منگل , 29 نومبر 2022

ایران کے خلاف ہائبرڈ جنگ

(تحریر: عسکری مقدس)

(پارٹ 1)

دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے زندگی کے ہر شعبے میں نت نئی تبدیلیاں رونماء ہو رہی ہیں۔ عالمی طاقتیں دنیا پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے اور مخالفین کو شکست دینے کے لئے جدید طریقے آزما رہی ہیں۔ دنیا پر راج کرنے اور دوسروں کو زیردست رکھنے کا خواب بڑے ممالک کو روایتی جنگ سے ہٹ کر غیر روایتی اور جدید جنگی حربے استعمال کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں چین سمیت کئی ممالک نے امریکی زیر سرپرستی دنیا میں رائج سریایہ دارانہ نظام کو چیلنج کرنا شروع کیا۔ ماہرین نے صدی کے آغاز میں ہی مغرب سے مشرق کی طرف طاقت کا توازن بدلنے کی پیشن گوئی کی تھی۔ دو عشرے گزرنے کے بعد سامنے آنے حالات سے یہ پیشن گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے۔ امریکہ اور مغربی استعمار نے اپنی ساکھ کو بچانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ موجودہ دور میں چین کے ساتھ ساتھ ایران مغربی استعمار کے لئے بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ چین اقتصادی میدان میں امریکہ کی نیندیں حرام کر رہا ہے جبکہ ایران نے نظریاتی میدان میں عالمی استعمار کو شکست کی طرف دھکیلنا شروع کیا ہے۔

انقلاب اسلامی نے محکوم اقوام اور محروم طبقات کو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کا سلیقہ سکھایا۔ چالیس سال علاقائی اور عالمی سامراج کے سامنے استقامت کرنے پر ایران مقاومت کا نمونہ بن چکا ہے۔ عراقی اور شامی جوانوں نے جنرل قاسم سلیمانی کی نگرانی میں داعش جیسی دہشت گرد اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو تگنی کا ناچ نچا دیا۔ ایران کی مقاومتی حکمت عملی کی وجہ سے گریٹر اسرائیل اور ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کردہ ڈیل آف سنچری جیسا منصوبہ بری طرح ناکام ہوا۔ ایران میں حاکم اسلامی انقلاب کے اثرات اب مشرق وسطیٰ سے نکل کر افریقہ اور جنوبی امریکہ میں بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ صدام حسین کے ذریعے آٹھ سال ایران پر جنگ مسلط کی گئی، لیکن ایرانی قوم نے صدام اور اس کی پشت پناہی کرنے والے 54 ممالک کے اتحاد کو شکست دی۔ محدود وسائل کے ساتھ آٹھ سال تک بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے بعد ایران کے خلاف براہ راست جنگ کا امکان بہت کم ہے۔ اگرچہ امریکہ بار بار فوجی کارروائی کے آپشن کا ذکر کرتا ہے، لیکن مبصرین اس کو گیڈر بھبھکی ہی قرار دیتے ہیں۔

روایتی جنگ میں کامیابی کے امکانات کم اور شکست کے خوف کی وجہ سے ایران کے خلاف ہائبرڈ جنگ شروع کی گئی۔ امریکی فوجی کرنل فرینک جی ہافمن نے 2006ء میں ہائبرڈ جنگ کا نظریہ پیش کیا تھا۔ ہائبرڈ جنگ سے مراد ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے، جس میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ بیک وقت روایتی ہتھیار اور وسیع حربے استعمال کرنے کے علاوہ دہشت گردی اور دیگر جرائم کو فروغ دیا جاتا ہے، تاکہ نتیجے میں پیدا ہونے والی مخدوش صورتحال کا فائدہ اٹھا کر مطلوبہ ہدف حاصل کیا جائے۔ ہائبرڈ جنگ کسی خاص میدان تک محدود نہیں ہوتی ہے۔ 2015ء میں میونخ میں منعقدہ سکیورٹی اجلاس کے مطابق ہائبرڈ جنگ آٹھ مختلف محاذوں پر لڑی جاسکتی ہے۔ ایران کے خلاف اقتصادی، سیاسی، ثقافتی اور نفسیاتی یلغار کی گئی۔ 1999ء، 2009ء اور 2020ء میں میڈیا کی آزادی، سیاسی اصلاحات اور دیگر امور کو بہانہ بنا کر ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ 2012ء میں اوباما انتظامیہ نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کیا۔

