جمعرات , 8 دسمبر 2022

روس یوکرین تنازع عالمی مندی کا سبب

(ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ)

گزشتہ دنوں دنیا کی معروف فنانشل کمپنی Goldman Sach نے اپنی ریسرچ رپورٹ میں بتایا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے نتیجے میں یورپ میں توانائی کا بحران 1970ء کے تیل کے بحران سے بھی زیادہ شدید ہوجائے گا۔ یورپی یونین کے 27ممالک میں گیس کی قیمتیں 12گنا بڑھ گئی ہیں۔ یورپی یونین کے ممالک نے صارفین کو توانائی کے اضافی اخراجات برداشت کرنے کیلئے 280 ارب یورو کی سبسڈی دی ہے۔ امریکی جریدے فارچون کے مطابق یورپی صارفین کے بجلی کے بلوں میں اب تک 1.3 کھرب ڈالرکا اضافہ ہوچکا ہے جو آئندہ سال 2 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے اور یہ یورپ کے جی ڈی پی کے 10 فیصد سے زیادہ ہوگا۔ اب تک ریسٹورنٹس اور کافی شاپس کے بجلی کے بلوںمیں 3 گنا اضافہ ہوچکا ہے ۔ نیدر لینڈ اور جرمنی کے عام صارفین کا بجلی کا بل 500یورو ماہانہ تک پہنچ گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے، روس کی گیس سپلائی میں مزید کمی کی صورت میں یہ بل 600یورو ماہانہ تک پہنچ سکتا ہے۔ جرمن چیمبر کے مطابق جرمنی کی کئی بڑی کمپنیاں توانائی بحران اور نقصانات کے باعث چند ہفتوں میں بند ہوسکتی ہیں۔توانائی بحران کے باعث پیرس میں ایفل ٹاور اور دیگر مقامات تاریکی میں ڈوب جانے کا خدشہ ہے۔ امریکہ میں بھی مہنگائی میں اضافے سے گھروں کو گروی رکھنے کی شرح میں 6فیصد اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق برطانیہ میں بجلی کی قیمت ہمسایہ ممالک سے 30فیصد زیادہ ہوچکی ہے ۔ یورپی ممالک نے بجلی کی اضافی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کیلئے مختلف ٹیکسوںمیں کمی کا اعلان کیا ہے۔ مغرب کی روس پر مزید پابندیوں کی صورت میں روس یورپ کو اپنی گیس سپلائی مکمل بند کرسکتا ہے جس کے باعث یورپ کو حالیہ سردیوں میں گیس کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور یورپ میں بجلی کے بلوں میں سالانہ 3500 پائونڈز یا 4000 یورو تک اضافے کی پیش گوئی کی جارہی ہے ۔ یارک یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2023 تک برطانیہ میں آدھے سے زیادہ لوگ ایندھن بحران سے غربت کا شکار ہو جائیں گے۔ برطانوی اخبار کے مطابق برطانیہ اس وقت بجلی کی قیمت 52 پرچیزنگ پاور (PPSP)، اٹلی 46، فرانس 23، اسپین 30، جرمنی 35 اور پرتگال 33 PPSP فی کلو واٹ ادا کررہا ہے۔ یورپ میں سب سے سستی بجلی ناروے میں 12.8 اور برطانیہ میں 15.2 فی کلو واٹ ہے کیونکہ برطانیہ دوسرے یورپی ممالک کی طرح گیس سپلائی کیلئے روس پر انحصار نہیں کرتا ، وہ روس سے اپنی ضروریات پورا کرنے کے لیے صرف 5 فیصد گیس لیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جرمنی، آسٹریا، اٹلی، اسپین اور ہالینڈ میں بجلی کے صارفین برطانیہ سے زیادہ بلوں کی ادائیگی کررہے ہیں۔روس یورپی ممالک کو قدرتی گیس کی طلب کا تقریباً 40فیصد فراہم کرتا تھا جو اب کم کرکے 10فیصد گیس کردیا گیا ہے۔ روس یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ کو 20فیصد سے زیادہ گیس سپلائی کیلئے تیار نہیں جس کی وجہ سے یورپی ممالک اپنی ضروریات پورا کرنے کے لیے 60فیصد گیس ناروے اور الجزائر سے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یورپ میں جرمنی، روس سے سب سے زیادہ 56.2ارب کیوبک میٹر گیس امپورٹ کررہا ہے جس کے بعد بالترتیب اٹلی 29.2، نیدر لینڈ 13.2، فرانس 11.1، پولینڈ 10.5، ہنگری 7.1 ، اسپین 3.3 اوربلجیم 1.4 ارب کیوبک میٹر گیس امپورٹ کررہے ہیں۔ یورپین ممالک اس وقت روس سے صرف 30 فیصد گیس ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن روس سے گیس کی کمی کے باعث ذخیرہ کرنا ممکن نہیں۔ موجودہ حالات میں روس یورپ کے بجائے چین کو گیس کی سپلائی مسلسل بڑھارہا ہے۔ گزشتہ سال چین میں دنیا کے سب سے بڑے روسی گیس پروسیسنگ پلانٹ کا افتتاح بھی کیا گیا جس کے باعث آنے والی سردیوں میں یورپ میں گیس کے شدید بحران اور معاشی مندی کی پیش گوئی کی جارہی ہے جس سے پاکستان کی یورپی یونین کو ایکسپورٹس بھی متاثرہوںگی۔ یورپی ممالک LNGگیس کی خریداری کیلئے اب خلیجی اور وسط ایشیائی ممالک کی مارکیٹس میں داخل ہورہے ہیں جس سے عالمی منڈی میں LNG کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو جولائی 2021ء کے 15 ڈالر فی MMBTU سے بڑھ کر اب تقریباً 40 ڈالر فی MMBTU تک پہنچ گئی ہیں اور مہنگی گیس کی وجہ سے پاکستان کو اپنے LNG کے دو ٹینڈرز بھی منسوخ کرنا پڑے اور اب پاکستان، قطرکے ساتھ LNG سپلائی کا طویل المیعاد معاہدہ کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ ہمیں انٹرنیشنل مارکیٹ سے اسپارٹ ریٹ پر مہنگی LNG کے بجائے قطر سے قدرے سستی LNG مل سکے لیکن یورپی ممالک کی خلیجی اور وسط ایشیائی ممالک کی گیس مارکیٹ میں موجودگی سے قطر سے سستی LNG کا معاہدہ کرنا ایک مشکل امر ہے۔ RLNG گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ یا سپلائی میں کمی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کی صورت میں ہمارے ایکسپورٹس آرڈر متاثر ہوں گے جبکہ ہمیں اپنے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کیلئے ایکسپورٹس بڑھانا ہوں گی۔بشکریہ جنگ نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

افغانستان کے عوام کی سلامتی، ذمہ دار کون؟

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف شہر میں محکمہ …