ہفتہ , 10 دسمبر 2022

بالآخر عمران خان پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ تھانہ سٹی وزیر آباد میں درج ہوگیا

لاہور / راولپنڈی: سپریم کورٹ کے حکم کے بعد وزیر آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں جبکہ مقدمہ تھانہ سٹی وزیر آباد میں درج کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مقدمے میں زیر حراست گرفتار شخص نوید کو باقاعدہ ملزم نامزد کیا گیا جبکہ قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر کو سیل کر دیا گیا اور ایف آئی آر کو 8 نومبر کو سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔پولیس ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے بعد ایف آئی آر کو عام کیا جائے گا، مقدمے کے اندراج کے بعد کل ہی مرکزی ملزم نوید کی باقاعدہ گرفتاری ڈال دی جائے گی۔

واضح رہے کہ ملزم نوید اس وقت سی ٹی ڈی کی حراست میں لاہور چونگ کے ایک سیل میں موجود ہے، عمران خان پر فائرنگ کا واقعہ جمعرات کو لانگ مارچ کے دوران پیش آیا تھا۔ واقعہ کا مقدمہ سپریم کورٹ کے حکم پر چار روز بعد درج کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کے باعث راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی اہم شاہراہیں بند ہو گئیں جس سے جڑواں شہروں کے درمیان ایمبولینس سروس بھی معطل ہوگئی جبکہ لاہور میں گورنر ہاؤس کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر لانگ مارچ کے دوران حملے کے خلاف تحریک انصاف کے کارکنوں کے 5 مختلف مقامات پر مظاہرے جاری ہیں، جس کی وجہ سے جی ٹی روڈ ٹیکسلا، روات، ائرپورٹ روڈ اور مری روڈ پر ٹریفک کا نظام شدید درہم برہم ہوگیا۔

راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ مری روڈ شمس آباد پر پی ٹی آئی کارکنوں نے ٹائر جلاکر نعرے بازی کی۔ احتجاج کے باعث مسافروں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی اہم شاہراہیں بند ہونے سے جڑواں شہروں کے درمیان ایمبولینس سروس معطل ہوگئی اور مریضوں کواسپتال منتقل کرنے والی متعدد گاڑیاں ٹریفک میں پھنس گئیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کارکنوں نے جی ٹی روڈ رتہ شاہ چوک مارگلہ کو دونوں جانب سے بلاک کرکے احتجاج شروع کردیا، جس کی وجہ سے ٹریفک اور مقامی آبادی و دکان داروں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ شمس آباد سے مری روڈ کو جانے والا راستہ دونوں طرف سے بند کیے جانے کے باعث تعلیمی اداروں سے گھر جانے والے طلبہ شدید پریشانی کا شکار ہورہے ہیں۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی مظاہرین نے پیرودھائی میں بھی احتجاج شروع کردیا، اس دوران پیرودھائی کو آئی جے پی روڈ سے ملانے والی شاہراہ پر ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے بند کردیا۔

دریں اثنا احتجاجی مظاہروں کے دوران پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان اور کارکنوں میں جھگڑے کا ایک واقعہ بھی سامنے آیا۔ پی ٹی آئی کارکن نے الزام عائد کیا کہ فیاض الحسن چوہان نے انہیں تھپڑ مارا ہے، جب کہ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے کہ انہوں نے تھپڑ نہیں مارا۔ اس دوران احتجاجی مظاہرین اور فیاض الحسن چوہان کے درمیان جھگڑا ہوا۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے عمران خان پر فائرنگ کے مقدمہ کا اندراج نا ہونے کے خلاف گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج ہوا۔

پولیس کی بھاری نفری گورنر ہائوس کے باہر پہنچا دی گئی اور مظاہرین کو گورنر ہاؤس کے دروازے تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مکمل تیاری کرلی۔پولیس نے گورنر ہاؤس کے دروازے کو کھار دار تاریں اور جنگلے لگا کر بند کر دیا۔

یہ بھی دیکھیں

پرویز الہی کو نئے سیٹ اپ میں وزیراعلی بنانے پر سوچا جاسکتا ہے،رانا ثنااللہ

لاہور: وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان اگر مگر چھوڑیں اور …