ہفتہ , 10 دسمبر 2022

یمن: سعودی اتحاد کے ہتھیاروں کا گودام تباہ

صنعا:جارح سعودی اتحاد کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ مآرب پر یمن کی نیشنل سالویشن حکومت کی جانب سے کئے جانے والے میزائل حملے میں اس علاقے میں سعودی اتحاد کے آلہ کاروں کا ہتھیاروں کا گودام تباہ ہو گیا۔

جارح سعودی اتحاد کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر مآرب میں سعودی اتحاد کے آلہ کاروں کے ہتھیاروں کے ڈپو پر یمن کی نیشنل سالویشن حکومت کی جانب سے ہونے والے میزائل حملے میں نہ صرف یہ شہر لرز اٹھا بلکہ سعودی اتحاد کے آلہ کاروں کے یہ ہتھیار بھی تباہ ہو گئے۔یمنی فوج نے اب تک اس سلسلے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ یمن میں فائر بندی کے بارے میں صلاح و مشورے کا عمل اچھے مرحلے میں پہنچ گیا تھا مگر یمن کے امور میں امریکا کے خصوصی ایلچی کے علاقے کے دورے سے فائر بندی کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔

یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں فائر بندی ٹائم بم کی مانند بن گئی ہے اور جارح سعودی اتحاد اس نتیجے پر پہنچ گیا ہے کہ اسے یمنی عوام کے خلاف مسلط کردہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جارح سعودی اتحاد میں شامل بعض ممالک کو اپنے رویے پر نظر ثانی کئے جانے کی ضرورت ہے اور اگر یہ ممالک ایسا کرتے ہیں تو یمنی عوام ان کے اس اقدام کا خیر مقدم کریں گے۔

یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے یمن میں فائر بندی سے متعلق امریکی کردار کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ یمن میں جنگ بندی کی مدت میں کوئی توسیع ہو۔

انھوں نے کہا کہ یمنی عوام کے خلاف مسلط کردہ جنگ سے سعودی اتحاد میں شامل بعض جارح ملکوں نے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور اسی لئے وہ سیاسی و فوجی صورت حال میں ایک دھماکہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی اتحاد کی جانب سے ہمیشہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے اقوام متحدہ کی کوششوں سے دو بار جنگ بندی کی مدت میں توسیع بھی کی گئی اور اب دوسری بار کی مدت دو اکتوبر کو ختم ہو گئی ہے۔ اب تک چھے ماہ تک جنگ بندی رہی ہے جبکہ اس دوران سعودی اتحاد یمن کو مسلسل جارحیت کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ کو سعودی اتحاد نے یمن پر جارحیت شروع کی اور اس وقت سے اب تک ہزاروں یمنی عام شہری شہید وزخمی ہو چکے ہیں جن میں تین ہزار سات سو بیالیس بچے بھی شہید اور تین ہزار نو سو بیانوے دیگر بچے زخمی ہوئے ہیں۔

یہی نہیں سعودی اتحاد نے امریکہ اور اپنے اتحادی ملکوں کی حمایت سے یمنی عوام کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے اور وہ غذائی اشیا اور دوائیں نیز ایندھن تک یمن منتقل نہیں ہونے دے رہا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

ترک فوجی عراقی کردستان کی سرحدی پٹی پر کیوں تعینات ہوئے؟

بغداد:عراق ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک فوجی، عراقی کردستان کے ساتھ ملنے والی سرحدی …