جمعرات , 1 دسمبر 2022

ایرانی میترا اور مھسا

(تحریر: محمد بشیر دولتی)

کئی سال پہلے عراقی بارڈر کے قریب کی بات ہے۔ بارڈر کے اُس طرف ایرانی شہر آبادان میں 1969ء میں ایک معصوم بچی نے آنکھ کھولی۔ بچی کی رنگت سانولی تھی۔ ماں نے ممتا سے بھری چاہت کے ساتھ اُس کا نام ”میترا“ رکھا۔ میترا فارسی میں سورج کو کہتے ہیں۔ دور "ہخامنشیان” میں یعنی ایرانِ قدیم میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی، جسے میتراٸیسم کہا جاتا ہے۔ چاند اور سورج کے آنے جانے اور گردش لیل و نہار کے سبب وقت گزرتا چلا گیا۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ میترا لاشعور سے شعور اور کمسنی سے رشیدگی کی طرف بڑھنے لگی۔ اسی دوران شب پرستوں نے صدام کے ذریعے ایران پر حملہ کروایا۔ امریکہ و مغرب اور عربستان کی طرف سے صدام کی مکمل پشت پناہی کے سبب یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ جنگ شروع ہوئی تو میترا اور اس کا خاندان ہجرت کرکے اصفہان چلا گیا۔ میترا نے ہوش سنبھالتے ہی شعوری کیفیت میں جو کام کیا، وہ سب سے جدا اور نرالا کام تھا۔ والدین کی مطیع و فرمان بردار بچی نے ایک روز نہایت معصومانہ اور متفکرانہ انداز میں اپنی ماں سے کہا کہ ”میرا نام میترا کی بجائے زینب رکھ دیا جائے۔”

بیٹی کے معصومیت بھرے اصرار کے سامنے ماں باپ نے ہار مان لی اور یوں بیٹی کا نام زینب رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ اس دن میترا بہت خوش تھی، چونکہ وہ اب میترا کی بجائے زینب تھی۔ اگلے دن ماں باپ نے قریبی عزیزوں کو کھانے کی دعوت دی۔ میترا نے روزہ رکھا اور افطاری کے وقت سب کے سامنے ماں نے بہت پیار بھرے لہجے میں اُسے جب "زینب” کہہ کر صدا دی تو وہ خوشی سے جھومنے لگی۔ سب نے درود پاک کی گونج میں اس نئے نام کا استقبال کیا اور یوں میترا اب زینب کہلانے لگی۔ زینب کو شہزادی زینب اور ان کی سیرت کے ساتھ ساتھ حجاب سے عشق تھا۔ وہ ہمیشہ باحجاب رہ کر کار زینبی انجام دینا چاہتی تھی۔ بچپن سے ہی حجاب کی یوں پابندی کرنے لگی کہ اسکول اور کلاس کی بچیاں بعض اوقات کمسنی میں اُس کا مذاق بھی اڑاتی تھیں، مگر وہ عشق کی اس راہ پر چلتی رہی۔

وہ عزت و وقار اور عفت کے اس لباس میں ہمیشہ ملبوس رہی۔ وہ بچپنے سے ہی دین دار، ایمان دار، عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کے جذبے سے بھی ہمیشہ سرشار رہتی تھی۔ جنگ کے دوران شہداء کے تشیع جنازے میں شرکت کرتی اور ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت و خدمت بھی کرتی تھی۔ زخمی مجاہدین سے حجاب کے متعلق سوالات کرتی اور پھر انہیں محفوظ بھی کرتی جاتی تھی۔ ہمارے پاس حجاب کے حوالے سے شہداء کے کافی اقوال شاید اسی معصوم بچی کی محنتوں کے سبب پہنچے ہوں۔ حجاب، قرآن، نماز، شہداء اور امام خمینی سے انتہاٸی قلبی لگاٶ کے سبب اس کی روح میں ایک پاکیزگی اور فکر میں بالیدگی آتی چلی گئی، جس کے سبب اسے انتہاٸی روح پرور، پرکیف و نورانی خواب آنے لگے۔ وہ اپنی روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ گھر میں والدہ کا ہاتھ بھی بٹاتی تھی۔ عبادات اور خدمت خلق کے ساتھ ساتھ وہ اسکول کا کام بھی وقت پر کرتی اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی انتہاٸی پیار و محبت سے پیش آتی تھی۔

