جمعرات , 1 دسمبر 2022

عمران خان اور فوج ’ایک پیج‘ کے بیانیے کے باوجود آمنے سامنے کیسے آئے؟

(سحر بلوچ)

پاکستان کی سیاست میں سول ملٹری تعلقات ہمیشہ سے موضوع بحث رہے ہیں اور ہر دور میں سیاسی قیادت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔

گذشتہ ایک دہائی سے ملکی سیاست میں سول ملٹری تعلقات کے اس ’لو اینڈ ہیٹ‘ افیئر میں ایک اور اصطلاح ’ایک صفحے پر ہونا‘ کا استعمال دکھائی دیا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس ’سیم پیج‘ یعنی ایک صفحے کی اصطلاح کو بہت زیادہ استعمال کیا۔

سنہ 2011 میں مینار پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے کے مناظر شاید آج بھی آپ کو یاد ہوں گے۔ اس جلسے کو ملکی سیاسی افق پر پی ٹی آئی کے عروج کا آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ اس جلسے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں زدعام تھیں کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کا آشیرباد حاصل ہو گیا ہے۔

سنہ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیابی کے بعد جب عمران خان وزیر اعظم منتخب ہوئے تو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ان کو ’سلیکٹڈ‘ کا لقب دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ان کو چنا گیا ہے۔

بلاول کا اشارہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ یا فوج کی جانب تھا تاہم اگلے تین سال کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے متعدد بار فوج کے ساتھ بہترین تعلقات کا دعویٰ بھی کیا اور دفاع بھی۔

عمران خان اور ان کی جماعت نے کھل کر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کا اظہار کیا اور میڈیا اور خبروں میں سول و ملٹری قیادت کو ایک صفحے پر ہونے کا بتایا جاتا رہا۔

ملکی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اسٹیبلشمنٹ کی جو حمایت پی ٹی آئی کے حصے میں آئی ایسی کسی اور جماعت کو کبھی نہیں ملی اور اس بات کا دعویٰ گذشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران بھی کیا۔

مگر پی ٹی آئی اور اسٹیبلمشنٹ کے ’ایک صفحے پر ہونے‘ کے بیانے میں تبدیلی کے اشارے گذشتہ برس کے اواخر میں اس وقت سامنے آنا شروع ہوئے جب اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کی جگہ نئے سربراہ کی تعیناتی کا معاملہ سامنے آیا۔

اور یہ ’ایک صفحے پر ہونے‘ کے بیانیے میں دراڑ پیدا ہوتی گئی اور پھر یہ معاملہ رواں برس اپریل میں وزیر اعظم عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی پر آ کر رکا۔

اس صورتحال میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے پہلے دبے الفاظ میں اور پھر کھلے عام فوج کی اعلیٰ قیادت کو اس سیاسی دھچکے میں شراکت داری کا ذمہ دار قرار دینا شروع کیا۔

کبھی ’نیوٹرل‘، کبھی کسی اور لفظ کا سہارا لے کر عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا تو یہ واضح ہو چکا تھا کہ اب وہ ’ایک صفحے‘ کا بیانیہ باقی نہیں رہا۔

حال ہی میں پی ٹی آئی چیرمین عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے اعلیٰ فوجی افسران کے نام لے کر ان پر سخت الزامات عائد کیے جانا جبکہ اس کے ردعمل میں غیر معمولی طور پر آئی ایس آئی کے سربراہ کی جانب سے ایک پریس کانفرنس نے اس معاملے پر مہر ثبت کر دی۔

لیکن یہاں چند سوال ذہن میں آتے ہیں کہ وہی عمران خان جو کچھ عرصہ قبل تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جمہوریت پسندی کے دلدادہ تھے، اور ان جی جماعت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کا دم بھرتے نہ تھکتی تھی، آخر کیوں اس قدر نالاں ہوئے اور کیا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کی خلیج کو پر کرنا ممکن بھی رہا ہے اور اب یہ معاملہ آگے کہاں جا کر رکے گا؟

ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے بی بی سی نے چند سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔

حالات اس نہج تک کیسے پہنچے؟
سینئیر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کے مطابق ’حالات اس نہج تک ایسے پہنچے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں عوام کی جانب سے مایوسی کا اظہار ہو رہا تھا، معاشی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی تھی اور بات قیادت پر آ گئی۔ عمران خان کو اس دوران پوری طرح علم تھا کہ ان کے بارے میں عسکری قیادت کیا کہہ رہی ہے اور کیا کر رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی ایک کڑی جڑتی ہے مارچ 2021 سے جب پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی ملتان سے الیکشن جیت گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے 2021 کے سینیٹ انتخابات کے لیے گیلانی کے کاغذاتِ نامزدگی کو منظور کرتے ہوئے حکمراں جماعت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کیا تھا۔‘

ایوان بالا میں گیلانی کی جیت پر وزیر اعظم عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ ’سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا ہے‘ کیونکہ الیکشن سے چند دن پہلے ہی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی مبینہ طور پر پی ٹی آئی ارکان کو ووٹ منسوخ کروانے کا طریقہ بتا رہے تھے۔‘

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ’عمران خان کو سمجھ آ گیا تھا کہ یہ عسکری قیادت کی طرف سے کیا گیا ہے۔‘

