منگل , 29 نومبر 2022

آسٹریلیا کو ہلا دینے والا قتل جس کے ملزم کی تلاش انڈین پنجاب میں کی جا رہی ہے

(ٹفنی ٹرن بل)

آسٹریلیا کے مرطوب موسم والے شمالی حصے میں ایک طویل، خوبصورت اور ریتیلا وانگیٹی ساحل ٹویا کورڈنگلی کا پسندیدہ ساحل تھا۔اور یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ ہلاک ہوئیں جسے ایک ’ظالمانہ اور جنونی قتل‘ کہا جا رہا ہے۔

یہ 24 سال کی خاتون 21 اکتوبر 2018 کو اپنے کتے کو یہاں معمول کے مطابق گھمانے لے گئی تھیں مگر دوبارہ کبھی واپس نہیں آئیں۔اگلی صبح ان کی لاش ’انتہائی بری حالت میں‘ ریت کے ٹیلوں میں آدھی دفن پائی گئی اور ان کا پسندیدہ کتا پاس ہی بالکل ٹھیک حالت میں بندھا ہوا تھا۔

چار برس بعد بھی آسٹریلیا کے حکام عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ٹویا کے ممکنہ قاتل راجویندر سنگھ کو پکڑنے کی ان کی بین الاقوامی کوششوں میں مدد کریں۔

راجویندر ایک نرس ہیں اور وہ اینیسفیل میں رہتے تھے مگر انڈین پنجاب کے گاؤں بٹر کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹویا کی لاش ملنے کے چند گھنٹے بعد ہی وہ اپنی ملازمت، اپنی اہلیہ اور اپنے تین بچوں کو پیچھے چھوڑ کر آسٹریلیا سے فرار ہو گئے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق گواہان نے راجویندر کو ٹویا کے قتل کے دن جسم پر خراشوں اور کاٹنے کے نشانات کے ساتھ مشتبہ حرکات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔آسٹریلیا اور انڈیا کے حکام نے ان کی آسٹریلیا حوالگی کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے مگر وہ اب بھی 38 سالہ شخص کی تلاش میں ناکام ہیں۔

چنانچہ اب کوئینزلینڈ پولیس نے گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع کے لیے گذشتہ ہفتے 10 لاکھ ڈالر یا پانچ کروڑ 30 لاکھ انڈین روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

وزیرِ پولیس مارک رائن نے جمعرات کو رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ لوگ اس شخص کو جانتے ہیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ یہ شخص کہاں ہے اور ہم ان لوگوں سے صحیح کام کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔’اس شخص پر انتہائی گھناؤنے جرم کا الزام ہے۔ ایسا جرم جس نے ایک خاندان کو بکھیر کر رکھ دیا۔‘

تفتیش کاروں نے ٹویا کی موت کے حوالے سے کم ہی تفصیلات جاری کی ہیں مگر اطلاعات کے مطابق جب اُنھیں کینز سے 40 کلومیٹر شمال میں ایک ساحل پر پایا گیا تو ان پر ’واضح‘ اور ’خوفناک‘ زخم نظر آ رہے تھے۔پولیس کا ماننا ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر جنسی نوعیت کا تھا۔

مقامی رکنِ پارلیمان وارن اینٹش نے 60 منٹس کو بتایا کہ مقامی لوگوں کو یہ دیکھ کر بہت صدمہ پہنچا کہ ان کے اس دوستانہ علاقے میں ایسا گھناؤنا قتل ہو سکتا ہے۔

اور انھیں اس بات پر غصہ ہے کہ علاقے کی ایک جانی پہچانی اور پسندیدہ لڑکی کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔مقامی کونسلر مائیکل کر نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کو بتایا کہ ’ہر کوئی جانتا تھا کہ وہ کون تھیں۔‘

ٹویا کو دوستانہ اور ذہین قرار دیا جاتا ہے اور وہ جانوروں سے محبت کے لیے جانی جاتی تھیں۔مائیکل کر وہ اینیمل شیلٹر چلاتے ہیں جہاں ٹویا رضاکارانہ طور پر کام کرتی تھیں۔ ’اُنھوں نے بہت کم وقت میں بہت سے لوگوں کو متاثر کیا، وہ ایسی ہی تھیں۔‘

