جمعہ , 9 دسمبر 2022

علامہ اقبال زندگی، فکر، فلسفہ و شاعری

(تحریر: ارشاد حسین ناصر)

مصور پاکستان، حکیم الامت، شاعر مشرق، مفکر پاکستان، علامہ سر محمد اقبال 9 نومبر1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ یہ متحدہ ہندوستان کا دور تھا، جب اس سرزمین پر انگریز سامراج قابض تھا، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایک عظیم فلاسفر، تحریک پاکستان کے اولین رہنماء و سیاستدان اور بلند قامت شاعر تھے، جنہوں نے اردو اور فارسی شاعری کے ذریعے ناصرف جدید دور کے شعراء میں ممتاز حیثیت پائی بلکہ اپنے فکر و فلسفہ کے باعث پورے خطے جن میں فارسی زبان کے زیادہ اثرات ہیں، میں اپنا ایک جداگانہ مقام پایا ہے، اہل فارس یعنی ایرانیوں کے علاوہ افغانستان، تاجکستان، آذربائیجان، ازبکستان اور فارسی بولنے والے تمام خطوں میں ان کو ایک بلند مرتبہ و مقام سے نوازا جاتا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں ان کی فکر و فلسفہ اور جہد مسلسل نیز شاعری میں پائی جانے والی گہرائیوں پر تحقیق و جستجو کا عمل جاری رہتا ہے۔

یونیورسٹیز اور تحقیق کرنے والوں کیلئے ان کا کلام ہمیشہ سے باعث کشش رہا ہے اور رہے گا۔ بہت سے لوگ انہیں ایک بلند قامت صوفی بھی سمجھتے ہیں، اس کی وجہ ان کے بعض اشعار ہیں۔ علامہ کی زندگی بہرحال ہم سب کیلئے ایک مشعل رہا ہے، جس کو جاننا بہت ضروری ہے۔ ان کی زندگی نامہ کے بارے میں دستیاب معلومات کی بنا پر یہی کہا و لکھا جاتا ہے کہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذوالقعدہ 1294ھ کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات بھی ہیں، مگر حکومت پاکستان سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی اقبال کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔

ابتدائی تعلیم
علامہ کے والد شیخ نور محمد دیندار اور مذہبی رجحان رکھنے والی شخصیت تھے۔ عمومی خیال ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے دینی تعلیم ہی کافی سمجھتے تھے۔ سیالکوٹ کے اکثر مقامی علماء کے ساتھ ان کے گہرے و دوستانہ مراسم تھے۔ اقبال بسم ﷲ کی عمر کو پہنچے تو انھیں مولانا غلام حسن کے پاس لے گئے۔ مولانا ابو عبد ﷲ غلام حسن محلہ شوالہ کی مسجد میں درس دیا کرتے تھے۔ شیخ نُور محمد کا وہاں آنا جانا تھا۔ یہاں سے اقبال کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حسبِ دستور قرآن شریف سے ابتداء ہوئی۔ تقریباً سال بھر تک یہ سلسلہ چلتا رہا کہ شہر کے ایک نامور عالم مولانا سید میر حسن ادھر آنکلے۔ ایک بچّے کو بیٹھے دیکھا کہ صورت سے عظمت اور سعادت کی پہلی جوت چمکتی نظر آرہی تھی۔ پوچھا کہ کس کا بچّہ ہے۔ معلوم ہوا تو وہاں سے اُٹھ کر شیخ نور محمد کی طرف چل پڑے۔ دونوں آپس میں قریبی واقف تھے۔ مولانا نے زور دے کر سمجھایا کہ اپنے بیٹے کو مدرسے تک محدود نہ رکھو۔ اس کے لیے جدید تعلیم بھی بہت ضروری ہے۔ انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ اقبال کو ان کی تربیت میں دے دیا جائے۔

کچھ دن تک تو شیخ نور محمد کو پس و پیش رہا، مگر جب دوسری طرف سے اصرار بڑھتا چلا گیا تو اقبال کو میر حسن کے سپرد کر دیا۔ ان کا مکتب شیخ نور محمد کے گھر کے قریب ہی کوچہ میر حسام الدین میں تھا۔ یہاں اقبال نے اردو، فارسی اور عربی ادب پڑھنا شروع کیا۔ تین سال گزر گئے۔ اس دوران میں سید میر حسن نے اسکاچ مشن اسکول میں بھی پڑھانا شروع کر دیا۔ اقبال بھی وہیں داخل ہوگئے، مگر پرانے معمولات اپنی جگہ رہے۔ اسکول سے آتے تو استاد کی خدمت میں پہنچ جاتے۔ میر حسن ان عظیم استادوں کی یادگار تھے، جن کے لیے زندگی کا بس ایک مقصد ہوا کرتا تھا: پڑھنا اور پڑھانا۔ لیکن یہ پڑھنا اور پڑھانا فقط کتاب خوانی کا نام نہیں۔ اس اچھے زمانے میں استاد مرشد اور رہنماء ہوا کرتا تھا۔ میر حسن بھی یہی کیا کرتے تھے۔ تمام اسلامی علوم سے آگاہ تھے، جدید علوم پر بھی اچھی نظر تھی۔ اس کے علاوہ ادبیات، معقولات، لسانیات اور ریاضیات میں بھی مہارت رکھتے تھے۔