وہ اسکول سے چھٹی ہوتے ہی گھر آنے کی بجائے نزدیک ہی مسجد میں جاتی تھی، پھر نماز پڑھ کر گھر آتی تھی۔ ایک دن نماز ظہر کے بعد اس کی ماں دسترخوان بچھا کر بیٹی کا انتظار کرتی رہی، لیکن زینب نہ پہنچ سکی۔ ماں کو طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ زینب کے بغیر گھر سنسان لگنے لگا تو بیٹی کو ڈھونڈنے گھر سے نکلی۔ مسجد سے اسکول تک ماں کی ممتا تڑپتی مچلتی چلی گئی، مگر زینب کہیں نہ ملی۔ شہداء کے جنازوں، قبرستانوں اور ہسپتالوں کا چکر کاٹنے لگی، مگر مایوس اور افسرہ بوجھل قدموں کے ساتھ ویران گھر کی طرف پلٹ گئی۔ کیچن سے صحن تک سب کچھ زینب کے بغیر وحشتناک دکھائی دے رہا تھا۔ سورج ڈوب گیا، رات کا اندھیرا چار سو چھاگیا، پھر سحر بھی ہوگئی، مگر اس ماں کی زندگی میں پھر سویرا نہ آسکا۔ تین دن بعد معصوم زینب کی لاش ملی۔ زینب کو اُسی کی ہی چادر گلے میں ڈال کر انتہاٸی بےدردی سے قتل کر دیا گیاتھا۔ زینب کی دین داری اور امام خمینی و شہداء سے محبت کے سبب منافقین نے اسے بےدردی سے قتل کیا تھا، اس قتل کو منافقین نے خود قبول بھی کیا۔

منافقین ایک باحجاب زینب سے خوفزدہ تھے۔ دشمن آج بھی باحجاب خواتین اور بچیوں سے خوفزدہ ہے۔ اس دور کے منافقین اور دشمن کے آلہ کار آج بھی ایران میں میترا سے مھسا تک کے سروں سے چادر اتارنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مھسا بھی زیبائی میں خوبصورت اور چاند جیسی تھی۔ وہ بھی اسم باالمسمیٰ تھی، لیکن ان میترا اور مھساؤں کو جھوٹ اور پرفریب نعروں کے گرہن لگنے میں دیر نہیں لکتی۔ ہوس کے بھوکے درندے انہیں حجاب سے نکال کر بے توقیر و بےعفت کرنا چاہتے ہیں۔ ماضی میں انہیں چادر پہننے کے جرم میں گلا گھونٹ کر مار دیا جاتا تھا، آج بھی ان کے سر سے حجاب چھین لیا جاتا ہے۔ مھسا جیسی لڑکیاں دو دن ہسپتال میں موت اور زیست کے درمیان رہیں تو عالمی میڈیا پر خاموشی چھاٸی رہی، مگر جب طبعی طور پر انتقال ہوگیا تو منافقین نے اپنے مقاصد کے لئے اُسے حضرت عثمان کا کرتا بنا لیا۔ دشمن ہماری باحجاب اور مقدس میتراؤں اور مھساؤں کی کہکشاں کو بلیک ہول میں بدلنا چاہتے ہیں۔ خدا دشمن کے مکر و فریب سے ان چاند ستاروں سے بھری کہکشاں کو سدا سلامت رکھے، آمین۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خان صاحب کو داد دیں

(تحریر : رؤف کلاسرا) وقت بھی کیا کیا ستم کرتا ہے۔ ایک سال پہلے تک …