ہفتہ , 10 دسمبر 2022

ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل اور ترکیہ کا نیا گٹھ جوڑ

تہران: عالمی استکبار کا بنیادی ہدف مقاومتی بلاک کے مرکز کو کمزور کرکے عدم استحکام سے دوچار کرتا رہا ہے، جس کے حصول کے لئے امریکی سامراج اور اس کے لے پالک طفیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے رہیں۔ جس کی واضح مثال امریکہ،اسرائیل اور ترکیہ کا تزویراتی گٹھ جوڑ ہے جو ایران میں ہونے والی حالیہ شورش میں اپنا رنگ دکھانے لگا ہے۔

رپورٹ کے مطابق،عالمی استکبار کا بنیادی ہدف مقاومتی بلاک کے مرکز کو کمزور کرکے عدم استحکام سے دوچار کرنا رہا ہے، جس کے حصول کے لئے امریکی سامراج اور اس کے لے پالک طفیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے رہیں۔ جس کی واضح مثال امریکہ،اسرائیل اور ترکیہ کا تزویراتی گٹھ جوڑ ہے جو ایران میں ہونے والی حالیہ شورش میں اپنا رنگ دکھانے لگا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، ایرانی وزارت اطلاعات نے ایران کے صوبے شیراز میں واقع شاہ چراغ کے مزار پر ہونے والی حالیہ دہشتگردانہ کاروائی میں ملوث بیرونی ایجینٹس کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے مذکورہ واقعے میں دخیل بیرونی عناصر کی سرپرستی کرنے والے ممالک کو سکیورٹی طرز کا متناسب جواب دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

یاد رہے کہ وزارت اطلاعات نے مذکورہ دہشتگردانہ کاروائی میں آذربایجان کی سرپرستی، افغانستان میں طالبان کا کنٹرول اور داعش کو لانچ کرنے کا درپردہ پلان اور اسی طرح تاجیکستان اور ترکیہ کے گٹھ جوڑ کو غاصب صیہونی رجیم اور امریکہ کی تزویرات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے حساب چکانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔مذکورہ واقعے کے ماسٹر مائنڈ کا تعلق آذربایجان سے بتایا گیا ہے جبکہ کاروائی میں ملوث دہشتگردوں کا تعلق افغانستان اور تاجیکستان سے ہے۔

واضح رہے کہ مغربی ایشیا میں مقاومتی بلاک کی مستحکم اقدامی پوزیشن سے خائف مغربی استکبار اور اس کے علاقائی چیلے ہائبرڈ وار کے ذریعے اپنے ٹارگٹس حاصل کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں لیکن انہیں ہر بار ذلت آمیز شکست کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یورپ کے نئے پابندیوں کے پیکج کا ہدف روس کا دفاعی شعبہ ہے

لندن:روس کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کے نئے پیکج، جو آنے والے دنوں میں …