کے لیے کئی ایک منصوبے شروع کیے، وہ چاہتا تو کرکٹ کی دنیا میں ہی رہتا اور دیگر کھلاڑیوں کی مانند برطانیہ یا کسی اور ملک میں عیش و عشرت کی زندگی گزارتا، تاہم اس نے اس کے برعکس پاکستان کے مسائل کے حل کا بیڑا اٹھایا۔

عمران خان 2018ء کے الیکشن میں برسر اقتدار آیا، اپوزیشن جماعتوں نے عمران کو سلیکٹڈ کا لقب دیا کہ عمران کی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے برس اقتدار آئی ہے اور ہمارے مینڈیٹ کو چرایا گیا ہے۔ اپنے اقتدار کے ایام میں عمران نے ملکی معیشت، صحت کے نظام، تعلیم کے نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کی۔ کرپشن کے خلاف بھی عمران کا موقف ہمیشہ واضح رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی دولت لوٹنے والوں کو این آر او نہیں دیں گے، تاہم اپنی تین برس کی حکومت کے دوران میں وہ اس کرپٹ ٹولے کے خلاف کوئی خاطر خواہ اقدام کرنے سے قاصر رہے۔ حتی کہ پاکستانی عدالتوں سے سزا یافتہ مجرم نواز شریف عمران دور حکومت میں طبی بنیادوں پر ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ بہت کم سیاسی قائدین کے خلاف الزامات ثابت ہوسکے، جس کے سبب اکثر عمران کے بیانات کو ہدف تنقید بنایا گیا کہ عمران کا کرپشن کے خلاف تحریک کا نعرہ کھوکھلا دعویٰ ہے اور یہ حکومت بھی گذشتہ حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔

پھر اپریل 2022ء میں ایک آئینی تحریک کے ذریعے عمران حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا، اعتراض کرنے والوں کا کہنا تھا کہ عمران حکومت میں عوام مہنگائی سے دوچار ہوئے، یہ لوگ حکومت کرنے کا تجربہ نہیں رکھتے، لہذا ملکی معیشت کو سنبھالنا ان کے بس میں نہیں، عمران خان کی اتحادی جماعتوں نے اعتراض کیا کہ عمران ہم سے کیے گئے اپنے وعدوں پر پورے نہیں اترے، جبکہ عمران اور ان کی پارٹی کا موقف تھا کہ ہماری حکومت کو رجیم جینج منصوبے کے تحت ختم کیا گیا اور اس کی وجہ عمران خان کا دورہ روس قرار دیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا اچانک نظروں سے گر گیا۔ عدالت نے عمران حکومت کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی، جس کے نتیجے میں عمران پارلیمان میں عددی اکثریت کھو بیٹھے اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

حکومت کی تبدیلی کے بعد کے حالات عوام اور قارئین کے سامنے ہیں، ملک میں مہنگائی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ پیٹرول، بجلی، اشیائے ضرورت کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ ساتھ ہی ساتھ عمران خان نے عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ جاری رکھا اور صاف شفاف فوری الیکشن کا مطالبہ کیا، جسے تاحال قبول نہیں کیا گیا ہے۔ انہی حالات میں ملک میں بہت سے ایسے واقعات رونماء ہوئے، جو ریاستی جبر کی علامت ہیں۔ جن میں صحافیوں کی گرفتاریاں، سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کی گرفتاری اور ان پر تشدد، پی ٹی آئی کے اراکین کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے، عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی گرفتاری اور ان پر تشدد، وی لاگر عمران ریاض کی گرفتاری، صحافی جمیل فاروقی کی گرفتاری، صف اول کے اہم صحافیوں کا ملک سے فرار، میڈیا چینلز پر پابندیاں، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر طاقت کا بے تحاشہ استعمال، پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اور تشدد، ارشد شریف کا کینیا میں اندھا قتل، عمران خان کی الیکشن کمیشن سے نااہلی اور اس طرح کے دیگر واقعات شامل ہیں۔

