جمعرات , 1 دسمبر 2022

پاکستان میں سود سے پاک معاشی نظام ممکن ہے؟

(راجہ کامران)

وفاقی حکومت کی جانب سے ایک بڑا اعلان جس کی توقع نہ تھی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کردیا۔ اسحاق ڈار نے وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے، جس میں حکومت اور اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی گئی تھی کہ آئندہ پانچ سال میں معشیت کو سود سے پاک کیا جائے پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس حوالے سے بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ملکی معیشت کو اسلامی اصولوں کے مطابق مرتب کرنے کےلیے وزیراعظم کی اجازت اور اسٹیٹ بینک کی مشاورت کے بعد وفاقی شریعت عدالت کے سود کے فیصلے کے حوالے سے دائر درخواست کو واپس لینے کا اعلان کردیا ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا ہے کہ قرآن اور سنت میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور ہم قرآن اور سنت سے رہنمائی لیتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ سودی نظام سے اسلامی شرعی اصولوں کے مطابق معیشت کو ڈھالنے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ مگر اس حوالے سے گزشتہ چند ہفتوں میں ایک روڈ میپ تیار کرلیا گیا ہے، جس پر عمل کرتے ہوئے پہلے سے زیادہ تیزی سے سود سے پاک معیشت کی جانب کام کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ان کے سابقہ دور حکومت میں خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے اسلامی مالیات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

وفاقی شریعت عدالت نے سود کو مکمل طور پر اور اس کی ہر صورت کو حرام قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ پانچ سال کے اندر پاکستانی معیشت کو سود سے پاک کرے۔ وفاقی شریعت عدالت نے سود کو لاگو کرنے کے حوالے سے موجود قانون انٹریسٹ ایکٹ 1839 مکمل طور پر شریعت کے خلاف قرار دے دیا ہے۔ اور سودی کاروبار میں لین دین کی اجازت دینے والے تمام قوانین اور شقیں بھی غیر شرعی قرار دے کر انہیں آئین اور قانون سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 38 ایف پر عملدرآمد ہوتا تو ربا یعنی سود کا خاتمہ دہائیوں پہلے ہوچکا ہوتا ہے۔ وفاقی شریعت عدالت کے اس فیصلے سے عوام اور اہل علم افراد میں ایک امید جاگی ہے جس سے ہم سودی نظام کی تباہ کاریوں سے بچ کر اسلامی معاشی نظام کے ماتحت آسکتے ہیں۔

وفاقی شریعت عدالت کے جج جسٹس سید محمد انور نے وفاقی حکومت کے اعتراضات کو پاکستان اور دنیا بھر میں تیزی سے فروغ پانے والی اسلامی بینکاری کے اعدادوشمار کی بنیاد پر مسترد کردیا۔ فیصلے میں لکھا کہ عدالت میں پیش کردہ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ سود سے پاک بینکاری دنیا بھر میں ممکن ہے، اور وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمے داری ہے۔

وفاقی شریعت عدالت نے بینکوں کے حوالے سے فیصلے میں لکھا کہ اسلامی بینکاری نظام کی بنیاد استحصال کے خلاف ہے۔ بینکوں کا ہر قسم کا انٹریسٹ ربا ہی کہلاتا ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ قرض کسی بھی مد میں لیا گیا ہو اس پر لاگو انٹریسٹ ربا کہلائے گا۔ اور انٹریسٹ یا ربا مکمل طور پر ہر صورت میں غلط ہے۔

وفاقی شریعت عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کردیا کہ موجودہ بینکاری نظام کو سودی سے اسلامی پر منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ اس حوالے سے وفاقی شریعت عدالت نے کہا کہ چار سودی نظام پر چلنے والے بینکوں کو اسلامی بینکاری میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا جاچکا ہے۔ جس میں سوسیٹ جنرل، ایچ ایس بی سی پاکستان اور خادم علی شاہ بخاری بینک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فیصل بینک شریعت عدالت کا فیصلہ سنائے جانے تک اپنے 95 فیصد کاروبار کو سودی سے اسلامی پر منتقل کرچکا ہے۔ شریعت عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کو تسلیم کیا کہ سودی سے شرعی بینکاری پر منتقل ہونے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ مگر اس عمل کو ناممکن نہیں کہا جاسکتا ہے۔

سودی بینکاری سے اسلامی بینکاری پر منتقل ہونے کے حوالے سے بینک حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک آسان کام نہ تھا۔ اس تبدیلی میں چند اہم امور کا خیال رکھا گیا جس میں بینک کے جاری آپریشنز، توسیع اور منافع کو متاثر کیے بغیر یہ کام عمل میں لایا جائے۔ اس حوالے سے بینک نے سب سے پہلے اپنے سودی کاروبار کو توسیع نہ دینے اور نئے برانچ نیٹ ورک کو صرف اور صرف اسلامی بینکاری پر کھولنے، نئے قرض شریعت معاہدوں پر دینے اور کھاتوں کےلیے بھی اسلامی اصولوں کے مطابق مصنوعات کو آگے بڑھایا۔

عدالت نے حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مقامی اور غیر ملکی قرض سود سے پاک نظام کے تحت حاصل کرے۔ شریعت عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ ربا سے پاک نظام زیادہ فائدہ مند ہوگا، سی پیک کےلیے چین بھی اسلامی بینکاری نظام کا خواہاں ہے، تمام بینکنگ قوانین جن میں انٹریسٹ کا ذکر ہے وہ ربا کہلائے گا، حکومت تمام قوانین میں سے انٹریسٹ کا لفظ فوری حذف کرے۔

ماہرین کا کہنا ہے سود کے خلاف وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد سے وفاقی حکومت کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ کیونکہ مالی سال 2020-21 میں حکومت کی مجموعی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی کا 80 فیصد کے مساوی صرف سود کی ادائیگی ہوگئی تھی۔ وفاقی شریعت عدالت کی جانب سے سود کے خلاف دیے گئے اس فیصلے کے بعد ملک میں یہ مطالبہ بڑھنے لگا تھا کہ فوری طور پر سود کا خاتمہ کیا جائے اور اس حوالے سے قومی اسمبلی میں بھی وفاقی شریعت عدالت کے سود خاتمے کے فیصلے کا خیرمقدم کرنے کےلیے قرارداد منظور کرنے کے ساتھ ہی اس فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے پیدا کی جانے والی متوقع رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے حوالے سے ایک جائزہ پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سپریم کورٹ عوامی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد اس پٹیشن پر فیصلہ کرے گی تاکہ ملک قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ایک فلاحی ریاست کی جانب قدم بڑھا سکے اور معیشت میں مساوات قائم ہوسکے۔

وفاقی شریعت عدالت نے سود کو ناجائز قرار دے کر ملک میں اسلامی مالیاتی نظام کے قیام کےلیے ایک اہم سنگ میل کو پالیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے اس فیصلے کے بعد، سود کے خاتمے پر جو عوامی ردعمل آیا ہے وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔ اور وہ مستقبل میں سود کے خلاف مزید کامیابیاں دیکھ رہے ہیں۔ اب حکومت کی جانب سے اس فیصلے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے اعلان سے امید پیدا ہوگئی ہے کہ ملک میں سود سے پاک بینکاری ممکن ہوسکے گی۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خان صاحب کو داد دیں

(تحریر : رؤف کلاسرا) وقت بھی کیا کیا ستم کرتا ہے۔ ایک سال پہلے تک …