منگل , 29 نومبر 2022

عمران خان پر حملہ! اور ایف آئی آر کا مخمصہ؟

(چوہدری خادم حسین)

تحریک انصاف کے چیئرمین، سابق وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن کی تجویز کا خیر مقدم کرنے کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسلام آباد کے سوا ملک کے دیگر شہروں میں جاری احتجاجی مظاہرے ختم کر دیں ان کے بقول یہ اقدام عوام کی پریشانی کے باعث ہے، مجھے دوسرے حضرات کا تو علم نہیں۔ بہرحال میں اس فیصلے کی تعریف ہی کروں گا اگرچہ مخالفین کے مطابق احتجاج کا یہ سلسلہ ناکام ہو گیا تھا اور تحریک انصاف کے کارکن سڑکیں بند کر کے، ٹائر جلا کر اور توڑ پھوکڑ کر کے انتشار پھیلا رہے تھے، ان کی تعداد درجنوں تک ہی محدود تھی، یہ ان کا موقف ہے تاہم میں نے جیسے عرض کیا، میں تو خیر مقدم ہی کرتا ہوں بلکہ اپنے موقف کے مطابق یہ عرض کروں گا کہ اسلام آباد والا احتجاج بھی ختم کر دیا جائے اور آج(جمعرات) سے جو مارچ دوبارہ شروع کیا جانا ہے اسے بھی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا جائے اور حکومت نے چیف جسٹس سے جو دو مختلف کمیشن بنانے کی درخواست کی ہے ان کے بارے میں تیاری کی جائے کہ وزیراعظم نے دستیاب ججوں پر مشتمل فل کورٹ کی درخواست کی جو اس موقف کی بھی تائید ہے جو خود عمران خان کا ہے۔ اگرچہ سنجیدہ فکر حضرات تو یہ کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کو واپس ایوان میں جا کر اپنا سیاسی پارلیمانی کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ محاذ آرائی کی شدت کم ہو تاکہ ملک کے معاشی پروگرام پر توجہ دی جا سکے۔یہ معقول عمل ہے کہ پارلیمینٹ بااختیار ہو،مسائل کا حل اس کے ذریعے ہو تو بہت سی شکایات دور اور مسائل ختم ہو جائیں گے، موسم تبدیل ہو چکا، سردی بڑھ رہی ہے ایسے میں سیلاب سے متاثرہ لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے بے سرو سامان ہیں،ان کی بحالی نہیں ہو سکی اور یوں بھی جتنا زیادہ نقصان ہوا، ان کے مطابق تعمیر نو کے لئے رقوم کے علاوہ وقت بھی چاہیے۔

یہ ہمارا موقف ہے جو مسلسل چلا آ رہا ہے کہ معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام کی ضرورت ہے جس کا اعتراف سیاسی فریقین کرتے تو ہیں، عمل نہیں کرتے،ان دنوں عمران خان پر حملے کے حوالے سے گرد اڑ رہی یا اڑائی جا رہی ہے اور جس انداز سے اس وقوعہ کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی اس نے کنفیوژن پیدا کر دیا ہے۔ اس کا دور ہونا بھی ضروری ہے اور امکانی طور پر چیف جسٹس اگر کمیشن والی درخواستیں منظور کر لیتے ہیں تو مثبت امکان زیادہ ہے اس کے لئے اپنی اپنی اَنا کو دور رکھنا ہو گا۔

بات تو وزیر آباد والے وقوعہ کے حوالے سے ہونا چاہئے لیکن کیا کریں شاید عمر کا تقاضہ ہے کہ بار بار محاذ آرائی ختم کرنے کے لئے گزارش کرنا پڑتی ہے۔میں نے پارلیمان کا جو ذکر پہلے کیا تو اس وقوعہ کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لئے بھی پارلیمینٹ ہی کے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے تاکہ جو رکاوٹ اور مشکل نظر آ رہی ہے اسے قانون سازی کے ذریعے درست کر لیا جائے، وقوعہ وزیر آباد کے حوالے سے ایف آئی آر کا اندراج نزاع بن گیا اور عدالت عظمےٰ کی ہدایت پر جو ایف آئی آر درج ہوئی اس کو تحریک انصاف نے مسترد کر دیا ہے۔اس کا موقف ہے کہ جو شکایت ان کی طرف سے درج کرانے کی کوشش کی گئی اس کے مطابق اندراج نہیں ہوا۔

یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ایف آئی آر کیوں تاخیر سے اور عدالت عظمےٰ کی ہدایت کے بعد درج ہوئی جو بیان انسپکٹر جنرل پولیس نے سپریم کورٹ کے روبرو دیا اس پر شک کی بھی کوئی وجہ نہیں کہ پنجاب میں حقیقی اقتدار تحریک انصاف کے پاس ہے اگرچہ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی ہیں جو خبریں نشر یا شائع ہوئیں ان کے مطابق خود وزیراعلیٰ محترم کے تحفظات تھے ان کے صاحبزادے نے ٹویٹ کے ذریعے جو کہاں تحریک انصاف کے موقف کے مطابق ہے تاہم وزیراعلیٰ کی موجودگی میں ایف آئی آر میں تاخیر کا باعث یہی ہے اگرچہ اب اس کی تحقیق بھی لازم ہو گی۔