عمران خان اور ان کی پارٹی پہلے پہل تو حکومت پر اعتراض کرتی رہی، مگر کچھ ہی عرصے بعد انھوں نے اپنے خلاف ہونے والی کارروائی میں اسٹبیلشمنٹ کے کردار کی جانب نشاندہی شروع کی اور اب صورتحال یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے قائدین بالخصوص اعظم سواتی اب کھل کر حکومتی ذمہ داران کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے افسران کا نام لے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت اور ورکرز نیز عوام کے ایک بڑے حصے کو اب یقین ہو چلا ہے کہ رجیم چینج کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا۔ عمران اپنے خطابات میں اکثر کہتے رہے ہیں کہ پولیس، ایف آئی اے اور پی ٹی آئی کے اراکین پر تشدد کرنے والے ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان پر پیچھے سے دباؤ ہے۔ اسی اثناء میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں ان سمیٹ پارٹی کے دس اراکین زخمی ہوئے اور ایک کارکن جان کی بازی ہار گیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے بعض ذمہ داران بھی اب کھل کر عمران خان کے خلاف سامنے آچکے ہیں۔ یہ ایک ڈیڈ لاک کی صورتحال ہے۔ یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا۔؟

اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں حکومت سازی میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا اہم کردار رہا ہے، تاہم یہ کردار ہمیشہ مخفی تھا۔ اب یہ کردار بعض واقعات کے سبب بالکل کھل گیا ہے۔ ایسے میں یہ امر سوال انگیز ہے کہ آیا اسٹیبلشمنٹ کسی ایسی جماعت یا فرد کو برسر اقتدار آنے دے گی، جو واضح طور پر ان کے سیاسی کردار کے خلاف ہے۔ اگر یہ جماعت یا شخص پارلیمان میں مطلوبہ ایک تہائی اکثریت کے ساتھ آجاتا ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے حوالے سے کیا قانون سازی کرے گا۔؟ کیا کوئی ایسا نکتہ یا فارمولا ہے، جس پر عمران خان راضی ہو جائے اور آئندہ انتخابات کو نارمل انداز سے منعقد کیا جائے۔؟ عمران اور ان کی جماعت کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا۔؟ یہ اور ایسے بہت سے سوالات اس وقت اذہان میں موجود ہیں۔ پاکستان کے معروف قانون دان بیریسٹر اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ پاکستان میں مستقبل کی پیشین گوئی کرنا بہت مشکل ہے۔ لگتا ہے ان کی بات کسی حد تک درست ہے، تاہم امکانات کا پھر بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں مسائل کا ظاہری حل ایک صاف و شفاف اور منصفانہ انتخاب ہے، تاہم یہ انتخاب کون کروائے گا۔ الیکشن کمیشن تو وہ ہے، جس پر عمران اور ان کی جماعت کو اعتماد نہیں۔ اگر ملک میں صاف و شفاف انتخابات کروائے جاتے ہیں تو ضمنی انتخابات کے نتائج کے تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان پارلیمان میں بھاری اکثریت حاصل کریں گے۔ کیا اسٹیبلشمنٹ اور ملک کے مقتدر حلقے اس انتخاب کو قبول کرسکتے ہیں۔؟ دوسرا راستہ ایک خطرناک راستہ ہے، جس کو تاحال آزمایا جا رہا ہے۔ عمران خان اور ان کی پارٹی پر دباؤ بڑھا کر انھیں پیچھے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو تاحال ناکامی سے دوچار ہوئی ہے اور عوامی غیض و غضب کا سبب بنی ہے۔ اگر عوامی غم و غصہ اسی طرح سے بڑھتا رہا تو کیا ملک میں کبھی امن بحال ہو سکے گا۔

بالفرض اگر عمران خان کو راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے تو کیا حالات اپنی پرانی حالت پر لوٹ جائیں گے۔؟ میرے خیال میں عوام کی عمران خان سے والہانہ محبت مشکلات کو زیادہ بڑھا دے گی اور پھر ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ جائیں گے، جہاں سے لوٹنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہوگا۔ یہ اعتدال سے کام لینے اور دانشمندی کا وقت ہے، زور زبردستی سب مسائل کا حل نہیں ہوتی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا بھر میں اقوام نے شعور کا ایک زینہ چڑھنے کے بعد حقوق حاصل کیے ہیں۔ امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کو ووٹ کا حق، یورپ میں خواتین کو ووٹ کا حق ایسی ہی تحریکوں کا نتیجہ ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والی یہ تحریک بھی اب بے نتیجہ نہیں رہے گی، فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم نے شعور کا یہ زینہ امن و امان سے چڑھنا ہے یا اس کے لیے بے گناہ انسانوں کا خون بہانا ہے۔ خداوند کریم ہمارے وطن کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا سعودی عرب اب امریکہ کے بجائے چین جیسے نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے؟

(فیصل محمود علی) چینی صدر شی جن پنگ سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ …