جمعرات , 1 دسمبر 2022

75سال بعد ایک نیا موڑ

(جاوید قاضی)

دنیا سے کچھ اچھی خبریں آئی ہیں،پیوٹن یوکرین کے اس حصے سے فوجیں واپس بلا رہا ہے جس حصے کو انھوں نے کریمیا کی طرح روس کا حصہ بنا دیا تھا ، بہت بڑی رسوائی ہے۔

برازیل میں بولسینارو کو شکست ہوگئی، امریکا میں مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ اپنا لوہا نہ منوا سکے، وہ 2024 کے الیکشن میں یقیناً اب ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار نہیں ہوںگے۔

یوں لگتا ہے رائٹ ونگ پاپولرازم کی جو تیز ہوا تھی، وہ تھم گئی ہے ۔ لازمی طور پر اس کے اثرات ہم پر بھی پڑیں گے۔ خان صاحب کے لیے رائٹ ونگ پاپولر ازم کا دنیا میں پیچھے ہٹنا کوئی اچھا عمل نہیں۔ ہماری داخلی سیاست کے جو تضادات ہیں وہ دنیا سے اثر تو لیتے ہیں لیکن اپنی علیحدہ ماہیت بھی رکھتے ہیں۔
ہم فرض کر لیں کہ جمہوریت کے عمل سے گزر کے یہ ملک حاصل کیا تھا اور مجموعی طور پر ایک آئین ہونے کے ناتے ہم جمہوری ریاست ہیں لیکن یہ بات بالکل اس کہاوت کی طرح ہے کہ ’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور د کھانے کے اور‘‘یہاں دس سال جمہوریت چلتی ہے تو دس سال آمریت ۔ جمہوری حکومت جتنا عرصہ نکالتی ہے، اس پر آمریتوں کا سایہ رہتا ہے۔

2008 کے بعد اس بار جمہوریت کچھ لمبا عرصہ نکال گئی، گو یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ کے حکم سے وزیراعظم نہ رہ سکے لیکن پارٹی نے اپنی مدت پوری کی ، نواز شریف نہ سہی خاقان عباسی ہی سہی، اس بدلتی دنیا میں جہاں اب جمہوریت کو پاکستان سے فارغ نہیں کیا جاسکتا وہاں ایک نیا طریقہ ڈھونڈا گیا، وہ تھا ہائبرڈ نظام، وہی مخصوص ’’شرفا ‘‘کا ٹولہ،وہی مخصوص دانشور اور وہی مخصوص بیانیہ ۔ لیکن ہماری معیشت نہ چل سکی، اسٹیبلشمنٹ کو لینے کے دینے پڑ گئے، حالات اپنے انداز سے 1970جیسے ہوگئے یعنی وہ بے چینی پھیلی کہ جس کی ماضی میں کوئی بھی مثال نہیں ، ملک ایک معاشی انارکی کے دہانے پر آپہنچا۔

ایک ایسا کڑا وقت جس میں ایک پالیسی کے تحت فیصلہ ہوا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی ، ایک اعتبار سے اس بات کا اعتراف ہے کہ اس ملک کو دراصل مداخلت نے ہی نقصان پہنچایا ہے، لیکن اس کا ذمے دار مکمل طور پر فوج کو بھی نہیں ٹھہرایا جاسکتا ، بیوروکریسی، عدلیہ اورسیاستدانوں نے بھی پورا حصہ ڈالا ہے۔ یہاں گئے ہوئے سامراج کا اثر ہندوستان کے نسبت میں پاکستان کے علاقوں میں زیادہ تھا، اس کی ایک وجہ ہماری جغر افیائی حیثیت تھی۔

ایک طرف سے افغانستان لگتا تھا جس کے پیچھے سوویت یونین بیٹھا تھااور سرد جنگ کا سب سے بڑا معرکہ وہی ہونا تھا لہٰذا امریکا پاکستان میں جمہوریت نہیں چاہتا تھا۔ جناح صاحب تھے وہ تو پاکستان بنا کے چلے گئے اور جس پارٹی نے پاکستان بنایا وہ چند ہی برسوں میں غیر مقبول ہوگئی ۔ یہ جو آج منظر بنا ہے 75 سال کے بعد سیاسی طور پریہ ان تمام عوامل و تضادات کا تسلسل ہے جسے ہم اپنی تاریخ کہتے ہیں۔

ایک طرف فوج ہے جو سیاست میں اب مداخلت نہیں کرنا چاہتی اور دوسری طرف سیاستدان ہیں جو فوج کی سیاست میں مداخلت چاہتے ہیں ۔ ان سیاستدانوں میں دو قسمیں ہیں، ایک وہ سیاستدان جو بنے ہی فوج کی مدد سے ہیں لیکن اب وہ اپنی جڑیں عوام میں بنا چکے ہیں اور ایک وہ سیاستدان ہیں جن کو ہمیشہ کنگز پارٹی راس آتی ہے یعنی وہ پارٹی جو مختلف وقتوں پر آمر بناتا ہے۔