صحافی سِرل المیڈا کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی بنیاد ایک ہی ہے کہ سیاست میں ایک وقت میں ایک ہی باس ہو سکتا ہے۔ جلد یا بادیر اس بات کا اندازہ سبھی سیاستدانوں کو ہو جاتا ہے اور ایسا ہی کچھ عمران خان کے کیس میں بھی ہوا ہے۔‘

انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر تو عمران خان اور فوج کے درمیان تنازعہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر ہوا ’لیکن دراصل اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ اگلا آرمی چیف کون ہو گا؟‘

صحافی سِرل کا کہنا ہے کہ ’عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان اس بات پر اتفاق تھا کہ جنرل باجوہ، عمران خان کو وزیرِ اعظم بنوائیں گے اور عمران بدلے میں جنرل باجوہ کو توسیع دیں گے اور ایسے چلتا رہے گا۔‘

صحافی سرل المیڈا کہتے ہیں کہ ’لیکن پھر اس طرح کے معاہدوں میں ہوتا یہ ہے کہ ’کیونکہ عمران خان مستقبل کا سوچتے ہیں تو وہ اپنے آنے والے پانچ سال کی تیاری کرنا شروع ہو گئے اور اس دوران آرمی چیف عمران کے لیے غیر ضروری ہو گئے اور انھیں کسی اور شریک کی ضرورت پڑ گئی۔ جس کے بعد سے چیزیں خراب ہونا شروع ہو گئیں۔‘

وہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اگر ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر ہونے والے تنازعے کی بات کریں تو عمران خان نہیں چاہتے تھے کہ لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کی ٹرانسفر کی جائے، جس کا وہ برملا اعتراف بھی کر چکے ہیں، تاہم یہ ٹرانسفر ہو گئی۔ یہ تنازعہ منظرِ عام پر آنے کے بعد اپوزیشن کو اپنے لیے موقع نظر آیا۔‘

سِرل المیڈا کا کہنا ہے کہ’مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو اس بات کا تجسس تھا کہ عمران خان روزانہ کی بنیاد پر جنرل باجوہ کے جونیئر پارٹنر کے نام سے بلائے جانے کے بارے میں کیا سوچتے تھے یا محسوس کرتے تھے؟ لیکن حیران کن طور پر ایسا نہیں تھا۔‘

’وقت کے ساتھ عمران خان کو اپنے دفتر کی طاقت اور بطور وزیرِ اعظم اپنے اختیارات کا احساس ہوا جس کے بعد انھوں نے اس طاقت کا استعمال کرنا شروع کر دیا چاہے وہ خارجی امور کے معاملات ہوں یا پھر قومی سلامتی کے اور یہیں سے عمران خان کے لیے مشکلات کی شروعات ہوئی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں یہ بات واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی فوج نے پہلی مرتبہ ایک پاپولسٹ کے ساتھ اتحاد کیا اور عمران خان کا سپورٹر فوج کے سیاسی سپورٹر سے بہت مختلف ہے۔ عمران خان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کو فوج کی طرف سے لایا کیا گیا تھا لیکن عمران خان کا سپورٹر صرف عمران خان کی سنتا ہے اور فوج کے تابع نہیں۔‘

مگر صحافی نصرت جاوید کی آرا اس سے کچھ مختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ایسا وقت ہے جب عمران خان خاصی انتہا پسندی دکھا رہے ہیں۔ عمران خان کی مقبولیت اس حد تک نہیں کہ لوگ ان کی خاطر عسکری قیادت پر حملہ آور ہو جائیں گے اور پاکستان کا جمہوری نظام اتنا مضبوط نہیں ہوا کہ فوج کے ساتھ ٹکراؤ کو برداشت کرسکے۔ عمران خان پر حملے کے بعد ان کو وقت مل گیا ہے اور اس وقت انھیں خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔‘

سابق آئی ایس آئی سربراہ اسد درانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فوج اور عمران خان کے درمیان ناراضی تو بعد میں ہوئی لیکن عمران نے پہلے سے ہی شور مچانا شروع کر دیا تھا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’فوج کو یہ مان لینا چاہیے کہ سیاسی انجینیئرنگ غلط ہو گئی ہے اور ہو جاتی ہے۔ اس کو ماننے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔‘

اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟
اسد درانی اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’سیاست میں کوئی بھی لڑائی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ اگلے چھ ماہ میں یہی لوگ الیکشن کی تیاری کرتے نظر آئیں گے۔‘

جبکہ صحافی سِرل المیڈا کے مطابق ’اگر کل الیکشن ہوتے ہیں تو عمران خان کی پارٹی سب سے مقبول پارٹی ہونے کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں سب سے بڑی پارٹی بن کر آئے گی۔

’اب وہ سادہ اکثریت کے ساتھ آئے گی، یا سپر اکثریت کے ساتھ آئے گی، یہ الگ سوال ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ عمران کو اگلے الیکشن کے لیے فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ نئی آنے والی عسکری قیادت کے لیے یہ سوال ہوگا کہ آیا وہ عمران خان کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں۔

’ان کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں اور وہ تب ہی پتا چلے گا جب نیا آرمی چیف تعینات ہو جاتا ہے اور نئی عسکری قیادت آتی ہے۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یورپ کی چین سےتعلقات کی از سر نو استواری، امریکہ- یورپ تقسیم کو ظاہر کرتی ہے؟

یوکرین تصادم اور روس اور مغرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سےیورپ کے …