جمعرات , 1 دسمبر 2022

عراق اور شام کی سرحد پر دھماکے میں اسرائیل ملوث

بغداد:عراق اور شام کی سرحد پر گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کی میڈیا رپورٹس میں صیہونی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز عراق اور شام کی سرحد پر دھماکے کی آواز سنی گئی۔

رپورٹس کے مطابق، آج صبح عراق اور شام کے درمیان سرحدی علاقے القائم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ دھماکہ ہوتے ہی جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر آسمان پر اڑنے لگے، بتایا جا رہا ہے کہ لبنان جانے والے ایرانی آئل ٹینکرز پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ البوکمال نامی علاقے میں ہوا۔ یہ ٹینکرز قانونی طریقے سے اپنے راستے پر چل رہےتھے۔ ایران، عراق اور شام کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق یہ ایرانی آئل ٹینکرز قانونی طور پر گزر رہے تھے، جن پر حملہ کیا گیا۔

یہ حملہ منگل کی رات تقریباً نصف شب کے قریب کیا گیا۔ پیٹرول سے لدے 22 آئل ٹینکرز عراق کے البوکمال نامی علاقے سے شام میں داخل ہو رہے تھے۔ 8 ٹینکرز شام میں داخل ہونے کے بعد ڈرون نے دو ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ٹینکر ڈرائیوروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ حملے کی وجہ سے ٹینکروں کی آمدورفت کو روکنا پڑا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عراق اور شام کے سرحدی علاقے میں مزاحمتی فورسز کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس بات کا امکان ہے کہ یہ کام ناجائز صیہونی حکومت نے کیا ہو۔ بعض عراقی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ سرحدی علاقے میں القائم نامی ایک کارواں شام میں داخل ہوتے ہی فضائی حملہ کر دیا گیا۔ اس حملے میں 25 افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نئے آرمی چیف کی تعیناتی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے: امریکا

واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی پاکستان کا …