جمعہ , 9 دسمبر 2022

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: سٹے بازی کی دنیا میں میچ سے قبل کون فیورٹ ہے؟

(محمد صہیب)

کرکٹ کا کوئی بھی میچ ہو، آپ گھر پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں یا گراؤنڈ میں، پیشگوئیاں ہر کوئی کرتا ہے۔ ’اس گیند پر آؤٹ ہو جائے گا‘، ٹارگٹ اتنے سکور سے زیادہ نہیں جائے گا‘ وغیرہ۔ تاہم اگر آپ کو اپنی پیشگوئیوں پر اتنا یقین ہو کہ آپ ان پر پیسے لگانے کے لیے بھی تیار ہو جائیں تو یہ سٹے بازی یعنی ’بیٹنگ‘ ہوتی ہے۔

کھیلوں میں سٹے بازی برسوں سے چلتی آ رہی ہے اور جہاں پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک میں یہ غیر قانونی ہے وہیں آسٹریلیا، انگلینڈ وغیرہ میں یہ ایک عام سی بات ہے۔

انگلینڈ اور پاکستان کے فائنل میچ سے قبل اس وقت سوشل میڈیا پر تبصروں کی بھرمار ہے۔ یہاں میلبرن میں بھی اکثر پاکستانی فینز پاکستان ٹیم کی جیت کے بارے میں پرجوش تو ہیں، لیکن انگلینڈ کی مضبوط بیٹنگ کی تعریف کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔

تاہم ایک رائے ان لوگوں کی بھی ہے جو میچ سے قبل اس سے متعلق پیسہ لگاتے ہیں اور میلبرن میں ایسے ہی لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ہم نے یہاں موجود ایک سپورٹس بار کا رخ کیا۔

یہاں میلبرن میں یوں تو ہر کھیل پر ہی سٹہ لگتا ہے لیکن یہاں گھوڑوں کی ریس کا سالانہ ایونٹ میلبرن کپ اس بارے میں خاصا مقبول ہے تاہم یہاں سپورٹس شاپس کا رواج کوئی خاص مقبول نہیں بلکہ عام طور پر لوگ موبائل ایپس کے ذریعے بیٹ کرتے ہیں۔

ہم جس سپورٹس بار میں گئے وہ شہر کے وسط میں واقع تھا لیکن سنیچر کو شام کے وقت خالی ہو چکا تھا۔ اس بڑے سے ہال میں دو مشینیں نصب تھیں اور ان مشینوں کے ذریعے ہی ہمیں کل کے میچ میں سٹے بازی سے متعلق ’ریٹ‘ پتا چلنے تھے۔

اے ٹی ایم نما ان میشنوں میں پاکستان اور انگلینڈ کے میچ سے متعلق سٹہ لگانے کے متعدد آپشنز موجود تھے۔ اس وقت انگلینڈ سٹے بازوں کی رائے میں فائنل کے لیے فیورٹ ہے۔

سنیچر کی بیٹنگ مارکیٹ کے مطابق انگلینڈ کے ’آڈز‘ 1.58 ہیں جبکہ پاکستان کے 2.4۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ پاکستان پر 100 ڈالرز خرچ کریں گے تو آپ کو پاکستان کی جیت کی صورت میں 240 ڈالر ملیں گے لیکن اگر انگلینڈ کی جیت پر 100 ڈالرز لگائیں گے تو آپ کو بدلے میں 158 ڈالرز ملیں گے۔

یعنی جو ٹیم میچ سے پہلے فیورٹ ہوتی ہے اس کے آڈز کم ہوتے ہیں کیونکہ اس پر رقم لگانے کی صورت میں رقم ضائع ہونے کا خطرہ بظاہر کم ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر گذشتہ ہفتے جنوبی افریقہ اور نیدرلینڈز کے میچ سے قبل جنوبی افریقہ کے آڈز کم اور نیدرلینڈز کے زیادہ تھے کیونکہ جنوبی افریقہ کی ٹیم فیورٹ تھی۔

