جمعرات , 1 دسمبر 2022

عمران خان اور ریاستِ مدینہ؟

(سید عارف نوناری)

عمران خان اگر دوبارہ اقتدار میں آئے تو شاید صحیح طریقےسے ریاست مدینہ کے تصور کو سمجھ سکیں۔ ریاست مدینہ کے ساتھ منسلک انسانیت کا وسیع ترتصور بہت اہمیت کا حامل ہے بلکہ اسلامی ریاست میں تو اگر ایک کتا بھی بھوکا پیاسا مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی ریاست کے سربراہ پرعائد ہوتی ہے، خلفائے راشدینؓ کا زمانہ ریاست مدینہ کی بہترین مثال ہے ۔

دین اسلام ہمیں ہمدردی، خیر سگالی اور دوسروں کی تکالیف میں ان کی مدد کے لئے عملی اقدامات کرنے کا درس دیتا ہے۔ غریبوں، مسکینوں، بیماروں، ناداروں اور بے سہارا لوگوں کی تکالیف اور دکھ درد میں شریک ہونا ہمارا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اسلام پسے ہوئے طبقے کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے اور اپنے رزق میں سے کچھ حصہ انسانی مشکلات میں پھنسے ہوئے انسانوں پر خرچ کرنے کی تلقین بھی کرتا ہے۔ اسی لئے اسلام میں صدقات کی بے شمار قسمیں ہیں جو غیر جانبداری کے تصور سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہم نے اگرپاکستان کو درست سمت میں یعنی اسلام کے احکامات کے عین مطابق بنانا ہے تو ہمیں اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنا اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے قرآن و حدیث میں واضح احکامات موجود ہیں ۔ قرآن کریم میں ہے کہ ’’جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ وظاہر (راہِ خدا) میں خرچ کرتے ہیں ،ان کا صلہ پروردگار اعلیٰ کے پاس ہے اور ان کو قیامت کے دن نہ کسی طرح کا خوف ہو گا اور نہ غم۔‘‘ ایک دوسری جگہ فرمان ہے، ’’مومنو، جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا) میں خرچ کرو اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا‘‘۔قرآن کی ان آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کے لئے قیامت کے دن بے شمار آسانیاں ہوں گی اور انہیں کوئی غم یا فکر نہ ہو گا۔ چنانچہ یہ حکم ربانی ہے کہ انسانیت کی خدمت کے لئے زیادہ سے زیادہ مال خرچ کیا جائے۔ اسلام میں زکوٰۃکا نظام بھی اس بات کی روشن دلیل ہےکہ اس عمل سے غربا، مساکین، بیوائوں اور غریب خاندانوں کی مالی معاونت ہوتی ہے ۔ قرآن فرماتا ہے، ’’جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا ساری انسانیت کو بچایا۔‘‘ اس آیت میں انسانیت کے تصور کی بھرپور عکاسی ہے۔

نبی کریم ﷺاس دنیا میں تشریف لائے توتمام عالمین کے لئے رحمت بن کرتشریف لائے۔آپ ﷺ کی زندگی کے بے شمار واقعات و حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے انسانیت کو مقدم ر کھا اور اولیت دی۔آپ ﷺ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ انسان کو رہنمائی مہیا کرتا ہے۔ اسلامی اصول دنیا کے سنہری اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان انسانیت کی بھلائی اور انسانیت کے مقدس رشتے کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے رضاکارانہ خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان غیر مسلموں اور اقلیتوں سے بلاامتیاز بہتر سلوک کرتے ہیں۔ ریاست مدینہ کا تصور بھی اقلیتوں کو مکمل حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلامی ریاست میں غیر جانبداری کو انسانی خدمت کے سلسلے میں بہت پروموٹ کیا گیا ہے۔ اسی لئے دنیا بھر میں کہیں بھی زلزلہ آئے، طوفان آئے یا کوئی دوسری قدرتی آفت نازل ہو تو دنیا بھر کے مسلمان بلاامتیاز رنگ و نسل امدادکے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ اسلام نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پرندوں اور حشرات الارض سے بھی حسن سلوک کا درس دیتا ہے۔

اسلام میں حقوق و فرائض کا تصور غیر جانبداری کی ایک لازوال مثال ہے۔ خلفائے راشدینؓ کی حکمرانی کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ایسی بے مثال مثالیں سامنے آتی ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان بزرگ ہستیوں نے اپنی زندگی اور ریاستی امور قرآن و سنت کی روشنی میں سرانجام دیئے اور ان امور میں کبھی جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ غلاموں کے حقوق اور ان کو انصاف کی فراہمی بھی یقینی بنائی۔ سرولیم میور، ایس ڈی گوتین، فلپ کیتھی، تھامس آر نول، ایچ اے آرگب، مورس گاڈ فرائے، رابرٹ پائن، منٹگمری واٹ اور مائیکل ہارٹ جیسے لوگوں کے خلفائے راشدینؓ کے نظام حکومت کے بارے میں بے شمار خیالات تحریری شکل میں موجود ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں غیر جانبداری اور ریاستی امور کو سرانجام دینے میں خلفائے راشدینؓ نے کس حد تک اسلامی نظام کو ریاست اورخودپر نافذ کیا۔

حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ’’میں خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت ہوں۔‘‘ صحابہ کرامؓ کی زندگی سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ انہوں نے قرآن و سنت کے احکامات کو پھیلانے کے لئے عملی اقدامات کئے اور اسلامی تصور کو پروان چڑھانے کے لئے بلاامتیاز دنیا کے ہر کونے میںاسلامی تعلیمات کو عام کیا۔صحابہ کرامؓ فلاحی کاموں میں حصہ لیتے تھے اور انسانیت کی خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔اب ہمارے حکمرانوں کے ادوار کا جائزہ لے لیں جنہوں نے عرصہ دراز حکومت کی لیکن پاکستان ریاست مدینہ نہ بن سکا ۔ ریاست مدینہ میں انصاف سب کے لئے برابر ہوتا ہے اور حضرت علی ؓکا فرمان ہے کہ ’’ معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتا ہے ناانصافی پر نہیں‘‘ اور یہی ریاستِ مدینہ کا بنیادی اصول ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

خان صاحب کو داد دیں

(تحریر : رؤف کلاسرا) وقت بھی کیا کیا ستم کرتا ہے۔ ایک سال پہلے تک …