جمعرات , 8 دسمبر 2022

کوپ 27، سیلاب، موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوپ 27 کانفرنس موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے خلاف سنگ میل ثابت ہوگی۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو نظر انداز کرنا مجرمانہ غفلت ہوگی۔مصر کے ساحلی سیاحتی مقام شرم الشیخ میں موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کا سربراہی اجلاس ’’کوپ 27‘‘ کا گزشتہ روز مصر سے آغاز ہوگیا جہاں کاربن گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں سے پیچھے ہٹنے کے خلاف انتباہ اور امیر ممالک سے قدرتی آفات کے بعد غریب ممالک کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

خبر رساں ادارے ’’ اے ایف پی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ چند ماہ کے دوران قدر تی آفات نے دنیا بھر میں ہزاروں افراد کو ہلاک ، لاکھوں کو بے گھر اور اربوں کا نقصان پہنچایا ہے۔ بڑے پیمانے پر سیلاب نے پاکستان اور نائیجیریا کے کئی علاقوں کو تباہ کر دیا، افریقہ اور مغربی امریکا میں خشک سالی ہوئی، سمندری طوفانوں نے کیریبین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور 3 براعظموں کو بدترین گرمی کی لہروں کا سامنا رہا۔

اس قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے غریب ممالک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے زیادہ سے زیادہ قرضہ لینا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان موسمی آفات کی تعداد میں اب اضافہ ہوتا جائے گا اور ساتھ ہی جنوبی ایشیا میں امیروں اور غریبوں کے درمیان دولت کا فرق بھی بڑھتا جائے گا۔

یہ ایک مسئلہ ہے کیونکہ ہنگامی خدمات، قدرتی آفات کے انتظام اور ان سے بچاؤ اور اس حوالے سے عوامی آگہی ایسی چیزیں ہیں جن میں سرمایہ کاری کرنے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔ عالمی برادری نے پاکستان کی وہ مدد نہیں کی جو اسے کرنی چاہیے تھی ، کیونکہ ابھی تک جو ملا ہے وہ معمولی امداد ہے جب کہ زیادہ تر قرض ہی دیا جا رہا ہے۔

بلاشبہ سائنس دانوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ کو 1.5 ڈگری کی سطح پر رکھنے کے لیے ہمیں زہریلی گیسوں کے اخراج میں 2030 ء تک 45 فیصد کی کمی کرنا ہوگی لیکن اس سلسلے میں دنیا بھر میں کی جانے والی کوششیں تاحال انتہائی ناکافی ہیں۔

انتہائی تشویش کی بات یہ ہے کہ ماہرین نے اگلے 5 سال میں گرمی کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ موسمیات کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 40 فیصد یہ امکان موجود ہے کہ اگلے 5 برسوں میں دنیا کا درجہ حرارت اس حد سے آگے بڑھ جائے گا جس سے آب و ہوا سے متعلق پیرس معاہدہ کے ذریعہ بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کاربن گیسوں کے اخراج میں مسلسل اضافہ سے کرۂ ارض کا درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری طوفانوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہو رہا ہے جو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔

موسموں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں طوفانوں، سیلابوں، شدید بارش اور افریقہ سمیت دنیا کے کئی علاقوں میں خشک سالی میں اضافہ ہوا ہے جس سے خوراک اور پانی کی دستیابی میں قلت کے باعث لاکھوں افراد کو عالمی امداد کی شدید ضرورت ہے۔

2010 کے شدید سیلاب کے فوری بعد پاکستان کی حکومت نے مغربی دارالحکومتوں سے معلومات حاصل کرنا شروع کیں ۔ یہ پیشگوئیاں سائنسی اعداد و شمار پر مبنی تھیں کیونکہ پاکستانی علاقہ دو موسمی نظاموں کے سنگم پر واقع ہے۔

تازہ ترین سیلاب کے بارے میں بھی سائنسی برادری متفق ہے کہ پاکستان دنیا کے ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں دو بڑے موسمی نظاموں کے اثرات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

ایک نظام زیادہ درجہ حرارت اور خشک سالی جیسے مارچ میں گرمی کی لہر کا سبب بن سکتا ہے اور دوسرا مون سون کی بارشیں لے کر آتا ہے۔ ہم نے موقع بھی گنوا دیا اور خطرے کو بھی نظر انداز کردیا۔

دس سال کے درمیانی عرصے میں ہم نے اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے کچھ نہیں کیا جس کی جانب عالمی برادری نے ہماری توجہ مبذول کروائی تھی ، گو اقتدار کی راہداریوں میں یہ احساس پنپتا جا رہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی اور اس سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آفت پاکستان کے لیے مستقبل میں سیکیورٹی خطرہ بن جائے گی ، لیکن عملی طور پر اس پر کام نہ ہونے کے برابر رہا۔

لاہور کو ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا تو حیران کن طور پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے خاندان کی شادیوں میں شرکت کرنے بڑی تعداد میں وطن آتے ہیں اور شادیاں بھی جاری رہتی ہیں۔ کسی کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا ہے کہ بچے اسکول نہیں جاسکتے یا پھر شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت ممکن نہیں ہے۔