انگلینڈ کے میچ سے قبل فیورٹ ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میلبرن میں ہی مقیم ایک سٹے باز نے ہمیں بتایا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ کنڈیشنز ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’انگلش ٹیم ان کنڈیشنز کو جنوبی ایشیائی ٹیموں سے بہتر سمجھتی ہے، اگر یہی میچ ایشیا میں ہوتا تو پاکستان کو برتری حاصل ہوتی۔

’حالیہ فارم کا بھی عمل دخل ہوتا ہے، انگلینڈ نے جس طرح سے انڈیا کو شکست دی وہ بھی بکیز کو انگلینڈ پر زیادہ پیسے لگانے کی طرف مائل کر سکتا ہے۔‘

اس سپورٹس بار میں موجود مشینیں آرکیڈ گیمز کی طرح تھیں جن میں ٹاس سے لے کر بہترین کھلاڑی اور پہلے چھ اوورز میں کتنے رنز بنیں گے تک مختلف چیزوں پر سٹہ لگایا جا سکتا تھا۔

انگلینڈ اور پاکستان کے اوپنرز کے آڈز بتاتے ہیں کہ ان سے سکور کرنے کی امید سب سے زیادہ ہے۔ جوز بٹلر اور ایلکس ہیلز نے انڈیا کے خلاف ناقابلِ تسخیر شراکت جوڑی تھی جبکہ دوسری جانب نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں بابر اور رضوان نے نصف سنچریاں سکور کی تھیں۔

حیران کن طور پر اس ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افتخار احمد کے آڈز آٹھ اعشاریہ پانچ ہیں۔ یعنی 100 ڈالر لگانے پر ان کے سکور کرنے کی صورت میں 850 ڈالر وصول ہوں گے۔

بولنگ کی بات کی جائے تو سیم کرن اور مارک وڈ کے آڈز کم ہیں اور ان سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے کی امید کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پاکستانی بولرز کے آڈز میں زیادہ فرق نہیں اور شاید اس کی وجہ ان تمام بولرز کی اب تک ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی ہے۔

شاہین آفریدی کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے آڈز سب سے کم 3.6 ہیں جبکہ گذشتہ چند میچوں سے خاموشی سے اچھی بولنگ کروانے والے نسیم شاہ کے آڈز 5.5 ہیں۔

خیال رہے کہ سٹے بازی پاکستان میں ایک غیر قانونی عمل ہے لیکن پاکستان میں بھی اس کی غیر رسمی مارکیٹ موجود ہے جسے ایک پاکستانی سٹے باز نے ’اعتبار‘ کی بنیاد پر چلنے والی مارکیٹ قرار دیا۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پاکستانی سٹے باز نے بتایا کہ ’حالانکہ یہاں پر اکثر بیٹنگ ایپس پر پابندی ہے لیکن پھر بھی کچھ ایپس اب بھی یہاں فعال ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کسی بھی جاننے والے بک میکر سے بات کر کے بھی سٹہ لگا سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر مقامی طور پر پیسے کا لین دین ہو رہا ہو تو ایسے میں تو کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے ’لیکن مسئلہ پیسے انٹرنیشنل بھجواتے ہوئے ہوتا ہے اور یہاں غیر قانونی طریقے کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بک کوئی بھی کھول سکتا ہے، اس شعبے میں موجود افراد کو پتا ہوتا ہے کہ کون معتبر ہے لیکن پھر بھی اگر آپ پیسے لے کر بھاگ جائیں تو آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہے تو یہ غیر قانونی عمل ہی۔‘

آسٹریلیا اور پاکستان دونوں میں ہی موجود سٹے باز اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ عام طور پر میچ کے دوران سٹے بازی کا بازار صحیح معنوں میں گرم ہوتا ہے اور اس دوران ہی لوگوں کے پاس سب سے زیادہ پیسے لگانے کے آپشنز ہوتے ہیں۔

پاکستان کے انگلینڈ کے خلاف میچ میں بھی صورتحال ایسی ہی ہو گی لیکن شائقین کی طرح سٹے باز بھی چاہیں گے کہ میلبرن میں جو بھی جیتے مگر میچ بارش کے باعث منسوخ نہ ہو۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

جرمنی: تختہ الٹنے کی مبینہ سازش

(پال کربی) حراست میں لیے جانے والے افراد میں خود کو ہنریک دواز دہم کہلوانے …