جمعہ , 9 دسمبر 2022

کیا کرہ ارض پر موجود وسائل 8 ارب کی آبادی کے لیے کافی ہیں؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جو بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر منصوبہ سازوں کو پریشان کرتا آیا ہے۔ لیکن سائنسدانوں کے خیال میں اس سے زیادہ بڑا مسئلہ امیر طبقے کا ضرورت سے زیادہ وسائل کا استعمال ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کی سربراہ نٹالیا کانیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ 8 ارب آبادی کے سنگ میل کا حصول انسانیت کے لیے انتہائی تاریخی لمحہ ہے لیکن بہت لوگوں کے لیے یہ باعثِ تشویش بھی ہے۔

انہوں نے زیادہ آبادی سے جڑے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ واضح کر دوں کہ انسانوں کی یہ تعداد خوفزدہ ہونے کا سبب نہیں ہے۔‘15نومبر کو دنیا کی آبادی 8 ارب کو پہنچ جائے گی لیکن کیا یہ مخلوق کرہ ارض پر موجود وسائل کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے؟

اکثر ماہرین کے خیال میں یہ سوال آبادی کے اضافے کا نہیں ہے بلکہ ایک محدود طبقے کا زیادہ سے زیادہ وسائل پر قبضے کا ہے۔امریکہ کی روکیفیلر یونیورسٹی میں پاپولیشن لیبارٹری کے بائیولوجسٹ جوئیل کوہن کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کی قدرتی حدود اور انسانوں کی خواہشات یہ دو ایسے نکات ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ زمین پر وسائل انسانوں کی کتنی بڑی تعداد کے لیے کافی ہیں۔

’ہم بے وقوف اور لالچی ہیں‘
انسانوں کی خواہشات جنگلات اور زمین جیسے حیاتیاتی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال کا سبب بنتی ہیں جو دوبارہ اتنی تیزی سے پیدا بھی نہیں ہو سکتے۔ جیسے حیاتیاتی ایندھن کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بھی زیادہ ہو رہا ہے جو درجہ حرارت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

بائیولوجسٹ جوئیل کوہن کا کہنا ہے کہ ’ہم بے وقوف ہیں۔ ہم میں دور اندیشی کی کمی ہے۔ ہم لالچی ہیں۔ ہم ان معلومات کا استعمال ہی نہیں کرتے جو ہمارے پاس موجود ہیں۔‘

امریکی محقق جنیفر سکیوبا کا کہنا ہے کہ انسانوں کے زمین پر اثرات کی وجہ ان کی تعداد نہیں بلکہ ان کا رویہ ہے۔
’اس کی وجہ میں اور آپ ہی ہیں۔ جو ایئر کنڈیشن میں انجوائے کرتی ہوں، جو سوئمنگ پول میرے گھر میں ہے اور ہر رات جو گوشت میں کھاتی ہو، یہ تمام عناصر زمین کو بہت زیادہ نقصان پہنچانے کی وجہ بنتے ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق سال 2050 تک دنیا کی آبادی 9.7 ارب ہو جائے گی۔ماحولیاتی تبدیلیوں پر کام کرنے والی تنظیم ’پروجیکٹ ڈرا ڈاؤن‘ کے مطابق تعلیم اور خاندانی منصوبہ بندی یعنی آبادی پر قابو پانا گلوبل وارمنگ کے مسائل کے حل میں سے ایک ہیں۔

پروجیکٹ ڈرا ڈاؤن کے مطابق پائیدار وسائل اور کم آبادی کے ذریعے ہی توانائی، نقل و حمل، خوراک اور دیگر وسائل کی طلب میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

تحقیقاتی ادارے ورلڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ونیسا پیریز اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ ہر نئے پیدا ہونے والے انسان سے وسائل پر بوجھ بڑھتا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مسئلہ انسانوں کی تعداد کا نہیں ہے بلکہ ’تقسیم اور مساوات‘ کا ہے۔

بائیولوجسٹ جوئیل کوہن بھی یہی نکتہ اٹھاتے رہے ہیں کہ اگر زمین پر موجود وسائل 8 ارب کی آبادی کو خوراک فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں لیکن اس کے باوجود 8 کروڑ لوگ ایسے ہیں جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔بشکریہ نیوز اردو

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جرمنی: تختہ الٹنے کی مبینہ سازش

(پال کربی) حراست میں لیے جانے والے افراد میں خود کو ہنریک دواز دہم کہلوانے …