اتوار , 4 دسمبر 2022

امریکی مڈٹرم الیکشن، ریپبلکنز بمقابلہ ڈیموکریٹکس

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کی روشنی میں ریپبلکن جماعت کو اُمید ہے کہ وہ ایوان نمائندگان میں اکثریتی سیٹیں حاصل کرلے گی اور اپنے حریف صدر جو بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست دیں گے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں 8 نومبر کو وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) میں ایوان نمائندگان کی 435 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی، مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور ووٹوں کی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ایوان نمائندگان میں ابھی ڈیموکریٹس کی 220 اور ریپبلکنز کی 212 نشستیں ہیں۔

ایوان کے اقلیتی رہنما کیون میکارتھی نے ایوان نمائندگان میں کہا کہ ’واضح ہے کہ ہم ایوان میں اکثریت کے ساتھ ایک بار پھر واپس آرہے ہیں‘۔کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی قانون ساز نے ایوان کے 82 سالہ موجودہ اسپیکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ کل اٹھیں گے، ہم اکثریت میں ہوں گے اور نینسی پلوسی اقلیت میں شمار ہوں گی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی عوام ایک ایسی اکثریت کے لیے تیار ہیں جو ملک کو نئی سمت میں لے جائے گی، ان کا کہنا تھا کہ ریپبلکن جماعت امریکا کو صحیح سمت میں لے جانے کے لیے تیار ہے۔میکارتھی اور دیگر ریپبلکن رہنما پرجوش ہیں کہ وہ ایوان اور سینیٹ دونوں میں ڈیموکریٹک کنٹرول کو شکست دینے کے لیے پراعتماد ہیں۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق اب تک کے نتائج کے مطابق ایوان زیریں میں ریپبلکن جماعت نے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں۔سی بی ایس کے اندازے کے مطابق امکان ہے کہ ریپبلکن کو ایوان نمائندگان میں 202 نشستیں ملیں گی جبکہ ڈیموکریٹس کو 188 نشستیں حاصل ہوں گی، جبکہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 218 نشستوں کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق میکارتھی نئی اسپیکر بننے کے لیے سب سے آگے ہیں، میکارتھی کئی عرصے سے اسپیکر بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔میکارتھی کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اسپیکر کے لیے ان کی نامزدگی کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہوگی۔

اگرچہ صدر جو بائیڈن کا نام کسی بیلٹ پیپر پر نہیں تاہم امریکا کے مڈ ٹرم الیکشنز ان کے مستقبل کے ایجنڈے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔خیال رہے کہ ایوان نمائندگان کی 435 اور ایک تہائی سینیٹ کی سیٹوں پر الیکشن ہوا ہے، ایوان میں جیت سے ریپبلکن جماعت کو اس کا کنٹرول ملنے کی امید ہے، تاہم سادہ اکثریت کے لیے ایوان میں 218 سیٹیں درکار ہوتی ہیں۔

وسط مدتی انتخابات کیا ہیں؟
امریکی ووٹرز ہر 2 برس بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کس کو اکثریت ملتی ہے، صدر کیا نئی پالیسی منظور کرائیں گے اور اپوزیشن اس ایجنڈے کو ناکام بنا سکے گی یا نہیں۔ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں سمیت سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے 35 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوتی ہے۔36 ریاستوں میں گورنرز اور ریاستی سطح کے قانون سازوں، سیکریٹریز اور اٹارنی جنرل کے لیے بھی انتخابات ہو رہے ہیں۔

یہ انتخابات اور ان کے نتائج اسقاط حمل کے حق سے لے کر ووٹنگ کے حقوق اور کورونا پابندیوں سمیت مختلف معاملات کے حوالے سے ریاستی پالیسیوں پر اثرانداز ہوں گے۔

وسط مدتی انتخابات میں عموماً حکومتی جماعت کو ایوان میں دوہرے ہندسوں کا نقصان ہوتا ہے، اس بار بھی کچھ اسی قسم کے نتائج کی توقع ہے، جو بائیڈن کی مقبولیت کا گراف 40 فیصد تک آگیا ہے، وبا کے اثرات 3 سال بعد بھی موجود ہیں اور مہنگائی 40 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

تاہم ڈیموکریٹس کو سیاسی منظر نامے میں حالیہ تبدیلی سے کچھ حوصلہ ملا ہے جن میں قانون سازی میں کامیابیاں، اسقاط حمل کے حق پر ریپبلکنز کی غیر مقبول پابندیاں اور گیس کی گرتی ہوئی قیمتیں شامل ہیں۔
غیر جانبدار تجزیہ کار ریپبلکنز کے لیے 10 سے 20 نشتسوں کے معمولی فائدے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں جو چیمبر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تو کافی ہے لیکن فیصلہ کن اکثریت حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
جبکہ سینیٹ کی نشستوں میں تجزیہ کاروں کو موجودہ ففٹی ففٹی تناسب قائم رہنے کی امید ہے، یعنی نائب صدر کمالا ہیرس کے ٹائی بریکنگ ووٹ کے ساتھ ڈیموکریٹس کا کنٹرول برقرار رہے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا اثر
جو بائیڈن کی طرح سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی انتخابات کا حصہ نہیں ہیں لیکن وہ اپنے قانونی معاملات اور ریپبلکنز کی حمایت کی وجہ سے ریپبلکنز کے لیے ہی درد سر بنے ہوئے ہیں۔مزید کسر اُن سرکاری رازوں کے ذخیرے سے نکل گئی جو فلوریڈا میں ان کی رہائش گاہ پر ایف بی آئی کے چھاپے کے دوران برآمد ہوئے۔

ان کے خاندان کے مالی معاملات کی تحقیقات، انتخابی شکست کو پلٹنے کی کوششوں کی تحقیقات اور 2021 کے کیپیٹل ہل پر حملے کی سماعتوں جیسے عوامل اعتدال پسند ریپبلکنز کی حوصلہ شکنی کا سبب بن سکتے ہیں۔
دریں اثنا ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو انتخابی مہم میں نمایاں رکھا ہے اور 200 سے زائد انتہائی دائیں بازو کے امیدواروں کی توثیق کی ہے جبکہ سینئر ریپبلکنز نے نجی طور پر ٹرمپ کے حمایت یافتہ سینیٹ کے امیدواروں کے معیار پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔بشکریہ شفقنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

طاقت کا کھیل تماشہ جہاں کچھ کردار مُہرے تو کچھ کٹھ پُتلیاں

کل ایک ٹویٹ دیکھنے کو ملا جس میں پرنس کریم آغا خان کو یہ کہتے …