منگل , 6 دسمبر 2022

بھارت میں بڑھتی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں!!!

(محمد اکرم چوہدری)

اقوم متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق ممبر ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مبنی ایک جامع رپورٹ تیار کرتی ہے۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہر چار سال بعد تیار کی جاتی ہے۔ دو ہزار سترہ میں شائع اس جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بازار گرم ہے۔ عالمی قوانین کے تحت مرتب اس رپورٹ میں انتہا پسند بھارتی حکومت کے ظالمانہ اقدامات دنیا بھر کے سامنے آئے تھے۔ تاہم انسانی حقوق کے حوالے سے بھارتی حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور بی جے پی کی حکومت میں بھارت کا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ بد سے بدتر ہوتا چلا گیا۔اب دو ہزار بائیس میں ایک بار پھر اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا کمشن بھارتی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ جائزہ کےلئے مرتب کردہ رپورٹ میں بھارت میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں مذہبی انتہا پسندانہ پالیسیاں ، عورتوں اوراقلیتوں پر مظالم اور سیٹزن امیمنڈمنٹ ایکٹ سرفہرست ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی جانب سے شائع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارت کی جانب سے اقلیتوں اور ہندؤں کی چھوٹی ذاتوں کے حقوق نہ صرف سلب کیے گئے بلکہ انسانیت سوز سلوک بھی کیا گیا۔ مسلمانوں پر تو ہمیشہ سے ہی بھارت کی جانب سے مظالم ڈھائے گئے مگر اب اس لسٹ میں سکھ،دلت اور عیسائی بھی شامل ہوگئے ہیں۔صورت حال اب اتنی خراب ہو چکی ہے کہ آج نریندرا مودی کی حکومت میں جسے انتہا پسندوں کی حکومت کہا جاتا ہے، ایک ایسی حکومت جو صرف ایک خاص سوچ کے حامل افراد کو برداشت کرنے کی حمایت کرتی ہے، ایک ایسی حکومت جو ہر طرف صرف ہم خیالوں کو ہی دیکھنا چاہتی ہے، ایک ایسی حکومت جو ہر طرف انتہا پسند ہندوو¿ں کو دیکھنا چاہتی ہے اس بھارت میں سوائے بی جے پی اور آر ایس ایس کے پیروکاروں کے ہندو بھی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں کئے جانے والے پانچ اگست دو ہزار انیس کے بھارتی اقدامات کے بعد انسانی حقوق کونسل کا یہ پہلا Universal Periodic Review ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت پچھہتر سال سے نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی ہر روز پاﺅں تلے روندتا چلا آرہا ہے۔ بچوں اور عورتوں پر پیلٹ گنوں کے استعمال سے ہزاروں خواتین اور بچوں کو بینائی سے محروم یا متاثر کیا جا چ±کا ہے۔بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر گھسیٹنا اور انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا بھی عام ہے۔ سیٹیزن امینڈمینٹ ایکٹ کے تحت بھارت میں موجود اقلیتوں اور ہجرت کرنے والے شہریوں بشمول ہندوو¿ں کے حقوق بھی سلب کئے گئے ہیں۔ کشمیری اس ایکٹ کے بعد سے انتہائی تشویشناک حالات میں زندگی گذار رہے ہیں۔بھارتی پولیس اور فوج اس ایکٹ کو خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسی رپورٹ میں بھارتی پولیس اور فوج کو جعلی پولیس مقابلوں میں مظلوم اور معصوم لوگوں کو مارنے کا مرتکب پایا گیا ہے۔ دلتوں پر بھی مختلف اقسام کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور ان کو شدید مظالم کا شکار بنایا جاتا ہے۔ دلتوں کو معاشی طور پر بھی نامناسب حالات کا سامنا ہے۔ دلتوں کو نامناسب ناموں سے پکارا جاتا ہے اور برے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جس سے ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ کئی دلتوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ کئی مسلمانوں اور دلتوں کو سرعام باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے صورت حال ہر گذرتے دن کے ساتھ بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ نریندرا مودی کی حکومت مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے میں نہایت خطرناک انداز میں فیصلے کر رہی ہے۔ دنیا کو شاید ان سنگین حالات کا اندازہ نہیں ہے لیکن موجودہ حالات میں بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بدترین ملک ہے۔ جہاں انسانی جان کی کوئی قدر نہیں اگر کوئی شخص مخصوص ہندو انتہا پسند سوچ کا حامل نہیں ہے تو اس کے لیے زندگی مشکل بنا دی جاتی ہے۔ وہاں، بچوں، جوانوں، بوڑھے اور خواتین نہیں بلکہ کسی کو نشانہ بنانے کے لیے مخصوص سوچ اور طرز زندگی کو اہمیت دی جاتی ہے۔

عورتوں کے حقوق کے ضمن میں بھی بھارت کی جانب سے انتہائی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ تامل ناڈو میں بھی اس ضمن میں شدید مظالم رپورٹ کئے گئے تھے۔ عورتوں کو جنسی تشدد اور ذیادتیوں کا نشانہ بنائے جانے کے بھی بہت سے واقعات رپورٹ کئے گئے ہیں۔ کشمیر میں بھی خواتیں کی عزت آبرو محفوظ نہیں اور اس وجہ سے ہزاروں خواتین خودکشی کر چکی ہیں۔ کشمیری اور بھارتی اقلیتیں امید کرتی ہیں کہ عالمی برادری دس نومبر دو ہزار بائیس کو منعقدہ Universal Periodic Review میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوے بھارت سے جواب طلب کرے گی۔

بھارت میں کروڑوں لوگ ہیں ان کروڑوں لوگوں کو مذہبی آزادی کا مکمل اختیار ہونا چاہیے، ہر انسان کو آزادی اظہارِ رائے کا مکمل حق ہونا چاہیے، ہر شخص کو بلا خوف و خطر اپنی زندگی گذارنے کا حق حاصل ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ بھارت میں بی جے پی کے دور حکومت میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ ملا ہے۔ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدت آتی جا رہی ہے اور ان خلاف ورزیوں کی وجہ سے صرف خطے ہی نہیں بلکہ دنیا کے امن کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ اہم ممالک اور عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ کیا بھارت صرف انتہا پسند ہندوؤں کے لیے پرامن ہے، باقی کروڑوں انسان کہاں جائیں گے۔بشکریہ نوائے وقت

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

گجرات کے چوہدری کس طرف ہیں؟

بہترین وقت میں بھی یہ بتانا مشکل ہے کہ ق لیگ کیا کر رہی ہے۔ …