جمعرات , 8 دسمبر 2022

نیتن یاہو کی واپسی اور صیہونی رژیم کے زوال میں تیزی

(تحریر: بسام ابوشریف) 

(حصہ اول)

سیاسی مبصرین اسرائیل میں نئے الیکشن کے انعقاد اور اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں بہت زیادہ ابہام اور شک و تردید کا شکار تھے۔ اگرچہ یہ الیکشن بہت تیزی سے منعقد ہوئے اور اس کے نتائج بھی بہت جلد اعلان کر دیے گئے جو سابقہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی ٹیم کی کامیابی پر مشتمل تھے لیکن اس کے باوجود سیاسی مبصرین کا ابہام اور شک و تردید اپنی جگہ باقی ہے۔ پہلے انہیں اس بارے میں ابہام پایا جاتا تھا کہ کون جیتے گا جبکہ اب وہ اس بارے میں شک و تردید کا شکار ہیں کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے اور نیتن یاہو الیکشن کے انعقا سے پہلے سے جاری سازشوں کا کس طرح مقابلہ کریں گے۔ وہ مختلف اتحادوں کے ساتھ کیا رویہ اپنائیں گے اور مستقبل کی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اب بھی اس تذبذب کا شکار ہیں کہ نیتن یاہو کی کامیابی کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے؟ جب ہم نیتن یاہو کا نام لیتے ہیں تو اس سے وہ اتحاد مراد ہے جو لیکوڈ پارٹی نے الیکشن میں جیتنے کیلئے تشکیل دیا تھا۔ نیتن یاہو نے الیکشن میں کامیابی کیلئے جو اتحاد تشکیل دیے تھے وہ مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہیں بلکہ انتہائی کمزور ہیں اور وزارتوں کی تقسیم کے حساس مرحلے میں کسی بھی لمحے ٹوٹ کر بکھر سکتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ نیتن یاہو اور دیگر رہنماوں نے عرب امیدواروں کے خلاف جو اتحاد تشکیل دیا تھا اور واحد لسٹ جاری کی تھی وہ بہت متزلزل بنیادوں پر استوار تھا چونکہ اس کی بنیاد عارضی مفادات تھے جو بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔

بنجمن نیتن یاہو خود کو امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے مسئلہ فلسطین سے متعلق پیش کردہ دو ریاستی راہ حل کے مقابلے میں محسوس کر رہے ہیں۔ اگرچہ ممکن ہے جو بائیڈن کی جانب سے یہ اظہار محض بناوٹی ہو اور وہ قدس شریف کی مرکزیت میں ایک حقیقی خودمختار فلسطینی ریاست تشکیل پانے کے خواہاں نہ ہو جیسا کہ ان کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر قبول کئے جانا اسی کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نیتن یاہو حتی جو بائیڈن کے ظاہری اور بناوٹی طور پر مشرق وسطی میں موجود تنازعات کے راہ حل کی بھی حمایت نہیں کرتے۔ وہ اس سے پہلے بھی اس نظریے کے حامل تھے کہ اوسلو معاہدہ ختم ہو چکا ہے اور کسی بھی نئے معاہدے میں طاقت کا بول بالا دکھائی دیتا ہے۔

لہذا وہ کسی بھی عرب طاقت کے ساتھ انجام پانے والے معاہدے نیز اسرائیل اور خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر آ جانے کو اسرائیل کی طاقت کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسے مدمقابل حکومتوں کے سیاسی موقف یا رجحانات میں تبدیلی قرار نہیں دیتے۔ اسی سوچ کے تحت اسرائیل نے قیام امن کے بارے میں موقف ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے: ہم نے دوسروں کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر یہ معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا ہے۔ دوسری طرف حتی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت دو ریاستی راہ حل کو دو طرفہ معاہدے میں تبدیل کرنے کیلئے کوشاں تھی اور طاقتور فریق کی جانب سے کمزور فریق پر اپنی مرضی ٹھونسنے سے گریزاں دکھائی دیتی تھی۔ نیتن یاہو جب وزیراعظم تھے اس وقت بھی وہ مغربی کنارے کو یہودا اور سامرہ سمجھتے تھے اور وہاں یہودیوں بستیوں کی تعمیر کو اپنا مسلمہ حق گردانتے تھے۔

بنجمن نیتن یاہو اب بھی اس عقیدے پر استوار ہیں کہ یہ سرزمین خداوند متعال نے یہودی قوم کو عطا کی ہے۔ امریکی حکومت بظاہر ہی سہی نیتن یاہو کے مقابلے میں اس لئے اعتدال پسندی کا مظاہر کرتی ہے کیونکہ خطے میں اس کے مفادات عرب اتحادیوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ لہذا امریکہ بچا کھچا کھانا ہی سہی کچھ نہ کچھ عرب حکمرانوں کو دینا چاہتا ہے اور یوں اپنے اتحادیوں یعنی سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی حفاظت کرنے کے درپے ہے۔ دوسری طرف بنجمن نیتن یاہو اس سے پہلے جب اپوزیشن میں تھے تو اسی وقت سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ سے متعلق اسرائیلی موقف پر تنقید کرتے تھے اور حکومت پر الزام عائد کرتے تھے کہ اس نے اس جنگ کے بارے میں واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے۔

نیتن یاہو سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ روس نے یوکرین کے خلاف شروع کی ہے اور برعکس درست نہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس نے روس کے ساتھ نیتن یاہو کے تعلقات کو مکمل طور پر نابود کر ڈالا تھا کیونکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ایسے موقف کو گذشتہ معاہدوں سے غداری تصور کرتے ہیں۔ ولادیمیر پیوٹن بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے شام پر جارحانہ اقدامات کو بھی گذشتہ معاہدوں کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔ روس نے نیتن یاہو کے حقیقی موقف کو پا لیا اور سمجھ گیا کہ انہوں نے روس کو دھوکہ دیا ہے اور ان سے جھوٹ بولا ہے۔ وہ معاہدے میں ریڈ لائنز کو مان جاتے تھے لیکن عملی میدان میں وہی کام کرتے تھے جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تھے اور مختلف بہانوں سے شام پر جارحیت کرتے رہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

افغانستان کے عوام کی سلامتی، ذمہ دار کون؟

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف شہر میں محکمہ …