پیر , 5 دسمبر 2022

ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی اور عالمی خریدار

(تحریر: سید اسد عباس)

گذشتہ چند ماہ سے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ، یورپی یونین اور یوکرائن کی جانب سے ایران پر یوکرائن جنگ کے لیے روس کو ڈرونز فراہم کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اس خبر کو سن کر انسان کو حیرت ضرور ہوتی ہے کہ روس دنیا کی دوسری بڑی فوجی اور معاشی طاقت ہے۔ ان میدانوں میں روس امریکہ سے کسی طور بھی کم نہیں، ایسے میں بھلا روس کو ایرانی ڈرونز کی کیا ضرورت۔ مغربی ممالک کے ڈرون فراہم کرنے کے بیانات سے ایسا محسوس ہوتا تھا، جیسے وہ ایران کو کسی نئے شکنجے میں جکڑنا چاہتے ہیں اور ڈرونز کا بہانہ بنا کر وہ ایران کو برجام معاہدے میں نرمی اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی حکومت کے مسئولین یوکرائن جنگ کے لیے روس کو ڈرونز یا میزائل فراہم کرنے کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے آئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اور خود وزیر خارجہ نیز سفارتخانوں نے اس حوالے سے بیانات جاری کیے، جس میں کہا گیا کہ ہم واضح کرچکے ہیں کہ ایران کا یوکرائن جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم اس جنگ کا کبھی حصہ نہیں بنیں گے، نیز یہ کہ ایران یوکرائن جنگ کا سیاسی حل چاہتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے یوکرائن کو یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر اس کے پاس ایران کے ڈرونز کے یوکرائن جنگ میں استعمال کے شواہد موجود ہیں تو وہ دونوں ممالک کے ماہرین کا ایک کمیشن قائم کرے اور ان شواہد کو اس کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے۔ یوکرائن نے تاحال ایسے کسی کمیشن کے قیام کا عندیہ نہیں دیا ہے اور مغربی ممالک کے مختلف عہدیداروں کی جانب سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

ایران پر ڈرون فراہم کرنے کے الزام کی بنیاد کیا ہے۔ اولاً یہ کہ گذشتہ چند ماہ میں روس نے یوکرائن میں ایسے ڈرونز کا بے تحاشا استعمال کیا ہے، جو اپنے ہدف کو تلاش کرسکتے ہیں اور پھر وہ اس ہدف کو نشانہ بنا کر خود بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔ ان ڈرونز نے یوکرائن کو جنگ میں خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ڈرونز سویلینز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ ثانیاً ایران نے گذشتہ چند برسوں میں ایروسپیس ٹیکنالوجی میں مثالی پیشرفت کی ہے۔ امریکہ کے ڈرون کو اپنی سرزمین پر باحفاظت اتارنے سے لے کر مہنگے ترین امریکی ڈرون کو تباہ کرنے تک ایران نے ثابت کیا ہے کہ اس کے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے، جو امریکی ٹیکنالوجی سے برتر ہے۔

اسی طرح حالیہ برس ہی ایران نے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں مختلف ایرانی ڈرونز کی تصاویر اور کارکردگی کو دکھایا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی نے مغربی دنیا مین ہلچل پیدا کر دی۔ ابتدا میں مغربی ممالک نے اس پیشرفت کو فوٹو شاپ قرار دیا، یعنی ایران کی بنائی گئی ویڈیو فقط خیالی تصاویر ہیں، پھر اہل مغرب کو اندازہ ہوا کہ نہیں یہ فوٹو شاپ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ایران ڈرون ٹیکنالوجی میں دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایران اس وقت دنیا کے متعدد ممالک کو ڈرونز ایکسپورٹ بھی کر رہا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اس وقت دنیا کو مزید حیران کیا، جب انھوں نے بتایا کہ ایران نے یوکرائن جنگ سے قبل روس کو ڈرونز مہیا کیے تھے، تاہم یہ ڈرونز یوکرائن جنگ کے لیے نہیں دیئے گئے تھے۔ وزیر خارجہ امیر عبداللہیان نے کہا کہ ایران یوکرائن جنگ کے خلاف ہے اور اس مسئلہ کا فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل چاہتا ہے۔ امیر عبد اللہیان نے مزید کہا کہ میری اپنے یوکرائنی ہم منصب سے بات ہوئی ہے اور ہم نے اتفاق کیا ہے کہ اگر ان کے پاس ایرانی ڈرونز کے یوکرائن میں استعمال کے شواہد موجود ہیں تو وہ ہمیں فراہم کریں، تاکہ ہم اس کا تجزیہ کرسکیں۔ حسین امیر عبداللہیان نے بتایا کہ ان کی اپنے روسی ہم منصب سے بھی بات ہوئی ہے اور انھوں نے شواہد کی تحقیق کے لیے رسائی کا وعدہ کیا ہے۔

