ہفتہ , 10 دسمبر 2022

ایئر شو کے دوران دو پرانے لڑاکا طیارے فضا میں ٹکرا گئے؛ دو پائلٹ ہلاک

واشنگٹن:امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک ایئر شو کے دوران دوسری عالمی جنگ کے دو ونٹیج طیارے (یعنی پرانے تاریخی اہمیت کے حامل طیارے) فضا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو گئے جس میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فوٹیج میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کم اونچائی پر ایک دوسرے سے ٹکرائے، جس کے نتیجے میں ایک طیارہ بیچ سے ٹوٹ جاتا ہے اور جب یہ زمین سے ٹکراتا ہے تو آگ کا گولہ زمین سے اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔

ان میں سے ایک طیارہ ’بوئنگ بی-17 فلائنگ فورٹریس‘ تھا۔ یہ طیارے ڈیس کے قریب ایک یادگاری ایئر شو میں حصہ لے رہے تھے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں طیاروں میں کتنے افراد سوار تھے لیکن دو متاثرین کے نام بتائے جا رہے ہیں۔

امریکن ایئرلائنز کے پائلٹوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ’الائیڈ پائلٹس ایسوسی ایشن‘ نے کہا کہ اس کے دو سابق ارکان ٹیری بارکر اور لین روٹ طیارے کے اس تصادم میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

امریکہ کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ وہ سنیچر کے روز ونگز اوور ڈیلس ایئر شو میں ہونے والے حادثے کی تحقیقات کرے گی۔ یہ ایئر شو خود کو دوسری جنگ عظیم پر مبنی امریکہ کے پریمیئر ایئر شو کے طور پر بیان کرتا ہے۔

خیال رہے کہ تین روزہ ایونٹ ویٹرنز ڈے کے اعزاز میں منعقد کیا جا رہا تھا جو کہ جمعہ کو شروع ہوا اور اس شو کو دیکھنے کے لیے 4000 سے 6000 کے درمیان لوگ موجود تھے۔

ڈیلس کے میئر ایرک جانسن نے اسے ایک ’خوفناک سانحہ‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ‘ویڈیوز دل دہلا دینے والی ہیں۔ براہ کرم، ان افراد کے لیے دعا کریں جو آج ہمارے خاندانوں کو تفریح فراہم کرنے ​​اور تعلیم دینے کی خاطر آسمان پر پہنچی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن انھوں نے مزید کہا کہ زمین پر کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

ایونٹ کی ویب سائٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کے روز کئی طیاروں نے فلائی اوور کا مظاہرہ کرنا تھا۔بی-17 بمبار طیارے نے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف فضائی جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

حادثے میں شامل دوسرا طیارہ ایک پی-63 کنگ کوبرا تھا جو دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والا لڑاکا طیارہ تھا، لیکن اسے صرف سوویت فضائیہ نے لڑائی میں استعمال کیا تھا۔

اس تقریب کا اہتمام کرنے والی تنظیم کے ہانک کوٹس نے کہا کہ بی-17 طیارے میں عام طور پر تقریباً چار سے پانچ افراد کا عملہ ہوتا ہے، جب کہ پی-63 میں ایک ہی پائلٹ ہوتا ہے۔ لیکن اس حادثے میں کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں وہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’یہ دوسری جنگ عظیم کی پروازوں کی ایک قسم کی نمائش کا ایئر شو تھا جہاں ہم ان طیارے اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔‘

 

یہ بھی دیکھیں

خلیج، چینی سربراہ کانفرنس میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر زور

ریاض:چینی اور خلیجی قیادت نے خلیج، چینی سربراہ کانفرنس برائے تعاون وترقی کے جمعہ کے …