حکومت کی طرف سے متعدد اشیاء پر سبسڈی دیئے جانے کے باوجود عوام ان پابندیوں سے متاثر ہونے لگے۔ اسمگلنگ مافیا مختلف اشیاء پر حکومت سے سبسڈی لینے کے بعد ملکی مارکیٹ اور بازار میں پہنچانے کے بجائے مذکورہ اشیاء کو ہمسایہ ممالک میں اسمگل کرنے لگا۔ سابق صدر حسن روحانی کی حکومت میں کئی مرتبہ سبسڈی ختم کرنے پر غور ہوا، لیکن عوامی ردعمل اور انتخابات میں ممکنہ شکست کے پیش نظر عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ صدر ابراہیم رئیسی نے انتہائی سخت قدم اٹھاتے ہوئے صنعتی اداروں کو سبسڈی دینے کے بجائے مذکورہ رقم عوام کے اکاونٹ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ناگزیر اقدام کے نتیجے میں اسمگلنگ رک گئی اور مارکیٹ میں اشیاء خورد ونوش کی قلت بھی ختم ہوگئی، لیکن ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔ غریب عوام کی قوت خرید جواب دینے لگی۔ مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کے غم و غصے سے غلط فائدہ اٹھانے کے لئے عالمی سامراجی طاقتیں تیار تھیں۔ چنانچہ صوبہ کردستان سے تعلق رکھنے والی لڑکی مہسا امینی کی ناگہانی موت کا واقعہ رونما ہوا۔

تحقیقات سے پہلے ہی مہسا امینی کی موت کو قتل قرار دیا گیا اور اقتصادی میدان تک محدود جنگ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دوسرے محاذوں تک پھیلایا گیا۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق ملک میں ستمبر میں ہونے والے فسادات کی سازش پہلے سے تیار کی گئی تھی۔ مہسا امینی کی موت کو ان فسادات کے لئے مقدمہ بنایا گیا۔ سیاسی نظام پر حملہ ہائبرڈ جنگ کا ایک اہم عنصر ہے۔ حالیہ مظاہروں کے دوران ایران میں حاکم اسلامی جمہوری نظام کے ساتھ ساتھ سپریم لیڈر سمیت مذہبی قیادت کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ایران کے آئین کے مطابق امام خمینی اور سپریم لیڈر کی شان میں گستاخی کی سزا چھے ماہ سے دو سال کی قید ہے۔ ایرانی عوام کے لئے اسلامی نظام اور سپریم لیڈر ریڈ لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دشمن عوام کی اس حساسیت سے بخوبی آگاہ تھے، اسی لئے دکھتی رگ پر سوچ سمجھ کر ہاتھ رکھا تھا۔

اس موقع پر جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت تھی، چنانچہ اسلامی نظام اور سپریم لیڈر کے خلاف نعرے لگانے والوں کے خلاف براہ راست کارروائی سے مکمل اجتناب کیا گیا۔ رہبر اعلیٰ نے بسیجی جوانوں کے ساتھ ملاقات میں اپنے خلاف نعرے لگانے کے خلاف کارروائی سے صریح منع کیا اور بسیجی جوانوں کو ہدایت کی کہ اپنی طاقت کو ہم وطنوں کے خلاف آزمانے کے بجائے دشمنوں کے خلاف استعمال کریں۔ ذرائع ابلاغ اور دیگر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو عقل اور منطق سے سمجھانے کی کوشش کی گئی۔ امام خمینی کے پوتے سید حسن خمینی سمیت اہم شخصیات نے اسلامی نظام اور رہبر اعلیٰ کی شان میں گستاخی کی سختی سے مذمت کی۔ یاد رہے کہ مغربی میڈیا میں سید حسن خمینی کو موجودہ اسلامی نظام کے مخالفین میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکومت اور عوام کی جانب سے ہوشیاری اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے دشمن ناکام ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسمبلیوں سے نکل جائیں گے یعنی؟؟

(تحریر: سید اسد عباس) ایک طویل سیاسی اور احتجاجی ڈرل کے بعد عمران خان نے …