کوئی اس بات پر توجہ نہیں دے رہا تھا کہ قدرت ہم سے کچھ کہہ رہی ہے، وہ ہماری توجہ کی متقاضی ہے اور ہماری عادتوں اور طرزِ عمل میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔

یہ دونوں حالات ویسے تو ایک دوسرے سے تعلق نہیں رکھتے لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ہی نتیجہ ہیں۔ چاہے وہ سمندروں کے درجہ حرارت بڑھنے کے سبب تقریباً ہر سال کراچی میں سیلاب کا باعث بننے والی بارشیں ہوں یا پھر ماحول میں جمع ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ، جس نے موسموں کی ترتیب کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔

موسمی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہنگامی حالات کی منصوبہ بندی اس خیال کے ساتھ کی جائے کہ شدید موسمی حالات کا سامنا اب کبھی کبھار نہیں بلکہ اکثر کرنا پڑے گا ، وہ سیلاب جو کبھی 10 سال میں ایک مرتبہ آتا تھا وہ اب ہر سال آئے گا۔ اب موسمِ سرما میں کئی مرتبہ ریکارڈ برفباری ہوگی۔

جنوبی ایشیا کے لیے صرف موسمی حالات ہی مشکلات نہیں کھڑے کریں گے بلکہ دریاؤں میں پانی کی کمی اور خشک سالی کے باعث غذائی قلت اور زمینی حالات کی تبدیلی کا بھی خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔پاکستان کے تناظر میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ یہاں ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور برآمدات کا انحصار زرعی شعبے پر ہی ہے۔

آنے والے وقتوں میں پاکستان کو اس زاویہ نگاہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے کہ جس سے وہ سیاسی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی اقدامات کو دیکھتا ہے۔موسمیاتی بحران سے براہ راست متاثر ہونے والے افراد کی ضروریات سے نمٹنے کے لیے ایک بین الضابطہ نقطہ نگاہ ترتیب دینا ناگزیر ہے۔

عملی شکل میں ڈھالے جانے پر یہ متعلقین سے روابط قائم کرنے ، عملی احتساب کے لائحہ عمل یا حکومتی سرگرمیوں میں موسمیاتی اقدامات کی شمولیت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی اور حکمت عملی کی تیاری سے آگے بڑھتے ہوئے اس کے نفاذ کے لیے کام ہی تعمیری نتائج کی کنجی ہوگا۔

پالیسیوں کے نفاذ میں شعبہ جاتی تخصیص ہونی چاہیے کیونکہ معاشرتی و سیاسی شعبہ جات میں اٹھائے جانے والے موسمیاتی اقدامات معاشی یا دفاعی شعبوں کی ضروریات سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ این ایس پی کے تشکیل کردہ ماڈل پر عمل کرے اور سلامتی کے تمام شعبوں میں سرکاری و نجی متعلقین سے رابطے کرے تاکہ ملک کے لیے ہر شعبے کو لاحق خطرات کی علیحدہ علیحدہ پرو فائل تیار کی جا سکے۔

اس کے بعد ہی نفاذ کے پس پشت تمام شعبہ جات کے متعلقین ہوں گے جب کہ موسمیاتی نزاکتوں اور موسم سے موافقت کے فروغ پر توجہ ہوگی۔ ملک میں شدید نوعیت کی موسمی آفات سے مختلف شعبہ جات پر پڑنے والے منفی اثرات کے باعث پاکستان کی جامع قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ اب یہ محض معاشی سلامتی بمقابلہ روایتی سلامتی کا معاملہ نہیں رہا ہے۔

قومی سلامتی ان میں سے کسی ایک کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ قومی طاقت تمام عناصر اور وسائل پر مبنی ہوتی ہے جو ریاست کو اپنے مفادات کے حصول کے قابل بناتے ہیں۔ لہٰذا یہ تمام عناصر، وسائل اور شعبہ جات اس کی سلامتی میں حصے دار ہیں۔

گویا کثیرالشعبہ جاتی خطروں کی اس بساط سے نمٹنے کے لیے قومی سلامتی کو اس جامع نگاہ سے دیکھا جانا ضروری ہے کہ جس میں تمام شعبہ جات پر یکساں توجہ ہو جب کہ موسمیاتی سلامتی کو اس کی شدت اور فوری نوعیت کی وجہ سے ترجیح دی جائے۔

ہماری قومی سلامتی کو لاحق خطرات کی سنگینی کے سبب موسمیاتی شعبہ پر اس کی توجہ ناکافی رہی۔ اس کی بنیادی وجہ پالیسی سازوں کی موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے خطرات پر محدود توجہ ہے جیسا کہ وہ دیگر شعبہ جات کو ان تبدیلیوں سے لاحق خطرات کا تخمینہ لگائے بغیر صرف غذا، پانی اور توانائی کے شعبے پر اس کے اثرات پر توجہ دیتے ہیں۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو ریاست کی بقا کو لاحق خطرے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے۔ تاہم جیسا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والی آفات کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں ایسے میں ایسی ٹھوس پالیسیوں کا نفاذ ضروری ہوگا کہ جو موسمیاتی تبدیلیوں کے کثیر الشعبہ جاتی اثرات سے نمٹنے پر توجہ مرکوز رکھے۔بشکریہ شفقنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

افغانستان کے عوام کی سلامتی، ذمہ دار کون؟

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف شہر میں محکمہ …