پیر , 28 نومبر 2022

عراق کے 1700 شیعہ کیڈٹس کو قتل کرنے والا جلاد گرفتار

بیروت:لبنانی حکومت نے سابق عراقی ڈکٹیٹر صدام کے قریبی رشتہ دار کو عراقی حکومت کے حوالے کر دیا جسے اسپائیکرز قصائی کہا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق،عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام کے سوتیلے بھائی کے پوتے کو لبنانی حکومت نے عراق کے حوالے کر دیا جو اسپائیکر واقعے کے جلادوں میں سے ایک تھا۔ایک عراقی سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ صدام کے سوتیلے بھائی کے پوتے کو، جو 2014 میں اسپائیکر کیمپ میں داعش کے ذریعہ انجام دئے فئے جرائم میں ملوث تھا، اسےلبنان سے حراست میں لیا گیا ۔

عراقی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سابق عراقی ڈکٹیٹر صدام کے سوتیلے بھائی کے پوتے عبداللہ سبعاوی کو جمعہ کو عراق کے حوالے کر دیا گیا۔ سبعاوی اسپائکر کیمپ کے مجرموں میں سے ایک تھا جس نے دہشت گرد گروہ داعش کے زمانے میں 2014 میں عراقی فوج کے درجنوں افسران اور کیڈٹس کا قتل عام کیا تھا۔

لبنان کے ایک عدالتی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 1994 میں پیدا ہونے والے سبعاوی کو 11 جون 2022 کو عراق کی انٹرپول کی اپیل کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، اس خوفناک دہشت گرد نے تقریباً 1700 شیعہ کیڈٹس کا قتل عام کیا جو عراقی شہر تکریت میں واقع ایئر فورس کنٹونمنٹ سپائیکر میں ایئر فورس کی ٹریننگ حاصل کر رہے تھے۔

2014 میں اسپائیکر کالج میں داعش کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے تمام ریکروٹس کی عمریں 20 سال سے کم تھیں۔ سپائیکر کے قتل عام کے بعد داعش کے اس خوفناک دہشت گرد کا نام ایمن اسپائکر رکھا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 2014 میں داعش کے دہشت گردوں نے تکریت کے قریب سپائیکر چھاؤنی پر حملہ کر کے 1700 فوجی اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ داعش نے قتل عام کی ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں مغوی کیڈٹس کو زمین پر پڑے اور ان پر گولیاں برساتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تکریت کی آزادی کے بعد عراقی سیکورٹی فورسز کو ایک اجتماعی قبر سے چھ سو عراقی کیڈٹس کی لاشیں ملیں۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے دہشتگردوں نے اسپائیکر کیمپ میں کم از کم 1700 افراد کو ہلاک کیا۔

یہ بھی دیکھیں

بی جے پی کے رکن اسمبلی کی غنڈہ گردی؛ بس اسٹینڈ پر بنے گنبدوں کو ہٹادیا

میسور: کرناٹک میں مودی سرکار کے رکن اسمبلی نے ایک بس اسٹاپ پر بنے اسٹینڈ …