ہفتہ , 10 دسمبر 2022

امریکہ اور چین کی سرد جنگ کے عروج پر جو بائیڈن اور شی جن پنگ کی ملاقات

(یویٹ ٹین اور ٹیسا وونگ)

آئندہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک ایسے وقت میں ملاقات ہونے والی ہے جب دو بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان تائیوان اور ایشیا کے معاملات کی وجہ سے سرد جنگ عروج پر ہے۔

واضح رہے کہ جو بائیڈن کے برسراقتدار آنے کے بعد بطور صدر یہ ان کی شی جن پنگ سے پہلی ملاقات ہو گی جس سے قبل امریکہ نے اپنی چپ ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کر کے چین کی برآمدی منڈی کو کافی نقصان پہنچایا ہے جسے فون اور الیکٹرک گاڑیوں سمیت سامان کی تیاری کے لیے اس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔

دونوں سپر پاورز کے درمیان تناؤ اور الزامات میں اضافے کی وجہ سے پوری دنیا، بالخصوص خطے میں امریکی اتحادی انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا، کی نظریں اس ملاقات کی طرف ہوں گی جو سوموار کو جی 20 سمٹ سے قبل بالی میں ہونے جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو اس ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے ہم تائیوان پر بات چیت کریں گے اور میں جاننا چاہوں گا کہ ہم ریڈ لائنز کا تعین کر سکیں۔‘

’اس طرح ہم طے کر سکیں گے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ تنازعے میں ہیں یا نہیں، اور اگر ہیں، تو ان کو کیسے حل کیا جائے۔‘تاہم جو بائیڈن نے واضح کیا کہ وہ تائیوان کے معاملے پر کسی قسم کی پسپائی نہیں دکھائیں گے۔

چین کا دعوی ہے کہ تائیوان اس کی سرزمین کا حصہ ہے جبکہ جو بائیڈن نے سابق امریکی صدور کے برخلاف کھل کر تائیوان کا ساتھ دینے اور چینی حملے کی صورت میں اس کا دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر شی جن پنگ، جو حال ہی میں تیسری بار صدر بنے ہیں، نے سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کو کہا ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں ’جنگ لڑنے پر مرکوز کریں اور فتح کی صلاحیت پیدا کریں۔‘

شی جن پنگ کے بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’فوج کو جنگ کی تیاری کرنا ہو گی کیوں کہ چین کو ایک غیر مستحکم اور غیر واضح پوزیشن کا سامنا ہے۔‘

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب اگست میں امریکی سپیکر نینی پلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا جس کے جواب میں چین نے جزیرے کے گرد بڑے پیمانے پر فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا کہ اس ’ملاقات کے نتائج سے تائیوان کو مطلع کیا جائے گا۔‘ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیون نے کہا کہ ان کا مقصد تائیوان کو یقین دلانا ہے کہ امریکی حمایت ان کے ساتھ رہے گی۔

ادھر چین کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو چین کے ساتھ مل کر غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہیے اور چین امریکہ سے پرامن تعلقات رکھنے کا خواہش مند ہے لیکن تائیوان کا معاملہ چینی مفادات کا اہم جزو ہے۔

واضح رہے کہ تائیوان کے معاملے پر امریکی پالیسی مشکلات کا شکار رہی ہے۔ چین سے امریکی تعلقات کے تحت واشنگٹن صرف بیجنگ کی حکومت کو مانتا ہے اور اس کے تائیوان کے ساتھ باضابطہ تعلقات نہیں ہیں۔

تاہم تائیوان ریلیشن ایکٹ کے تحت امریکہ تائیوان کو اسلحہ فروخت کرتا ہے۔ اس ایکٹ کے مطابق امریکہ تائیوان کو دفاع کے لیے اسلحہ فراہم کرتا ہے۔

دو طاقتوں کی سرد جنگ کے بیچ پھنسے ایشیائی ممالک جن کے لیے چین کو ناراض کرنا ممکن نہیں رہاچین کی بڑھتی ہوئی طاقت نے امریکہ کو بے چین کیا ہے اور کئی سال بعد واشنگٹن ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

رواں ہفتے کے دوران کمبوڈیا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے سالانہ سربراہی اجلاس کے انعقاد میں شمولیت کرنے کے بعد جو بائیڈن پہلے امریکی صدر ہوں گے جو 2017 کے بعد اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔اس کے بعد وہ انڈونیشیا کا دورہ کریں گے اور وہیں ان کی شی جن پنگ سے ملاقات ہو گی۔

تاہم امریکہ کو اس خطے میں ماضی کی نسبت ایک مختلف قسم کے سفارتی ماحول کا سامنا ہے۔ تیزی سے تقسیم ہوتی ہوئی دنیا میں آسیان تنظیم بھی اپنا اثر قائم رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

اس تنظیم میں شامل 10 ممالک ایک دوسرے پر تنقید کرنے سے گریز کرتے ہیں تاہم مختلف طاقتوں سے تعلقات قائم کرنے میں آزادی رکھتے ہیں۔شاید اسی وجہ سے اس تنظیم میں ہونے والے فیصلوں کا اطلاق نہیں ہو پاتا جس کا ایک ثبوت آسیان کا چھوٹا اور کمزور سیکرٹریٹ ہے۔