شاگردوں کو پڑھاتے وقت ادبی رنگ اختیار کرتے تھے، تاکہ علم فقط حافظے میں بند ہوکر نہ رہ جائے بلکہ طرزِ احساس بن جائے۔ عربی، فارسی، اردو اور پنجابی کے ہزاروں شعر از بر تھے۔ ایک شعر کو کھولنا ہوتا تو بیسیوں مترادف اشعار سنا ڈالتے۔ مولانا کی تدریسی مصروفیات بہت زیادہ تھیں، مگر مطالعے کا معمول قضا نہیں کرتے تھے۔ قرآن کے حافظ بھی تھے اور عاشق بھی۔ شاگردوں میں شاہ صاحب کہلاتے تھے۔ انسانی تعلق کا بہت پاس تھا۔ حد درجہ شفیق، سادہ، قانع، متین، منکسر المزاج اور خوش طبع بزرگ تھے۔ روزانہ کا معمول تھا کہ فجر کی نماز پڑھ کر قبرستان جاتے، عزیزوں اور دوستوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھتے۔ فارغ ہوتے تو شاگردوں کو منتظر پاتے۔ واپسی کا راستہ سبق سننے اور دینے میں کَٹ جاتا۔ یہ سلسلہ گھر پہنچ کر بھی جاری رہتا، یہاں تک کہ اسکول کو چل پڑتے۔ شاگرد ساتھ لگے رہتے۔ دن بھر اسکول میں پڑھاتے۔ شام کو شاگردوں کو لیے ہوئے گھر آتے، پھر رات تک درس چلتا رہتا۔

اقبال کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ خود وہ بھی استاد پر فدا تھے۔ اقبال کی شخصیت کی مجموعی تشکیل میں جو عناصر بنیادی طور پر کارفرما نظر آتے ہیں، ان میں سے بیشتر شاہ صاحب کی صحبت اور تعلیم کا کرشمہ ہیں۔ سید میر حسن سر سید کے بڑے قائل تھے۔ علی گڑھ تحریک کو مسلمانوں کے لیے مفید سمجھتے تھے۔ علامہ اقبال نے ابتدائی تعلیم اپنے شہر میں حاصل کی۔ بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ 1898ء میں اقبال نے بی اے پاس کیا اور ایم اے (فلسفہ) میں داخلہ لے لیا۔ یہاں پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ کا تعلق میسّر آیا۔ جنھوں نے آگے چل کر اقبال کی علمی اور فکری زندگی کا ایک حتمی رُخ متعین کر دیا۔ مارچ 1899ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پنجاب بھر میں اوّل آئے۔ اس دوران میں شاعری کا سلسلہ بھی چلتا رہا، مگر مشاعروں میں نہ جاتے تھے۔ نومبر 1899ء کی ایک شام کچھ بے تکلف ہم جماعت انھیں حکیم امین الدین کے مکان پر ایک محفلِ مشاعرہ میں کھینچ لے گئے۔

بڑے بڑے سکّہ بند اساتذہ، شاگردوں کی ایک کثیر تعداد سمیت شریک تھے۔ سُننے والوں کا بھی ایک ہجوم تھا۔ اقبال چونکہ بالکل نئے تھے، اس لیے ان کا نام مبتدیوں کے دور میں پُکارا گیا۔ غزل پڑھنی شروع کی، جب اس شعر پر پہنچے کہ:
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
کہتے ہیں کہ اس مشاعرہ میں تو اچھے اچھے استاد ایک نو آموز نوجوان شاعر کو سن کر اُچھل پڑے۔ بے اختیار ہو کر داد دینے لگے۔ یہاں سے اقبال کی بحیثیت شاعر شہرت کا آغاز ہوا۔ ایم اے کرنے کے بعد اقبال نے اورینٹل کالج میں عربی بھی پڑھائی، اس کے بعد گورنمنٹ کالج میں انگریزی و فلسفہ بھی پڑھاتے رہے۔ یہی سے آپ نے اعلیٰ تعلیمی مدارج طے کرنے کیلئے انگلستان کا رخ کیا۔ انگلستان میں میں کیمبرج میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں کچھ مشاورت سے مینوخ یونیورسٹی جرمنی میں پی ایچ ڈی فلسفہ میں داخلہ لیا۔

