ہفتہ , 10 دسمبر 2022

پاکستان کی آبادی سالانہ 1.9 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے، اقوام متحدہ

نیویارک:اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی کا کہنا ہے کہ دنیا بھرکی آبادی 8 ارب تک پہنچ چکی ہے جبکہ صرف پاکستان کی آبادی 1.9 فیصد کی سالانہ شرح سے بڑھ رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں شرح پیدائش 3.6 فیصد ہے۔

اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ پاکستان ان 8 ممالک میں شمار ہوتا ہے جو 2050 تک دنیا کی متوقع آبادی کالگ بھگ نصف ہوں گے اسی طرح چند ممالک میں بھی ایسی صورتحال ہے جن میں ڈی آر کانگو، مصر، ایتھوپیا، بھارت، نائجیریا، فلپائن اور تنزانیہ شامل ہیں

یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سال 2011 میں 7 ارب آبادی تھی جو اب سال 2022 میں 8 ارب تک پہنچ چکی ہے، اس آبادی کا نصف حصہ ایشیا سے ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 8 ارب آبادی لمحہ فکریہ ہے، پاکستان کو آبادی کے لحاظ سے صورتحال کا جائزہ کرنے اور مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

صرف آبادی کے ہندسے پر توجہ دینے کے بجائے ہمیں ٹھوس شواہد کے ساتھ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، اس کا حل آبادی کو کم یا زیادہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کرکے بڑھتی ہوئی آبادی سے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یکساں حقوق اور مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔

پاکستان میں اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی کی نمائندہ ڈاکٹر لوئے شبانہ کا کہنا ہے کہ خدمت، وکالت اور سماجی اصول کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کی مہم کے ذریعے معاشی ترقی حاصل کرسکتے ہیں اور قدرتی وسائل کے ذریعے اسی طویل عرصے تک برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

حقوق، ذمہ داریوں اور توازن کے 3 باہم جڑے ہوئے اصولوں پر مبنی پاکستان کی قومی آبادی کے بیانیے نے ملک کے لیے موزوں سمت کا تعین کیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر عوامی بہبود کے منصبوبوں میں سر فہرست ہونی چاہیےجسے تمام طبقوں کی حمایت اور بھی حاصل ہوتاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ قوم کا ہر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے،

اب وقت آچکا ہے کہ ہم اپنے منصوبوں کو عمل کریں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہیئے کہ ان پالیسی اور منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے اس ساتھ مل کر کام کریں۔

تاہم صحت کے بہتر نظام ، فلاح و بہبود اور ترقی کے حوالے سے دنیا بھر میں 8 ارب کی آبادی نے ایک طویل سفر طے کیا ہےلیکن اس ترقی اور مواقع سے تمام لوگ یکساں طورپر حاصل نہیں کیے۔

سماجی اقتصادی اور عدم مساوات ملک کے تمام صوبوں اور خطوں میں موجود ہے یہاں تک کہ صحت کی سہولیات، حقوق، معیار زندگی تک رسائی بھی ہر شخص یا ہر گروہ کے لیے مختلف ہے۔

ایسے معاشرے جو اپنے لوگوں کو ان کے مساوی حقوق فراہم کرتے ہیں اور عوام پر سرمایہ کاری کر ترجیح دیتے ہیں وہ معاشرے خوشحال، ترقی اور امن کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ نے اپنی ویب سائٹ پر 15 نومبر کو 8 ارب کا دن بھی قرار دیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پرویز الہی کو نئے سیٹ اپ میں وزیراعلی بنانے پر سوچا جاسکتا ہے،رانا ثنااللہ

لاہور: وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان اگر مگر چھوڑیں اور …