پیر , 28 نومبر 2022

ایران میں مظاہرے‘ عالمی استعمار کی سازش!

(تحریر : محمد عبداللہ حمید گل)

برادر ملک اسلامی جمہوریہ ایران میں 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی حجاب کی خلاف ورزی پرپولیس کی حراست میں مشتبہ حا لات میں ہلاکت سے عالمی سامراجی قوتوں کوایران میں شورش بر پا کرنے کا ایک بہانہ میسر آ گیا ہے۔ مذموم اہداف و مقاصد کے لیے امریکی، صہیونی و مغربی میڈیا نے غلط اور چھوٹی خبریں پھیلائیں۔ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی کہ حجاب کو پسماندگی اور ایران کو عورت کے لیے قید خانہ بنا کر پیش کیا جائے اور اس کے نتیجے میں تمام تر انگلیاں دینِ اسلام پر اٹھائی جائیں۔ یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ ایرانی خواتین حجاب محض قانون کی پاسداری کے لیے نہیں بلکہ اسلامی احکامات اور اپنی ثقافت کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کرتی ہیں، یہاں تک کہ غیر مسلم خواتین بھی ایرانی ثقافت کی پاسداری کرتے ہوئے حجاب پہنتی ہیں۔

حال ہی میں بعض خواتین کی جانب سے اس احتجاج پر ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایرانی خواتین حجاب کے خلاف ہیں اور حکومت ان کو جبری طور پر حجاب پر مجبور کررہی ہے حالانکہ جب ایران کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ اس ملک میں اسلام کے آنے سے پہلے بھی خواتین حجاب کیا کرتی تھیں لہٰذا حجاب اس ملک کی قدیم ثقافت کا بھی حصہ ہے۔ درحقیقت صہیونی و امریکی گٹھ جوڑ بار بار کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈکر ایران میں بحران پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ ایران کو کمزور اور بے بس کرنے کیلئے اس پر مسلط کی گئی معاشی وسیاسی پابندیوں سے بھی امریکہ، اسرائیل اور اتحادیوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے جس کے بعد ”حجاب کارڈ‘‘ کی آڑ میں ایک نئی میڈیا وار چھیڑ دی گئی ہے۔ دراصل ایران گریٹر اسرائیل کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اور وہاں ہونے والے دہشت گرد انہ حملے بھی امریکہ اور حواریوں کی مذموم سازشوں کا شاخسانہ ہیں۔

حالیہ احتجاج کی وجہ دیکھی جائے تو بظاہر مہسا امینی کی ہلاکت اس کا سبب بنی۔ مہسا امینی کو 13 ستمبر کو ایران کی اخلاقی پولیس نے درست طریقے پر حجاب نہ پہننے کی وجہ سے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ مہساکی پولیس کی حراست کے دوران ہی موت واقع ہو گئی تھی۔ پولیس کا موقف ہے کہ مہسا کو مرگی (یا دل) کا دورہ پڑا جس پر اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تین دن کومے میں رہنے کے بعد انتقال کر گئی جبکہ مخالفین کا ماننا ہے کہ مہسا پولیس تشدد کے باعث جاں بحق ہوئی۔ اس افسوسناک حادثے کے فوراً بعد ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے مرحومہ کے گھروالوں سے رابطہ کیا اور واقعے کی فوری تفتیش کا حکم صادر کیا جس پر وہاں کی پولیس اور اعلیٰ حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا اور اپنی تحقیقات کو مختلف دستا ویز اور ثبوتوں کے ساتھ میڈیا کے سامنے رکھا۔ ان دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی کہ مہسا امینی کو حجاب کے قانون کی خلاف ورزی پر اخلاقی تربیتی مرکز میں لے جایا گیا جہاں خواتین کی کائونسلنگ کی جاتی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق وہاں20 دیگر خواتین بھی موجود تھیں۔ مرکز میں مہسا امینی کو دورہ پڑنے پر فوری طور پر اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن علاج کے دوران وہ دارِ فانی سے کوچ کر گئی۔ حکومت کے مطابق جابجا لگے ہوئے سکیورٹی کیمروں کی وڈیوز کی رو سے علم ہوتا ہے کہ اس دوران کہیں بھی اس پر کسی طرح کی سختی نہیں برتی گئی۔ حکام اور طبی ماہرین نے جو پوسٹ مارٹم رپوٹ جاری کی‘ اس کے مطابق جسم کے کسی بھی حصے پر تشدد کے کوئی نشان نہیں تھے۔