تعلیم حاصل کرنے کے بعد علامہ اقبال نے قانون کی پریکٹس شروع کی، تاہم ان کی دلچسپی مذہب اور فلسفہ رہی، انہوں نے سیاست، اقتصادیات، تاریخ، فلسفہ اور مذہب پر بہت کام کیا۔ اقبال کے شاعری میں جو ندرت پائی جاتی ہے، اس کا اس خطے کے شعراء میں ان کا مقابل نہیں، اس کے باوجود صاحبان نظر بعض اسکالرز ان کے فلسفہ خودی کو اور بعض ان کے اسلامی سیاسی بحالی اور مغربی سائنسی اور ثقافتی اثرورسوخ کو مسترد کرنے کے تصورات اور خیالات سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں اسلام کے عملی رجحانات کے تصور سے بھی بعض نامور اسکالرز اختلاف رکھتے ہیں اور اسے موجودہ دور کے سائنسی اور ثقافتی دور میں ناقابل عمل قرار دیتے ہیں۔

شاعری کے حوالے سے اگرچہ انہیں بہت بڑا شاعر تسلیم کیا گیا بلکہ انہیں شاعر مشرق کے خطاب سے بھی نوازا گیا، تاہم بعض تنقید نگاروں کا موقف ہے کہ ابتداء میں علامہ اقبال نے فارسی میں جو شاعری کی، اس کے مقابلے میں ان کی اردو شاعری میں وہ تاثر، اپنائیت اور روایتی رائج انداز کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ علامہ اقبال آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم رہنماء رہے اور انہوں نے ہی 1930ء کے صدارتی خطاب میں سب سے پہلے مسلمانون کے جدا وطن یعنی پاکستان کے قیام کا مطالبہ کیا۔ علامہ اقبال نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں علیحدہ وطن، دینی شناخت کا شعور بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اپنی شاعری کے ذریعے انہوں نے معرکۃ الاداعظم، طلوع اسلام تخلیق کی۔ 1923ء میں جب یونان نے ترکی پر حملہ کیا تو علامہ اقبال کا دل چیخ اٹھا، وہ اس حملے کو ترکی پر نہیں بلکہ اسلام پر حملہ سمجھتے ہیں اور اس دوران انہوں نے نظم طلوع اسلام لکھی جو ان کی شاعری میں کالسک کا درجہ رکھتی ہے۔

علامہ اقبال نے قائداعظم کے ساتھ مل کر قیام پاکستان کیلئے جدوجہد کی، وہ اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں اسلام، اتحاد اور علیحدہ وطن کی اہمیت کو اجاگر کرتے رہے۔ خطبہ الہٰ آباد میں علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ پیش کیا، جس کے تحت انہوں نے شمال مغربی علاقوں پر مشتمل اسلامی مملکت کا تصور پیش کیا۔ علامہ اقبال کے نثری کارناموں میں 1930ء میں لکھے گئے اسلام میں مذہبی خیالات کی تعمیر نو نے زبردست پذیرائی حاصل کی۔ اس نثری شہہ پارے میں علامہ اقبال نے مذہبی خیالات کی تعمیر نو کی ضرورت اجاگر کی۔ دوسرا شاہکار مذہب بمقابلہ فلسفہ تھا، جس میں انہوں نے دنیا کے خدوخال اور کردار پر بحث کی۔ 1908ء میں این پی ایچ ڈی کیلئے لکھے گئے علامہ اقبال کے تھیسز کو بھی شاہکار قرار دیا گیا ہے۔ 1930ء میں الٰہ آباد میں ان کا صدارتی خطاب بھی ان کی زبردست تخلیقی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اردو میں علامہ اقبال کی شاعری کے چار مجموعے بانگ درا، بال جبرئیل، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز شائع ہوئے۔ علامہ اقبال اردو کے پہلے شاعر ہیں، جن کا اپنا ایک مستقل پیام ہے اور فلسفہ حیات بھی ہے۔ اسی بنیاد پر ان کو شاعر انقلاب اور پیامبر شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ علامہ کو شاعر مشرق اور فلسفی شاعر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ابتداء میں انہوں نے غزل گوئی کی اور داغؔ کے رنگ میں غزلیں بھی کہیں، لیکن انہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ نظم گوئی شروع کی اور نظم کی طرف مائل ہوگئے۔ اقبال نے اپنی شاعری کا آغاز بطور غزل گو شاعر کے کیا، لیکن اقبال کو نظم کا شاعر کہا جاتا ہے۔ ان کی نظموں میں حب الوطنی کی نمایاں تصویر نظر آتی ہے۔ علامہ اقبال کی وہ نظمیں جن میں ہمیں حب الوطنی اور امت مسلمہ کو دعوت عمل کا درس ملتا ہے۔ ان میں ہندوستانی بچوں کا قومی گیت، ترانہ ملی، نیا شوالہ، وطنیت، خطاب بہ نوجوانان ِ اسلام، ہلال عید، آفتاب، تصویرِ درد، ترانہ ہندی شامل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جرمنی: تختہ الٹنے کی مبینہ سازش

(پال کربی) حراست میں لیے جانے والے افراد میں خود کو ہنریک دواز دہم کہلوانے …