پیر , 5 دسمبر 2022

نیتن یاہو کی ممکنہ کابینہ انتہائی خطرناک قرار:اسرائیلی فوجی جنرل

یروشلم:اسرائیل کے ایک اعلی سطحی فوجی جنرل نے بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے بیزالل اسماتریچ کو وزیر جنگ کا قلمدان سپرد کئے جانے کے امکان کو امن کیلئے تباہ کن قرار دیتے ہوئے مستقبل قریب میں بڑے سانحے کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنرل عاموس گلعاد جو اس سے پہلے غاصب صیہونی رژیم کی وزارت جنگ میں سکیورٹی اور سیاسی سیکشن کے سربراہ کے فرائض انجام دے چکے ہیں اور نیشنل ملٹری انٹیلی جنس سنٹر (امان) کے سابق سربراہ بھی رہ چکے ہیں، نے نئے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اعلان کردہ نئی کابینہ کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مستقبل قریب میں اس کے تباہ کن نتائج سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے بیزالل اسماتریچ کو وزیر جنگ کا قلمدان سپرد کئے جانے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں یہ عہدہ دے دیا جاتا ہے تو اس کے انتہائی بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔ یاد رہے بیزالل اسماتریچ "صیہونزم پارٹی” کے صدر ہیں۔ دوسری طرف غاصب صیہونی رژیم کے صدر اسحاق ہرٹزوگ نے آج اتوار 13 نومبر کو سرکاری طور پر لیکوڈ پارٹی کے سربراہ بنجمن نیتن یاہو کو نئی کابینہ تشکیل دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

اب بنجمن نیتن یاہو کے پاس اپنے حتمی کابینہ تشکیل دینے کیلئے 28 دن کا موقع ہے۔ اگر وہ اس مدت کابینہ تشکیل نہیں دے پاتے تو انہیں مزید 14 دن کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اگر وہ دوبارہ اس مدت میں کابینہ تشکیل دینے میں ناکام رہتے ہیں تو کینسٹ کے الیکشن دوبارہ منعقد کروائے جائیں گے۔ اسرائیل کے اندرونی حلقوں میں بنجمن نیتن یاہو کی ممکنہ کابینہ کے بارے میں شدید تشویش اور پریشانی پائی جاتی ہے کیونکہ ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں کہ وہ شدت پسند عناصر کو اہم اور حساس وزارتیں سپرد کرنے والے ہیں۔ یہ پریشانی صرف اسرائیل کے اندرونی حلقوں تک محدود نہیں بلکہ صیہونی وزیر عیساوی فریچ کے بقول عرب ممالک میں بھی اس بابت شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

صیہونی صدر کے دورۂ بحرین کے موقع پر تل ابیب ایئرپورٹ کی چیک پوسٹ پر حملہ

یروشلم:صیہونی حکومت کے صدر کے پہلے دورۂ بحرین کے موقع پر، تل ابیب کے بین …