بدھ , 7 دسمبر 2022

ورزش ڈپریشن اور بے چینی سے بچنے میں مددگار قرار

گلاسگو: ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بے چینی اور ڈپریشن کے خطرات سے دوچار افراد کی ایک تہائی تعداد مناسب ورزش کر کے ان ذہنی کیفیات سے بچ سکتے ہیں۔

اگرچہ معالجین ڈپریشن میں مبتلا افراد کو علاج کے لیے ورزش کرنے کا کہتے ہیں لیکن یونیورسٹی آف گلاسگو میں 37 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ ورزش کر کے لوگ ڈپریشن اور بے چینی جیسی ذہنی مسائل سے بچ سکتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ اگر ہر کوئی ایک ہفتے میں 75 منٹ تک سخت ورزش کرے، جس کی وجہ سے سانس پھولے، تو اس سے ڈپریشن اور بے چینی کے کیسز سے 19 فی صد تک بچا جا سکتا ہے۔اور اگر ہر ہفتے ڈھائی گھنٹوں سے پانچ گھنٹوں کے درمیان کی معتدل جسمانی سرگرمی کی جائے تو ڈپریشن اور بے چینی کے لاحق ہونے کے امکانات میں 13 فی صد مزید کمی آسکتی ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق وزرش کے ذریعے ڈپریشن اور بے چینی کے تقریباً ایک تہائی کیسز سے ممکنہ طور پر بچا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف گلاسگو سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر کارلوس سیلِس-موریلز کا کہنا تھا کہ یہ عوامی صحت کے حوالے سے ایک اہم پیغام ہے کیوں کہ ورزش مفت ہے اور ہر کوئی اس کی مقدار میں اضافہ کرسکتا ہے۔

بی ایم سی میڈیسن نامی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج میں محققین نے دیکھا کہ وہ سہل پسند افراد جنہوں نے ہر ہفتے 75 منٹ سے 150 منٹ تک سخت ورزش کرنی شروع کی ان کے ڈپریشن یا بے چینی میں مبتلا ہونے امکانات 29 فی صد تک کم ہوئے۔

جبکہ ہفتے میں 150 سے 300 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی ڈپریشن اور بے چینی میں مبتلا ہونے کے امکانات 47 فی صد تک کم سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان سے 2023 کے آخر تک پولیو کا خاتمہ ہو جائے گا، یونیسیف

اسلام آباد:یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا جارج لاریہ ایڈجی نے کہا ہے کہ …