ہفتہ , 10 دسمبر 2022

امریکی اور برطانوی فوجی وفود کی یمن آمد کا مقصد آبنائے باب المندب پر ​​کنٹرول کرنا ہے:یمن

صنعا:خبر رساں ذرائع نے اس ہفتے امریکی اور برطانوی فوجی وفود کی یمن آمد کی اطلاع دی ہے جسے یمن کی تحریک انصار اللہ کے عہدیداروں نے اس ملک میں کشیدگی کے ایک نئے دور کے آغاز سے تعبیر کیا ہے۔

تقریب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن "علی القحوم” نے کہا: یمن میں امریکہ کی براہ راست فوجی موجودگی بالخصوص اس ملک کے مشرق میں واقع صوبہ حضرموت میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: یمنی جزائر میں امریکہ، انگلینڈ اور فرانس کی نقل و حرکت دیکھی جاتی ہے جس کا مقصد آبنائے باب المندب پر ​​کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔

المیادین نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں القہوم نے مزید کہا: متحدہ عرب امارات بھی "مایون” جزیرے کی آبادی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ہم اس جارحانہ رویے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہم ایسی کسی کارروائی کو قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے واضح کیا: یمن کی انصار اللہ کے پاس ایسی فوجی صلاحیت ہے جو اپنی طاقت، خودمختاری اور آزادی کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

علی القحوم نے کہا: آبی سلامتی کانفرنس جو عنقریب منعقد ہونے جا رہی ہے، یمن کی طاقت کے عوامل کی واضح تصویر پیش کرے گی اور صنعاء کی حکومت بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے واضح کیا: دشمن کو سمجھنا چاہیے کہ یمن نے فوجی صلاحیتیں جمع کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے پانی اور قومی تشخص کی حفاظت کرتا ہے۔

یمن کی انصار اللہ تحریک کے ایک سیاسی رکن نے کہا: یمن میں امریکہ کی براہ راست فوجی موجودگی ہے اور اس ملک میں امریکی فوجیوں کی آمد بالخصوص صوبہ حدر مط میں ہے اور برطانوی افواج بھی صوبہ المہرہ میں انڈیل رہی ہیں۔

انہوں نے گزشتہ ہفتے امریکی اور برطانوی فوجی وفود کی یمن آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفود کشیدگی کے دور کو شروع کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں لیکن یمنی عوام اپنی سرزمین کے وقار اور ہر حصے کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دشمن عورتوں کی آزادی نہیں، غلامی چاہتا ہے:آیت اللہ سید احمد خاتمی

تہران: آیت اللہ خاتمی نے عورت، زندگی اور آزادی کے نعرے کا ذکر کرتے ہوئے …