مہسا امینی کی ہلاکت پر 16 ستمبر سے شروع ہونے والے خواتین کے احتجاج کو 50 روز سے زائد ہو چکے ہیں اور یہ احتجاج سنگین نوعیت اختیارکرتے ہوئے 112 شہروں اور قصبوں تک پھیل چکا ہے۔ اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچے اور سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکومت کی جانب بڑے پیمانے پر سماجی کارکنوں اور سیاسی مخالفین کی گرفتار ی عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایران کسی احتجاجی تحریک کی لپیٹ میں ہے۔ اس ملک کی حالیہ تاریخ میں ایسے کئی نشیب و فراز آچکے ہیں۔ ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے 1936ء میں ”کشف حجاب‘‘ کے نام سے ایک فرمان جاری کرکے خواتین کے چادر اور سکارف لینے پر ہی پابندی عائد کر دی تھی۔ رضا شاہ پہلوی کا یہ فرمان ایران کے معاشرے کو مغربی تہذیب میں ڈھالنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا حصہ تھا۔ اس وقت ایران کے مذہبی طبقے نے رضا شاہ پہلوی کے اس حکم کے خلاف شدید احتجاج کیا اور پابندی کے باوجود کئی خواتین حجاب اوڑھتی رہیں جبکہ حکومت ان کے خلاف کارروائی بھی کیا کرتی تھی۔ یہ سلسلہ انقلابِ ایران (1979ء ) تک جاری رہا۔ انقلابِ ایران کے بعد 7 مارچ 1979ء کو آیت اللہ خمینی نے حجاب کی تاکید کا حکم جاری کیا اور ایران کے سماج میں ایک مثبت تبدیلی آئی۔ مغربی تہذیب اور عریانیت سے دوری اختیار کی گئی، برائی کے اڈے اور نائٹ کلب بند ہو گئے اور تعلیمی اداروں میں اسلامی تشخص کا خاص خیال رکھا گیا۔ مغربی تہذیب سے متاثرہ تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا اور اصلاحِ احوال کے بعد انہیں کئی سالوں کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا۔

یہ حقیقت ہے کہ ایرانی معاشرے میں مذہب پسندوں اور لبرل خیالات رکھنے والوں میں ہمیشہ ایک کشمکش جاری رہی ہے۔ 1983ء میں سر ڈھانپنے کے سلسلے میں ایران میں باقاعدہ قانون سازی ہوئی جس پر حجاب کا قانون سامنے آیا اور حجاب نہ کرنے پر 74 کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی۔ موجودہ عالمی تناظر میں حجاب تنازع میں بھی کہیں نہ کہیں ‘اسلاموفوبیا‘ کا اثر نظر آتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایران میں اتنے بڑے پیمانے پر یہ احتجاج اچانک کیسے شروع ہو گئے؟ موجودہ مظاہروں کی قیادت خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔ ان مظاہروں نے ایران کے شہری علاقوں کے ساتھ دیہات کو بھی اپنی زد میں لے رکھا ہے اور ایران کی بہت سی سرکردہ شخصیات‘ جن میں حقوق انسانی اور سماجی تنظیموں کے کارکنان، فنکار، تاجر اور دیگر بااثر شخصیات شامل ہیں‘ نے ان مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی عوامی سطح پر اس کے بارے میں بات کی ہے۔ ایک غیر ملکی ایجنسی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق روز بروز بڑھتے ہوئے مظاہرے اور عوام کے مزاج میں تبدیلی موجودہ ایرانی حکومت کے لیے ایک ایسا نیا خطرہ ہے، جو 2009ء کے بعد سے نظر نہیں آیا تھا۔ 2009ء کی ‘گرین موومنٹ‘ میں بھی لاکھوں لوگ سڑک پر آگئے تھے۔

بہر حال‘ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو ہر باشعور مسلم مرد و خاتون کو اس بات کا علم ہے کہ دینِ اسلام میں پردے کی خصوصی اہمیت ہے اور مرد و زن کو ستر پوشی کے ساتھ شرم و حیا کو بھی مقدم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایران میں ہونے والے حجاب مخالفت مظاہروں کو بھارت سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی حقوقِ نسواں اور حقوق انسانی کی نام نہاد تنظیموں اور اداروں کی جانب سے پرزور حمایت حاصل ہو رہی ہے اور اس احتجاج کی آڑ میں اسلامی احکام اور قوانین پر تنقید کی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مذہب خواتین کی آزادی اور ان کی ترقی کے خلاف ہے؛ تاہم دوسری جانب حجاب جلانے، سر کے بال کٹوانے اور ‘میرا جسم میری مرضی‘ والی مٹھی بھر خواتین کو بھی ایرانی معاشرے کی نمائندہ نہیں کہا جاسکتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے انہیں اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنا نے کا ایک موقع میسر آ گیا ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر مغربی طاقتوں کا دہرا رویہ بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف تو وہ مہسا امینی کی حمایت میں بلند بانگ آواز اٹھا رہی ہیں اور دوسری طرف الجزیرہ چینل کی فلسطینی صحافی شیریں ابو عاقلہ کے قتل پر خاموش ہیں۔ بلاشبہ آج مغربی استعماری طاقتیں مسلمانوں کے امور میں مسلسل مداخلت کر رہی ہیں اور مختلف ہتھکنڈوں سے اسلامی دنیا کے سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی امور پر اپنا اثرورسوخ جمائے ہوئے ہیں۔ جبکہ ایران نے پوری دنیا میں کمزور ممالک کو یہ پیغام دیا کہ استعماری طاقتوں سے مقابلہ ممکن ہے۔بشکریہ دنیا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کے حالات اور یکطرفہ معلومات

(تحریر: نذر حافی) اس جنگ میں ایران اکیلا نہیں، یہ میڈیا کی چال ہے کہ …