کرملن کی ترجمان ڈیمتری پیسکوو نے ایرانی ڈرونز کے یوکرائن جنگ میں استعمال کے سوال کے جواب میں کہا کہ روس یوکرائن جنگ میں روسی ساختہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے، اس کی مزید تفصیلات کے لیے منسٹری آف ڈیفنس سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کے مسئولین کا دعویٰ ہے کہ پابندیوں کے سبب روس اپنی صنعت میں ہتھیار کی پیداوار نہیں کر پارہا، لہذا وہ ایران اور شمالی کوریا سے ہتھیار درآمد کر رہا ہے۔ ایرانی مسئولین کی جانب سے بھی گذشتہ دنوں چند ایک بیانات سامنے آئے، جو ڈرونز کی فراہمی اور ایکسپورٹ سے متعلق ہیں۔ ایران کے سپاہ پاسداران کے سربراہ نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ اس وقت دنیا کی کئی ایک طاقتیں ایران سے ہتھیار اور دفاعی سامان خریدنے کی خواہشمند ہیں، روس بھی ان میں سے ایک ہے۔ اسی طرح رہبر انقلاب اسلامی کے فوجی مشیر رحیم صفوی نے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت دنیا کے بائیس ممالک ایران سے ڈرون خریدنا چاہتے ہیں۔

یوکرائن جنگ میں ایرانی ڈرونز کے استعمال کا معاملہ کیا ہوتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، تاہم ایران کا ڈرون ٹیکنالوجی میں ایک برآمد کنندہ کے طور پر سامنے آنا مسلم دنیا کے لیے نہایت خوش آئند ہے۔ حال ہی میں ایران کی ایروسپیس ٹیکنالوجی کے سربراہ جنرل حاجی زادہ نے ایران کی جانب سے ہائپر سونک میزائل کی نقاب کشائی کا اعلان کیا ہے۔ ہائپر سانک ٹیکنالوجی دنیا کے چند ممالک کے پاس ہے، جن میں شمالی کوریا، چین، امریکہ اور روس شامل ہیں۔ ایران مسلم دنیا کا پہلا ملک ہے، جس نے اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ میزائل آواز سے تیز رفتار کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل حجم میں چھوٹا ہوتا ہے اور راڈار یا کسی بھی ایئر ڈیفنس سسٹم کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ میزائل ہدف کے قریب پہنچ کر مزید تیز رفتار ہو جاتا ہے، جسے روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

حاجی زادہ کے اس اعلان نے اسرائیل اور مغربی دنیا کی نیندیں اڑا دی ہیں اور وہ یقیناً اس کوشش میں ہوں گے کہ ایران کی دفاعی پیشرفت کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے روکا جاسکے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا ایران کی اقتصادی پیشرفت کو روکنے میں بھی بری طرح ناکام ہے۔ گذشتہ دنوں صدر رئیسی نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایران کی اس وقت کی آئل ایکسپورٹ پابندیوں سے قبل کی آئل ایکسپورٹ سے کم نہیں ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ غربِ اردن میں نوجوان کی ہلاکت کی فوٹیج نے اسرائیل کے طاقت کے استعمال کو ظاہر کر دیا

(ٹام بیٹمین) اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں جھڑپوں کے دوران فلسطینی نوجوان کی ہلاکت کی فوٹیج …