جب تک امریکہ عالمی تجارت اور ترقی کے فروغ پر عالمی رائے کا علمبردار تھا، آسیان کی یہ حیثیت ٹھیک تھی۔

لیکن عالمی منڈی میں چین کی آمد اور 2000 کے بعد بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ نے ایک ایسے وقت میں خطے میں قدم جمایا جب امریکہ مشرق وسطی میں پھنسا ہوا تھا۔

چین نے خطے میں تیزی سے کام کیا جس کے پیچھے سابق چینی رہنما ڈینگ ذیاوپنگ کا وہ فرمان تھا کہ ’اپنی طاقت چھپا کر رکھو، اپنے وقت کا انتظار کرو۔‘ لیکن صدر شی جن پنگ کے 10 سالہ اقتدار کے بعد چین کی طاقت اب کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں۔

کیا امریکہ شی جن پنگ کی دنیا میں رہ سکتا ہے؟

شی جن پنگ: گمنامی سے چین کے طاقتور ترین لیڈر بننے والے رہنما جن کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں

کیا امریکہ اور چین، تائیوان تنازعے پر جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں؟

گذشتہ ایک دہائی کے دوران چین نے جنوبی چین کے سمندر میں جزیروں پر قابض ہو کر عسکری طور پر انھیں آباد کیا جن پر ملکیت کے ویت نام اور فلپائن بھی دعوے دار ہیں۔

آسیان تنظیم نے کوشش کی کہ متنازع علاقوں پر کسی قسم کا اتفاق رائے قائم ہو سکے لیکن چین نے 20 سال تک مزاکرات کو لٹکائے رکھا اور کسی فیصلہ کن نتیجے پر نہیں پہنچنے دیا۔ چین 2016 میں ایک بین الاقوامی عدالت کے اس فیصلے کو بھی خاطر میں نہیں لایا جس نے ان جزائر پر بیجنگ کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

ایسے میں آسیان ممالک ایک پیچیدہ صورت حال کا شکار ہیں۔ چین معاشی اعتبار سے نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے اور عسکری قوت کے اعتبار سے بھی اتنا طاقت ور ہو چکا ہے کہ خطے میں تو کوئی بھی کھلم کھلا اس کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔

ویت نام میں بھی، جس نے 43 سال قبل چین سے جنگ کی اور جہاں کمیونسٹ مخالف خیالات پائے جاتے ہیں، برسراقتدار جماعت چین سے معاملات میں احتیاط برتتی ہے۔ چین ویت نام کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور ملک کی برآمدات کے لیے درکار خام مال مہیا کرتا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ چین نے آسیان کے اتحاد کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ لاوس اور کمبوڈیا جیسے چھوٹے ممالک کا چین پر معاشی انحصار بہت حد تک بڑھ چکا ہے۔ یہ بات 2012 میں ہی اس وقت واضح ہو گئی تھی جب کمبوڈیا نے آسیان کی صدارت سنبھالنے کے بعد جنوبی چین سمندر پر چین مخالف بیان کو جاری نہیں ہونے دیا تھا۔

ایک جانب جہاں امریکہ کے لیے آسیان ممالک میں چین مخالف خیالات اچھی خبر محسوس ہوں، وہیں اس بات میں بھی دو رائے نہیں کہ یہ ممالک واشنگٹن سے بھی بہت پرامید نہیں ہیں۔

وہ امریکہ کو ایک ایسے اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں جس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ نے خطے کو 1997 کے ایشیائی معاشی بحران کے بعد کافی ناپسندیدہ اور مشکل معاشی اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا تھا لیکن پھر جارج بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو امریکہ اس خطے کو تقریبا بھول ہی گیا۔

امریکہ کی جانب سے جاپان، انڈیا اور آسٹریلیا سے اتحاد کی وجہ سے بھی آسیان کمزور ہوا جو اب دو طاقتوں کے درمیان پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے چین کو چیلنج کرنے کی خواہش ان کو خوفزدہ کر رہی ہے کیوں کہ دونوں طاقتوں کی جنگ میں نقصان ان کا ہی ہو گا۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے فری ٹریڈ معاہدے کرنے میں ناکامی اور دوسری جانب چین سے تعلقات کی وجہ سے خطے کا بڑا تجارتی مرکز بن جانے والا آسیان اب چین کی سرمایہ کاری، قرضوں اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے۔

امریکہ کو کم از کم اس بات سے اطمینان مل سکتا ہے کہ آسیان ممالک اب بھی دیگر طاقتوں سے تعلقات قائم رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور دوسرا اس بات سے کہ چین کبھی بھی ان ممالک سے اس طرز کا عسکری اتحاد نہیں کرے گا جیسا امریکہ اور جاپان یا پھر امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان قائم ہے۔

تاہم تمام آسیان ممالک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خطے میں چین بڑی طاقت ہے اور اپنے مفادات کے خلاف کوئی فیصلہ لینے سے ہچکچائیں گے۔جو بائیڈن کو اس سوال کا سامنا ہے کہ کیا امریکہ نے چین کے ہمسائے میں اتحاد قائم کرنے میں دیر کر دی ہے؟بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کیا سعودی عرب اب امریکہ کے بجائے چین جیسے نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے؟

(فیصل محمود علی) چینی صدر شی جن پنگ سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ …