منگل , 29 نومبر 2022

جاپان میں پرانے آئی فون کی فروخت میں اضافہ کیوں؟

ٹوکیو:جاپان کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے جہاں لوگ مارکیٹ میں آنے والی ہر جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے عموماً بھاری قیمت بھی ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں لیکن اب مقامی کرنسی ین کی قدر کم ہونے سے صورتحال بدل رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر 32 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے جس سے صارفین کی قوت خرید بھی متاثر ہوئی ہے۔

جاپانی صارفین جو عموماً نئی اشیا خریدنے کو ترجیںح دیتے ہیں، ین کی قدر میں کمی کے بعد استعمال شدہ اشیا کی خریداری میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔خیال رہے کہ اس سال ڈالر کے مقابلے میں جہاں عالمی کرنسیوں کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، اسی دوران ین کی قدر 22 فیصد گری ہے۔

جولائی میں امریکی کمپنی ایپل نے آئی فون 13 کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ کیا تھا۔ جبکہ اس کے بعد آئے والے آئی فون 14 کی قیمت آئی فون 13 سے 20 فیصد زیادہ تھی۔جاپانی شہری سالاریمن کوارو ایک نیا موبائل فون خریدنا چاہتے تھے لیکن آئی فون 14 کے لیے ایک لاکھ 19 ہزار 800 کی رقم ادا کرنا انہیں غیرضروری لگ رہا تھا۔

نئے کے بجائے انہوں نے استعمال شدہ آئی فون خریدنے کو ترجیح دی جس کی قیمت نئے والے سے ایک تہائی کم ہے۔سالاریمن کوارو کا کہنا ہے کہ ’آئی فون 14 بہت زیادہ مہنگا ہے اور میں یہ نہیں خرید سکتا۔ آئی فون ایس ای 2 سال 2020 میں ریلیز ہوا تھا لیکن اس میں دو کیمرے نہیں لگے ہوئے، پھر بھی یہ قیمت اور ٹیکنالوجیکل فیچرز کا اچھا امتزاج ہے۔‘

گزشتہ سال ایپل نے کہا تھا کہ ین کے کمزور ہونے کی وجہ سے رواں سال ستمبر کے آخر تک جاپان میں آئی فون کی فروخت 9 فیصد کم ہوئی ہے۔ٹیکنالوجی کی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے جاپانی ادارے ’ایم ایم ریسرچ‘ کے مطابق پچھلے مالی سال کے دوران استعمال شدہ سمارٹ فونز کی فروخت 15 فیصد اضافے کے بعد 21 لاکھ کی ریکارڈ تعداد تک پہنچ گئی تھی جبکہ سال 2026 تک یہ تعداد 34 لاکھ ہو جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

سیلاب کی اطلاع دینے والا کم خرچ اور مؤثر سینسر تیار

بون: جرمن ماہرین نے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ پر نظررکھنے والا ایک مؤثر اور …