ٹویا کی موت ایسے وقت میں ہوئی، جب آسٹریلیا میں قتل کے کئی واقعات کے بعد نوجوان خواتین کے تحفظ سے متعلق تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔کئی لوگوں کو تشویش ہے کہ وہ دن کے اجالے میں ایک عوامی جگہ پر اتنے بڑے کتے کے ساتھ بھی محفوظ نہیں تھیں۔

کوئینزلینڈ کی وزیرِ اعلیٰ اینیستاسیا پلاسزوک نے اس وقت کہا تھا کہ ’یہ افسوسناک ہے، ایک عورت کے طور پر میں چاہتی ہوں کہ خواتین گھروں سے نکل پائیں اور اپنی زندگی جیئں۔‘’یہ اتوار کو اپنے کتے کو گھمانے والی لڑکی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے۔‘

راجویندر سنگھ پر کیوں شک کیا جا رہا ہے؟
ٹویا کی موت کے بعد کے دنوں میں مقامی لوگ ان کے قاتل کی گرفتاری میں مدد دینے کی بھرپور کوشش کرنے لگے۔پولیس کو سینکڑوں لوگوں نے اپنی اپنی طرف سے اطلاعات دیں اور کئی لوگوں نے ثبوتوں کی تلاش میں وانگیٹی ساحل کھنگال مارا۔

اے بی سی کے مطابق پولیس نے پھر مقامی لوگوں سے ڈی این اے نمونوں کی درخواست کی اور اس دوران وہ خود بھی ثبوت تلاش کرتے رہے۔شمالی کینز میں ایک ایسی ہی تلاش میں پولیس کو کئی اہم چیزیں ملیں مگر پولیس نے تفصیلات نہیں بتائیں کہ انھیں کیا ملا۔

پولیس نے اینیسفیل میں راجویندر سنگھ کے گھر کی بھی تلاشی لی جو جائے وقوعہ سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر ہے مگر وہ ان سے پوچھ تاچھ نہیں کر پائے کیونکہ راجویندر تب تک ملک چھوڑ چکے تھے۔راجویندر کے ایک رشتے دار نے مقامی اخبار دی کوریئر میل کو بتایا کہ آبائی گھر واپس جانے کا منصوبہ ایک اتفاق تھا۔

ہرپریت سنگھ نے 2018 میں کہا تھا کہ ’راج قتل نہیں کر سکتا۔ وہ بہت خاموش اور ڈرپوک ہے۔ وہ اپنے کام کے متعلق کافی پریشانی کا شکار تھا۔‘مگر آسٹریلیا کی حکومت نے مارچ 2021 میں ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔ ایسا صرف تب ہو سکتا تھا جب تفتیش کاروں کا کیس اتنا مضبوط ہو کہ وہ مذکورہ شخص پر فردِ جرم عائد کر سکیں۔

گذشتہ ماہ انڈین حکام نے یہ درخواست منظور کر لی جس کا مطلب ہے کہ پولیس اب اگر راجویندر سنگھ کو تلاش کر پائے تو اُنھیں گرفتار کر کے آسٹریلیا کے حوالے کر سکتی ہے۔چار طویل برس کے بعد ٹویا کے افسردہ خاندان کو امید ہے کہ انصاف اب بالآخر ان کے قریب ہے۔

اُنھوں نے ٹویا کے دوستوں کو بڑے ہوتے، شادی کرتے اور بچے پیدا کرتے دیکھا ہے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ جس شخص نے ان کی جان لی وہ ’اپنے گھناؤنے جرم کی سزا پائے بغیر آزادی سے جی رہا ہے۔‘

ٹویا کے والد ٹرائے کورڈِنگلی نے انعام کے اعلان کے موقع پر کہا: ’ٹویا ایسی نوجوان لڑکی تھی جسے کبھی بھرپور زندگی جینے کا موقع نہیں ملا۔ یہ سب اس سے چھین لیا گیا۔‘اُنھوں نے کہا کہ ’انصاف ٹویا کو واپس نہیں لا سکتا مگر انصاف تو کم از کم اس کا حق ہے۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

جدہ سیلاب کی لپیٹ میں.. محمد بن سلمان کے خیالی منصوبوں کا پردہ فاش

جدہ کے سیلاب نے شہر میں بڑے سیلاب کو جنم دیا جس نے ولی عہد …