ہفتہ , 10 دسمبر 2022

عمران خان کیا چاہتے ہیں؟

(محمد خان ابڑو)

عمران خان پر قاتلانہ حملہ ایک سفاک اور بزدلانہ اقدام ہے، جس کی یہ طالب علم بھرپور مذمت کرتا ہے اور ان کے ساتھ اس حملے میں جو شخص شہید ہوا، اس کےلئے پنجاب اور وفاقی حکومت سے انصاف کی بھیک مانگتا ہوں، اسے جس شخص کی گولی لگی اس کا تعین کرنا بھی بہت ضروری ہے، اگر عمران خان کے گارڈز کی گولی لگی ہو تو بھی اس کے ورثاء کو انصاف فراہم کیا جائے کیوں کہ عمران خان کی جان جتنی اہم ہے اتنی ہی جان وہ اہم تھی جو اس جہان فانی سےچلی گئی اور جس کے بچے اس کی لاش پر بیٹھے ماتم کررہے تھے مگر کوئی ان کا غم غلط کرنے والا نہیں تھا۔ اس حملے کی تحقیقات ہونا بہت ضروری ہیں اور یہ بھی تعین کرنا ضروری ہے کہ عمران خان کے کنٹینر سے کتنی گولیاں چلیں۔ ویسے تو عمران خان نے ہمیشہ ایسے حملوں کا نشانہ بننے والوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایاہے۔ آج جس ذہنیت کا نشانہ عمران خان بنے ہیں اس ذہنیت کو پروان بھی انہوں نےہی چڑھایا ہے۔

آج ملک میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں وہ ذہنیت ہی سامنے آرہی ہے جس کی آبیاری عمران خان کرتے آئے ہیں ، عمران خان کا خاصہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے بیانات سے یوٹرن لینے اور جھوٹ بولنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ وہ آج ایک بات کر کے کل مکر جائیں گے اور اس پر شرمندگی بھی محسوس نہیں کریں گے، لیکن عمران خان چاہتے کیا ہیں ؟ اس سوال کا سادہ سا جواب ہے ’’اقتدار‘‘ ،آج انہیں اقتدار مل جائے تو ان کی تمام اداروں سے شکایات دورہو جائیں گی اور وہ سب کااحترام کرنے لگیں گے، وہ جس شخص پر ہمیشہ تنقید کرتے ہیں اور جس شخص کے پاس عدم اعتماد کی تحریک کے وقت انہیں صدر پاکستان بنانے کا پیغام بھیجا تھایعنی صدر آصف علی زرداری بھی اگر عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے میں اپنا کردار ادا کردیں تو کوئی شک نہیں کہ وہ آصف علی ذرداری کو ’’مائی باپ‘‘ کہتے دکھائی دیں گے۔

ویسے اس کے لئے وہ راضی ہوگئے تھے اور انھوں نے ایک رئیل اسٹیٹ کے کنگ کے ذریعے آصف علی زرداری کو پیغام بھی بھیجا تھا، لیکن آصف علی زرداری نے منع کردیا، کیوں کہ آصف علی زرداری کو اندازہ تھا کہ جو شخص سر عام محاذ آرائی کے علاوہ الزام تراشی کرے اور القابات سے نوازے اور جب لاہور سے نکلے تو ہر چوک پر چند سو آدمی ہی اکھٹےہوں تو لوگوں کے شریک نہ ہونے کے غصے میں وہ اداروں کو گالیاں دے اور یہ بھی باور کروارہا ہے کہ عوام میرے ساتھ ہیں، میں خون ریزی بھی کرواسکتا ہوں لہٰذا میں جو چاہتا ہوں وہ مجھے دے دیا جائے لیکن اداروں کو تو احساس ہے کہ اس شخص نے بطور وزیر اعظم کیا کارکردگی دکھائی اور آصف علی ذرداری کو بھی علم تھا کہ یہ شخص نااہل نہیں نااہل ترین ہے۔ عمران خان نے جو حشر خیبرپختونخوا کا کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے، جو صوبہ پاک فوج نے دہشت گردوں سے پاک کر کے سول انتظامیہ کے حوالے کیا تھا، وہاں جنگلات سے لکڑی رات تو رات دن میں بھی کاٹی جارہی ہے، جنگل کے جنگل بیچ دیئے گئے ہیں۔ صوبے میں مبینہ طور پر دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے، پی ٹی آئی کے وزراصبح شام اپنےکام چھوڑ کر بنی گالہ کے باہر قطار بنائے کھڑے رہتےہیں، پنجاب میں عثمان بزدار نے تباہی کی جو بنیاد رکھی تھی، پرویز الٰہی ششدر ہیں کہ کریں توکیا کریں، کیوں کہ صوبہ توتباہ ہوچکا ہے۔

جی ہاں یہ معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، یہ اپنے اقتدار کے لئے ہر وہ کام کرسکتے ہیں جس سے ملک کو نقصان پہنچے، یہ ہر وہ کام بھی کرسکتے ہیں جن سے ان کے انتقام کی آگ ٹھنڈی ہوتی ہو۔ عمران خان کومگراقتدار مل بھی جائے تو کیا وہ مطمئن ہوجائیں گے ؟ نہیں یہ مل بھی جائے تو وہ مطمئن نہیں ہوں گے، اس لئےکہ وہ جب سے سعودی بادشاہ سے ملے ہیں ان کے ذہن میں ایک ہی دھن سوار ہے کہ انہیں اب وزیر اعظم نہیں بننا، بادشاہ بننا ہے، اس مقصد کےلئے وہ لانگ مارچ کرر ہے ہیں جب کہ یہ لانگ مارچ نہیں بلکہ ’’رانگ مارچ‘‘ ثابت ہورہا ہے، یہ مارچ خونی بھی ثابت ہورہا ہے۔ اس خونی مارچ میں قوم کی ایک بیٹی شہید ہوگئی لیکن پی ٹی آئی کے ان رہنمائوں کو احساس نہیں ہوا، عمران خان کے اس مارچ میں اب تک تین معصوم جانیں جا چکی ہیں، لیکن اس کے باوجود عمران خان کے کان پر کوئی جوں نہیں رینگی۔ ذرا احساس نہیں کہ ان جانوں کے زیاں کو کیسے روکا جائے، عمران خان کا خواب بادشاہ بننا ہے مگر یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا، وہ ملک میں بادشاہت چاہتے ہیں، ملک میں جمہوریت کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں، سندھ، پنجاب ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردوں کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں کیوں کہ وہ بھی اس ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے تھے، پاکستان کے عوام اب کسی کو افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے، عمران خان ملک میں افراتفری پھیلا کر بادشاہ بننا چاہتے ہیں، پاکستان میں ایسے کسی اقدام کی نہ کل گنجائش تھی نہ آج ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کیا سعودی عرب اب امریکہ کے بجائے چین جیسے نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے؟

(فیصل محمود علی) چینی صدر شی جن پنگ سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ …