ہفتہ , 10 دسمبر 2022

وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال میں سنگین نوعیت کے بحران کا انکشاف

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال میں سنگین نوعیت کے بحران کا انکشاف ہوا ہے۔پمز میں خطرناک نوعیت کی اموات کی وجوہات کے تعین کیلیے فارنزک لیبارٹری نہیں۔

ذرائع کے مطابق پمز میں فارنزک سائنس لیبارٹری کے ماہرین بھی تعینات نہیں کیے گئے جب کہ ماہر میڈیکو لیگل افسران نہ ہونے کے باعث کیسز لاہور بھجوائے جاتے ہیں۔ فارنزک ماہرین کی عدم تعیناتی سے متعلق حکام کو لکھا گیا خط سامنے آگیا،جس سے انکشاف ہوا ہے کہ ماضی میں میڈیکو لیگل ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات پر توجہ نہیں دی گئی۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کو غیر کوالیفائیڈ میڈیکل آفیسرز کے ذریعے چلایا گیا۔ میڈیکو لیگل ڈیپارٹمنٹ میں کوئی کوالیفائیڈ میڈیکو لیگل افسر موجود نہیں۔ کسی افسر نے بھی فارنزک میڈیسن میں پوسٹ گریجویشن نہیں کی۔ صرف فارنزک میڈیسن میں پوسٹ گریجویشن کرنے والا ہی میڈیکولیگل افسر تعینات ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق فروری 2022ء میں ایڈیشنل ایم ایل او نے پمز انتظامیہ کو فارنزک ماہرین کی تعیناتی سے متعلق مراسلہ بھیجا۔ پمزمیں فارنزک ماہرین نہ ہونے کے باعث نمونے فارنزک سائنس لیبارٹری لاہور جاتے ہیں۔ کراچی،لاہور،پشاور اور حیدرآباد میں فارنزک ماہرین ہیں۔ فارنزک ماہرین کی تعیناتی سے متعلق مراسلہ میڈیکل ڈائریکٹرکو بھیجا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ارشد شریف،سارہ انعام قتل کیسز کی رپورٹ میں تاخیر کی بڑی وجہ بھی لیبارٹری اور ماہرین کا نہ ہونا ہے۔ نور مقدم اور سنگین نوعیت کے دیگر کیسز میں تاخیر بھی فارنزک ماہرین کی عدم تعنیاتی اور لیبارٹری کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔فارنزک سائنس لیبارٹری اور ماہرین کی عدم دستیابی کے باعث شواہد کے ضائع ہونے کے خدشات بھی ہوتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران:بڑی تعداد میں اسرائیلی جاسوس گرفتار کئے ہیں، جنرل علی فدوی

تہران:سپاہ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف کمانڈر نے کہا کہ ہم نے بڑی تعداد میں …