سیاسی کشمکش اپنی جگہ، آج میں اپنے رپورٹنگ کے تجربہ کی بناء پر ایف آئی آر پر بات کر لیتا ہوں، جن حضرات نے یہ قوانین (ضابطہ فوجداری، تعزیراتِ پاکستان جو پہلے تعزیرات ہند تھی) مرتب کی،ان کے نزدیک ایف آئی آر کا وہی مفہوم ہے جو انگریزی الفاظ کے معنی ہیں،اسے ”فرسٹ انفرمیشن رپورٹ“ کہتے ہیں، یعنی پولیس کو اولین اور ابتدائی طور پر ملنے یا دی جانے والی اطلاع، چنانچہ اصولاً اس میں یہ ضد کہ جو متاثرہ فریق کہے وہ لکھا جائے تنازعہ کا باعث بنتا ہے کہ ہماری عدالتوں کے بے شمار فیصلے اس بناء پر ہیں اور ایف آئی آر میں ملزم نامزد نہ ہو تو دوسری شہادتوں کے باوجود اسے کمزور جانا جاتا ہے اور وہ ملزم تادیب سے بچ جاتا ہے جس کا نام ایف آئی آر میں تو نہ ہو لیکن اسے شریک جرم بنایا جائے جبکہ ایف آئی آر میں نامزد بے گناہ بھی مارا جاتا ہے،اس کا ایک اندازہ بھٹو کیس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سزا کی بنیاد تو اسے ہی بنایا گیا،اس حوالے سے ہمارے تجربے کے مطابق جب کبھی کوئی وقوعہ ہو، خصوصاً قتل کی واردات درپیش ہو تو ایف آئی آر میں بہت تاخیر ہو جاتی ہے،عام طور پر پولیس روزنامچے میں ایک صفحہ خالی رکھ لیتی ہے اور جب طے ہو جائے تو ایف آئی آر تحریر ہوتی ہے، میرا ذاتی وکلاء حضرات اور ہم پیشہ دوستوں کا بھی یہی تجربہ ہے کہ جب کبھی کوئی قتل کی واردات ہو تو مقتول پارٹی والے حضرات دوسرے فریق کے ہر اس فرد کا نام لکھوانے پر مصر ہوتے ہیں جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ پیروی کر سکتا یا بعد میں پریشانی کا سبب بن سکتا ہے،اس وجہ سے بہت سے مقدمات بالآخر ختم ہو جاتے اور فائدہ تمام ملزموں کو پہنچتا ہے۔

اس روشنی میں دہائیوں سے یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ ایف آئی آر کو حقیقی معنوں میں پہلی یا اولین اطلاع رہنے دیا جائے اور اس میں وقوعہ شامل کر کے فوری تفتیش شروع ہو، اس کے لئے متعلقہ قانون یا قوانین میں عدالتی فیصلوں کی روشنی میں متعلقہ ترامیم کی ضرورت ہے اور قومی اسمبلی ہی سے ہونا چاہئیں تاکہ پورے ملک میں یکساں قانون ہو،لیکن آج تک ایسا نہیں ہو سکا،حالانکہ ضابطہ فوجداری اور تعزیراتِ پاکستان میں اصلاح کے لئے کئی بار کمیٹیاں بھی بنی ہیں۔

ایف آئی آر کے موجودہ مفہوم ہی کے باعث کئی بار مضروب طبی امداد میں تاخیر کے سبب جانی نقصان بھی اٹھا جاتے ہیں کہ جب کوئی حادثہ یا لڑائی جھگڑے کا مضروب کسی ایسے مقامی یا نجی کلینک یا ہسپتال کا رخ کرتا ہے جو قریب تر ہو تو اس کے علاج سے انکار کر کے اسے سرکاری ہسپتال لے جانے کو کہا جاتا ہے کہ میڈیکو لیگل کا اختیار ہونا ضروری ہے،چنانچہ کسی بھی وقوعہ کے مضروب حضرات کا میڈیکل لیگل لازم ہے اور اگر یہ نہ ہو تو ازخود کیس کمزور ہو جاتا ہے۔وزیر آباد کا سانحہ افسوسناک ہے، لیکن اس میں بے شمار کوتاہیاں ہوئی ہیں جو اب تنقید اور پھر قانونی بحث کا باعث ہوں گی،عمران خان کا میڈیکو لیگل نہیں ہوا، جاں بحق یا شہید ہونے والے کا پوسٹمارٹم نہیں ہوا۔یوں مضروبوں اور مقتول کے زخموں کی نوعیت کے حوالے سے یہ بہت بڑے قانونی سقم ہیں اس سب کو سیاست کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن جب معاملہ عدالت میں جائے گا تو بہت کچھ سامنے آئے گا اور اعتراضات ہوں گے، اس لئے میں اگر پارلیمینٹ کی کارکردگی صحیح طور پر چلانے کے لئے سب فریقوں کی موجودگی کی تائید کرتا ہوں تو جوڈیشل کمیشن کا بھی حامی ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ چیف جسٹس کی طرف سے مثبت ردعمل ہو گا کہ اب اسی طرح ان نقائص پر بھی بات ہو سکے گی۔بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

جدہ سیلاب کی لپیٹ میں.. محمد بن سلمان کے خیالی منصوبوں کا پردہ فاش

جدہ کے سیلاب نے شہر میں بڑے سیلاب کو جنم دیا جس نے ولی عہد …