جمعرات , 1 دسمبر 2022

سمندری حدود کے معاہدے سے حزب الله اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم نہیں ہوگی، امریکہ

واشنگٹن:مقاومت اسلامی نے مذاکرات کے دوران دھمکی دی تھی کہ اگر لبنان کو اسکے حقوق سے محروم کیا گیا تو وہ صیہونی حکومت کو ہرگز گیس نکالنے کی اجازت نہیں دینگے۔ لبنان اور مقبوضہ فلسطین کے درمیان سمندری حدود کا معاہدے کروانے والے امریکی ثالث "آمس ہوچسٹن” نے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دیگر تنازعات کو حل نہیں کرے گا اور نہ ہی اس سے حزب الله اور صیہونی ریاست کے درمیان تناو میں کوئی کمی آئے گی۔

البتہ آمس ہوچسٹن نے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ دونوں فریقین کے درمیان پانی کی حدود کے تعین کے اس معاہدے سے خطے میں امن و استحکام قائم ہوگا۔ امریکی ثالث نے کہا کہ لبنان و اسرائیل نے اس معاہدے کی پاسداری کا یقین دلایا ہے، آمس ہوچسٹن نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے بعد گیس کمپنیاں اپنی سرگرمیاں شروع کریں گی، جس سے لبنان میں غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔ ہوچسٹن نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اسرائیلی حکومت لبنان کے ساتھ سمندری سرحدوں کی حد بندی کے معاہدے کی پاسداری کرے گی۔

دو ہفتے قبل لبنان کے ایوان صدر نے اعلان کیا تھا کہ میشل عون نے صیہونی حکومت کے ساتھ سمندری حد بندی قائم کرنے کے حوالے سے امریکہ کے سرکاری مسودے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ یاد رہے کہ مذکورہ معاہدے پر دستخط کے سلسلے میں لبنان اور صیہونی حکومت کے ایک وفد نے ہوچسٹن کی موجودگی میں "الناقورہ” میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں شرکت کی اور آپس میں دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ صیہونی سیاسی شخصیات اور میڈیا نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے شرط و شروط کے بغیر معاہدے پر دستخط کو سید حسن نصر الله کی قیادت میں حزب الله لبنان کی دھمکیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مقاومت اسلامی نے مذاکرات کے دوران دھمکی دی تھی کہ اگر لبنان کو اس کے حقوق سے محروم کیا گیا تو وہ صیہونی حکومت کو ہرگز گیس نکالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

چین کی بڑھتی دفاعی طاقت نے امریکا کو پریشان کر دیا

واشنگٹن:چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت نے امریکا کو پریشان کر دیا ہے، امریکی محکمہ …