بدھ , 7 دسمبر 2022

سعودی عرب میں 13 سالہ معصوم بچے کو سزائے موت

ریاض:سعودی حکومت نے اپنے عوام کی سرکوبی کرتے ہوئے 13 سالہ عبداللہ الحویطی نامی بچے کو موت کی سزا سنائی ہے۔طائف شہر میں سعودی حکومت کی عدالت کی طرف سے جاری ہونے والے اس فیصلے پر آل سعود کے کارکنوں اور مخالفین کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ ایک کارکن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان جابرانہ اقدامات کی وجہ سے سعودی حکومت کا زوال اور تباہی نزدیک ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے آل سعود پر دباؤ ڈالنے اور اس حکومت کو جابرانہ اقدامات سے روکنے کی مسلسل درخواست اور مطالبات کے باوجود انسانی حقوق کے دفاع کے جھوٹے دعویداروں امریکہ اور یورپ کی لامحدود حمایت کی وجہ سے سعودی عوام پر ظلم و ستم کی لہر تیز ہوگئی ہے۔

سعودی حکومت کی جانب سے 13 سالہ بچے کو سزائے موت کے فیصلے پر آل سعود حکومت کے مخالفین اور کارکنوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اسی تناظر میں ایک عرب کارٹونسٹ نے ایک کارٹون شائع کیا ہے جس نے سوشل میڈیا میں دھوم مچا دی ہے۔

اس کارٹون میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بن سلمان اس نوجوان کا سر آری سے کاٹ رہا ہے۔ "ابو منشار” وہ لقب ہے جو آل سعود کے مخالفین نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے بعد دیا تھا۔

 

یہ بھی دیکھیں

فلسطین؛ صیہونی فوجیوں نے مسجد "رسول الله” کو شہید کر دیا

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطین انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فوجیوں نے جنوبی الخلیل …