خان صاحب سول حکمرانی کی جنگ نہیں لڑرہے ہیں ۔ یہ جو خان صاحب کی اسٹبلیشمنٹ کے ساتھ جنگ ہے وہ دراصل اس بات کی ہے کہ آپ نے ہم سے دوستیاں کیوں ختم کیں اور یہ دوستیاں ہمارے ساتھ بحال کریں ۔ دوسری طرف شہباز شریف ایک ایسی شکل ہیں جو ہارڈ لائن نہیں رکھتے اور سیاست کے انتہائی منجھے ہوئے کھلاڑی یعنی زرداری صاحب بھی شہباز صاحب کی اس سوچ کے قریب ہیں۔

یقینا ان کواسٹبلشمنٹ کی حمایت نہیں ہے تو ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی اسٹبلشمنٹ مخالف بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے ان کو عدالت سے ریلیف نہ بھی ملتا ہو لیکن عدالتوں نے ایک لحاظ سے ریلیف دیا بھی ہے۔ ان کے لیے یہی کافی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اے پولیٹکل رہے۔ خان صاحب کو ایسا نہیں چاہیے،جو بات سمجھ نہیں آرہی یا سمجھنے کی ضروت ہے یا جن باتوں کا ہمیں جواب چاہیے، اس میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پھر یہ ملک اسی طرح ہی چلتا رہے گا۔ کیا پھر روز کوئی نہ کوئی ڈراما ہوتا رہے گا۔

کبھی سجاد علی شاہ کو سپریم کورٹ سے اکھاڑا جائے گا ، کبھی 58(2)(b) کے ذریعے حکومت کو ختم کیا جائے گا۔ کبھی ٹرپل ون بریگیڈ ایوانوں کا محاصرہ کرے گی، تو کبھی اقامہ جیسے فیصلے دیے جائیں گے۔ اس بار ہماری فوج کی سوچ میںبہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور ہوسکتا ہے کہ میں غلط بھی ہوں اور اگر صحیح ہوں تو یہ بہت خوش آیند بات ہے۔

یہ حکومت کتنی کمزور کیوں نہ ہو یہ بات تو اس حکومت کا دشمن بھی مانے گا کہ خارجی سطح پر جو اس حکومت نے کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ جو تنہائی خارجی سطح پر ہمیں گزشتہ حکومت نے دی تھی اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کسی بھی لحاظ سے بلاول بھٹوسے کوئی بھی مقابلہ نہیں ہے۔

مصر میں ماحولیات کے حوالے سے جو کانفرنس تھی یا جو ابھی جی سیون کی آنے والی ملاقات ہے یا جو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ہیں سب نے پاکستان میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے تباہی کو دنیا میں متعارف کرایا جس سے ہمیں بہت سے قرضوں میں چھوٹ ملنے کی توقع ہے ۔ ہمارا بنیادی مقصد اس وقت یہ ہے کہ شرح نمو کو کم سے کم پانچ فیصد تک لے جائیں اور اس کے ساتھ آگے دس برسوں تک یہ کم از کم سات فیصد تک چلے۔ اس زمین میں بہت طاقت ہے یہ زمین زرخیز ہے ۔ پاکستانی عوام کے ذہن بھی زرخیز ہیں۔

پاکستان کا مسئلہ نام نہاد شرفاء ہیں اور خصوصا وہ شرفاء کا وہ طبقہ جسے آئین کی حکمرانی ، قانون کی بالادستی، جمہوریت ، پارلیمنٹ کی سپر میسی نہیں چاہیے۔ یہ سازش پاکستان کے دیہاتی پس منظر والے علاقوں میں نہیں بنتی، یہ جمہوریت کے خلاف، آئین کے خلاف ،قانون کی حکومت کے خلاف، سازش شہروں کے ان حلقوں میں بنتی ہے جو بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں۔

جو ریٹائرڈ افسر ہیں جنھوں نے محنت کرکے یا کاروبار کرکے دولت نہیں کمائی بلکہ ریاست کی مشینری کے اندر گھس کر مراعات حاصل کیں اور پھر اپنے کارخانے بنائے یا کاروبار کیے، لیکن ان کی ذہنیت آج بھی سازشی ہے ہیں، وہ ایک مخصوص بیانیہ کولے کے چلتے ہیں جو آمریتوں نے بنایا ہے ، وہ بار بار کوشش کرتے ہیں کہ فوج مداخلت کرے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔ آیندہ دو ہفتے سب کچھ واضح کردیں گے، لانگ مارچ تو خان صاحب کب کا ختم کرچکے، اب صرف رسم باقی ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یورپ کی چین سےتعلقات کی از سر نو استواری، امریکہ- یورپ تقسیم کو ظاہر کرتی ہے؟

یوکرین تصادم اور روس اور مغرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سےیورپ کے …