جمعرات , 1 دسمبر 2022

کون بچائے گا پاکستان؟

(غریدہ فاروقی)

سابق وزیراعظم پاکستان اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان گذشتہ دنوں قاتلانہ حملے میں اس وقت زخمی ہوئے جب وہ لانگ مارچ کی قیادت کر رہے تھے۔حملے میں فائرنگ سے ایک کارکن ہلاک اور 14 زخمی ہوئے، جن میں پارٹی کے سینیئر رہنما سینیٹر فیصل جاوید سمیت دیگر شامل تھے۔

واقعے کے فوراً بعد عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے معلوم ہوا کہ گولی ان کی ٹانگ میں لگی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

جائے وقوع سے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم سے ایک نائن ایم ایم پستول اور دو خالی میگزین برآمد ہوئے۔ اس گرفتاری کے فوراً بعد ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں گرفتار شخص پولیس کی حراست میں اعتراف جرم کر رہا ہے اور اس کا کہنا تھا کہ میں نے عمران خان پر اس لیے حملہ کیا کیوں کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے۔

’ان کے ریلیوں میں ناچ گانے سے لوگوں کو عبادت میں مشکل پیش آتی ہے، اس لیے میں نے سوچ لیا تھا کہ ان کو مارنا ہے۔‘

لیکن تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوری منصوبہ بندی سے بنایا گیا ایک قاتلانہ حملہ تھا، جس کا ہدف عمران خان تھے۔

پی ٹی آئی نے حملے کی ذمہ داری وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور ایک فوجی افسر پر ڈال دی۔ واقعے کی خبر ملتے ہی ملک بھر میں تحریک انصاف کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے۔

ان احتجاجی مظاہروں کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ مظاہرین نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ سمیت پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔

اس واقعے کی سب سے افسوس ناک بات یہ تھی کہ اس میں ملکی اداروں کے خلاف قابل مذمت اقدامات کیے گئے اور سوشل میڈیا پر چلائے گئے ٹریندز میں بھی افواج پاکستان کی شدید تضحیک کی گئی۔

اس واقعے کے 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود اب تک ایف آئی آر بھی نہیں کاٹی گئی۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کاٹنے کے معاملے پر عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی میں اختلاف ہے۔

عمران خان نے واقعے کے بعد پہلی بار جمعے کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال میں قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ ’بند کمروں میں مجھے مروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چار لوگوں نے یہ فیصلہ کیا، جس کی ویڈیو بنوا کر میں نے باہر رکھی ہے۔‘

بقول عمران خان: ’حکومت میں ساڑھے تین سال رہا، اداروں اور ایجنسیز میں سب کو جانتا ہوں، وہ بتا دیتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر کی طرح ان کے قتل کی سازش کی گئی، عمران نے دین کی توہین کی ہے۔ ’اس کے بعد پلان یہ بنایا گیا تھا کہ دینی انتہا پسند نے عمران خان کو قتل کر دیا۔ وہ یہ پلان تھا جو میں نے 24 ستمبر کو جلسے میں بتایا۔‘

جبکہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی انتہاپسندی کا کیس ہے اور اس میں کسی منصوبہ بندی کا عنصر نہیں ہے۔عمران خان پر اس حملے کے بعد پہلے سے سیاسی اور عدم استحکام کے شکار ملک میں سیاسی اور سماجی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

عمران خان پر حملہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے لیکن حملے کے بعد پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں نے ردعمل میں جس طرح مسلح افواج اور اداروں کے خلاف بیانات دیے، اس سے ملک میں انتشار بڑھنے کا خطرہ ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اس واقعے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ اس احتجاج کی آڑ میں ملک بھر میں انتہائی دلخراش مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ ان مظاہروں میں قومی اداروں کے خلاف نعرہ بازی سمیت توڑ پھور، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ پشاور میں مظاہرین نے تو پاکستانی فوج کے افسران کی رہائیش کا محاصرہ تک کیا۔

ان واقعات سے عمران خان اور ان کی جماعت کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ کیا وہ اپنے اقتدار کے لیے ملک کو خانہ جنگی کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں؟ آج سے صرف چند مہینے پہلے یہی ادارے عمران خان کی آنکھوں کا تارہ بنے ہوئے تھے تو آج ایسا کیا ہوا کہ ان ہی کے خلاف اتنی نفرت پھیلائی جارہی ہے؟ کیا ایک شخص کی انا پورے ملک کے باسیوں کی زندگیوں سے زیادہ بڑی ہے؟

اسی طرح اگر دیکھا جائے تو حالیہ کچھ عرصے میں پاکستان میں سیاسی عدم برداشت میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے اور اس میں شدت عمران خان کی حکومت جانے کے بعد دیکھی گئی۔

ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں بظاہر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور ان کے بیانیے کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان ملکی تاریخ کے مقبول ترین لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔

ان کے پیروکاروں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اور یہ نوجوان عمر کے ایسے حصے میں ہیں جہاں وہ بغیر کسی نتیجے کے، سوچے سمجھے بغیر جذبات میں جائز و ناجائز کی پرواہ کیے بنا ہر کام کر گزرتے ہیں۔

ایسے میں عمران خان جیسے رہنما پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے نوجوانوں کی حمایت کو ملکی ترقی میں شامل کرنے کے لیے مثبت اقدام کریں، لیکن افسوس کہ انہوں نے اپنے سیاسی عزائم کے لیے ان معصوم نوجوانوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔

جب سے عمران خان کو بطور وزیراعظم عدم اعتماد کے جمہوری عمل سے برطرف کیا گیا ہے تب سے وہ مسلسل من گھڑت اور حقائق سے خالی کہانیوں کی بنیاد پر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں جس سے ملک میں پولرائزیشن مزید بڑھ رہی ہے اور اداروں کے خلاف لوگوں میں نفرت بھی پروان چڑھی ہے۔

پہلے امریکی سائفر کا معاملہ، جس میں وہ آج تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کر پائے۔ اس کے بعد آڈیو لیکس میں انکشاف ہوا کہ عمران خان کی پارٹی کے رہنما صرف اپنی ضد اور انا کی خاطر ملک کو نقصان پہنچانے تک سے گریز نہیں کر رہے ہیں اور اب اس واقعے کی آڑ میں ملکی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔

اب خدارا ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہییں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے اور ملک میں کوئی نیا سانحہ درپیش آجائے۔ سب مل کر حالات کے حل کے لیے بات چیت کریں اور ملک کو مزید انتشار سے بچائیں۔بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

خان صاحب کو داد دیں

(تحریر : رؤف کلاسرا) وقت بھی کیا کیا ستم کرتا ہے۔ ایک سال پہلے تک …