پیر , 5 دسمبر 2022

بی بی سی فارسی کے اینکر کا اعتراف

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی)

امریکی صدر جوبائیڈن نے ایران میں کھلی مداخلت کا بیان دیتے ہوئے بلوائیوں کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے ریاست کیلی فورنیا میں اپنی پارٹی کے امیدوار مائک لوین کی حمایت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ایران کو آزاد کرائیں گے۔ امریکی حکام، ایران میں ہونے والے بلؤوں کی شروع سے ہی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اس دوران انھوں نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کئے جانے کا بھی اعلان کیا اور یہاں تک کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف ماحول بنانے کی بھرپور کوشش کی جبکہ انھیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ ایران میں ہونے والے بلؤوں کے پیچھے امریکہ اور بعض یورپی ملکوں کی کھلی مداخلت کارفرما رہی ہے، جبکہ ان ملکوں میں سرگرم عمل فارسی کے مخالف ٹی وی چینلوں سے ایران کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ بھی جاری رہا ہے۔

بی بی سی کے ایک اینکر کی لیک ہونے والی ایک اہم آڈیو فائل میں کھلم کھلا انکشاف موجود ہے کہ کس طرح ایران مخالف عناصر اور ان کا میڈیا ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور تقسیم در تقسیم کرنے کے ہدف پر عمل پیرا ہے۔

اتوار کی رات، بی بی سی فارسی کے اینکر "رعنا رحیم پور” کی گفتگو کی ایک آڈیو فائل سامنے آئی ہے، جس میں وہ کھل کر ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور تقسیم کرنے کے ہدف کے بارے میں بات کر رہا ہے اور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ حالیہ بلوؤں کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔ بی بی سی فارسی ایران میں جمہوریت کے لیے نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی تقسیم کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ اس آڈیو فائل میں رحیم پور نے واضح طور پر بتایا ہے کہ سعودی میڈیا "ایران انٹرنیشنل” میں اعلان کیا گیا ہے کہ صرف علیحدگی پسند جماعتوں کے رہنماؤں سے انٹرویو کرکے انہیں پلیٹ فارم دیا جائے گا۔ رعنا رحیم پور نے اپنے انسٹاگرام پیج پر اس آڈیو فائل کی صداقت کی تصدیق کی ہے۔ افشا ہونے والی یہ آڈیو فائل ایران کے حالیہ فسادات اور بی بی سی اور ایران (سعودی) انٹرنیشنل جیسے میڈیا کے بارے میں خود ایران مخالف میڈیا رپورٹرز کے واضح اعترافات میں سے ایک ہے۔

مہسا امینی کی موت کو بہانہ بنا کر ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے بیرونی دشمنوں کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور فسادات بھڑکانے کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انقلاب مخالف گروہ جیسے منافقین کا دہشت گرد گروہ ایم کے او، سلطنت طلبان اور علیحدگی پسند گروہ مثلاً کوملہ، دیموکریٹ، الاحوازیہ اور جیش العدل (جیش الظلم) نے بھی ایک ناکام کوشش کی۔ انہوں نے اپنے ایران مخالف اور علیحدگی پسند اہداف کے مطابق اس مسئلے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ایران انٹرنیشنل جیسے فارسی زبان کے غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے ایران کے واقعات کی زیادہ سے زیادہ کوریج کرتے ہوئے ایران میں افراتفری اور بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ گارڈین اخبار نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب ایران کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے لیے 250 ملین ڈالر کا خطیر بجٹ فراہم کرتا ہے۔

ایک سیاسی ماہر محمد صادق کوشکی کہتے ہیں: غیر ملکی ٹی وی چینلز اور ان کے سرغنہ "ایران انٹرنیشنل” ٹی وی نے معاشرے، بالخصوص نوجوان نسل کو تنازعات کی طرف دھکیلنے کی بھرپور اور منظم کوشش کی۔ ایران میں بدامنی پر پردہ ڈالنے کے سلسلے میں ایران انٹرنیشنل کا ایک اہم نقطہ نظر علیحدگی پسندی کی حوصلہ افزائی اور اس معاملے کو رنگین اور پسندیدہ بنانا تھا۔ اس حوالے سے گذشتہ ہفتوں میں ٹریبیون آف ایران انٹرنیشنل نے ہمیشہ علیحدگی پسند جماعتوں کے رہنماؤں جن میں عرب اور بلوچ بھی شامل ہیں، ان کو بہترین موقع اور پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ اس تناظر میں بلوؤں اور فسادات کے پہلے بیس دنوں میں 20 سے زائد علیحدگی پسند شخصیات سے مجموعی طور پر 50 بار انٹرویو کیے گئے۔ اس میڈیا میں بلاشبہ بی بی سی نے ایران کی علیحدگی پسندی اور ایران میں پرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے مزموم اہداف کے حصول کی پوری کوشش کی۔

اسلامی انقلاب کی فتح اور اسلامی جمہوریہ نظام کی تشکیل کے بعد سے علیحدگی پسند گروہوں کے ریکارڈ پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ وسیع بیرونی حمایت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ نظام کو کمزور اور ختم کرنے کے درپے ہیں اور آخرکار اس ایران کو توڑنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ علیحدگی پسند گروہ ہیں، جو ایران کے کردستان، خوزستان اور سیستان و بلوچستان جیسے علاقوں کے لوگوں کے خلاف ہر قسم کے جرائم کے ارتکاب کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں اور ہمیشہ دشمن کے آلہ کار کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ایران کے صدر مملکت نے اسی تناظر میں حالیہ بلووں اور فسادات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اعتراض کرنے اور بلووں، ہنگاموں اور آشوب پھیلانے جیسے اقدامات میں بہت فرق پایا جاتا ہے اور جو لوگ بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں، ان سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو لیبیا اور شام جیسا بنانے کی امریکہ اور ایران کے دشمنوں کی کوشش کے باوجود، آج ایران اور اس کے مختلف شہروں میں امن قائم ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ شکست کھا چکا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کیسے انڈیا کو چین کے ساتھ سرحد پر نظر رکھنے میں مدد کر رہا ہے؟

اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) میں انڈیا کے لیے مارکیٹنگ کے نائب صدر …