جمعرات , 1 دسمبر 2022

عمران خان کے ’امریکی سازش کے بیانیےکو پیچھے چھوڑنے‘ پر ہنگامہ کیوں؟

(وسیم عباسی)

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی سازش کے بیانیے کو چھوڑ کر آگے بڑھنے کے بیان نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں بھونچال سا برپا کر دیا ہے اور اخبارات ہوں یا ٹی وی، پارلیمنٹ ہو یا پھر خود عمران خان کا لانگ مارچ، یہی معاملہ ہر جگہ زیر بحث ہے کہ کیا عمران خان نے ایک اور یوٹرن لے لیا ہے یا پھر یہ ان کے بیانیے کا ہی تسلسل ہے۔

عمران خان کی اس بات کو پاکستانی میڈیا نے ہیڈلائنز میں چھاپا اور حکومتی رہنماؤں نے اسے ان کا بہت بڑا یو ٹرن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ سازشی بیانیے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش تھے۔‘تاہم عمران خان کی جماعت کے رہنما ان کے دفاع میں سامنے آئے اور ڈان اخبار سمیت پاکستانی میڈیا کو طعنہ دیا کہ وہ انگریزی میں دیے انٹرویو کو نہ سمجھ پائے۔ تنقید کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں کہ خود عمران خان کو پیر کو واضح کرنا پڑا کہ ان کا تازہ بیان غلط سمجھا گیا ہے۔

عمران خان نے انٹرویو میں کہا کیا تھا؟
گزشتہ دنوں برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے وقت عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اب اپنی حکومت کی برطرفی کے معاملے پر امریکہ کو الزام نہیں دیتے۔ جب ان سے مبینہ سازش کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک میرا تعلق ہے یہ بات ختم ہے، اب یہ میں پیچھے چھوڑ چکا ہوں۔‘

عمران خان نے مزید کہا کہ وہ امریکہ سے باوقار تعلقات چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے وا ضح کیا کہ ’ہمارے امریکہ سے آقا اور غلام والے تعلقات رہے ہیں۔ ہمیں کرائے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ لیکن ان سب باتوں کے لیے میں امریکہ سے زیادہ اپنے ملک کی حکومتوں کو الزام دیتا ہوں۔‘

انٹرویو میں عمران خان نے اعتراف کیا کہ رواں سال فروری میں یوکرین کے حملے سے ایک دن قبل ان کا دورہ روس ’شرمندگی‘ کا باعث بنا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس دورے کا اہتمام مہینوں پہلے کیا گیا تھا۔

عمران خان نے ماضی میں کیا کہا تھا؟
اپریل میں جب اپوزیشن کی کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تو ان کا دعویٰ تھا کہ امریکہ نے پاکستان میں مقامی ہینڈلرز کے ذریعے ’رجیم چینج‘ کیا اور ایک ’امپورٹڈ حکومت‘ قائم کی۔ انہوں نے اسے غلامی قرار دیا اور اپنی ’حقیقی آزادی‘ کی جنگ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عمران خان کا دعویٰ تھا کہ ان کو دورہ روس کی سزا دی گئی تھی اور امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو نے باقاعدہ دھمکی دے کر کہا تھا کہ اگر عمران خان کی حکومت ختم نہ ہوئی تو اس کے نتائج ہوں گے۔تاہم چند ماہ پہلے انہوں نے ایک امریکی لابنگ فرم ہائر کی تھی جس سے عندیہ ملا تھا کہ اب وہ امریکہ سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔

پاکستان میں عمران خان کے انٹرویو پر ردعمل
عمران خان کے انٹرویو کو پاکستان کے تقریبا تمام بڑے اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا اور یہ ٹی وی چینلز ہیڈ لائنز میں رہا۔ سوشل میڈیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی اس انٹرویو کا ہی تذکرہ رہا۔

ان کے انٹرویو کے ردعمل میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان پہلی بار نہیں مکر رہے ہیں وہ ہر چیز سے مکر جاتے ہیں۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ’عمران خان نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے حقیقی آزادی اور حقیقی جمہوریت کے بیانیے سے ایک اور یو ٹرن لیا ہے، وقت آ گیا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق یہ شخص اپنے اس جھوٹ کی قیمت ادا کرے، اب عمران خان چاہتا ہے کہ ملک کے اندر سے اور ملک سے باہر کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھے تاکہ اس کی سیاسی دکانداری چل سکے۔‘

وزیر دفاع نے کہا کہ ’سات آٹھ ماہ قبل جب اس ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد مخلوط حکومت قائم ہوئی یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ ہماری حکومت کو کہا گیا کہ یہ امپورٹڈ حکومت ہے اور ایک سائفر نکال کر کہا گیا کہ اس حکومت کے تانے بانے امریکا سے ملتے ہیں۔ قوم کو بتایا گیا کہ ہم حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘

وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’یوٹرن خان نے اپنی دوہری سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا یو ٹرن لے لیا، مفروضے پر مبنی بیرونی سازش کا ڈھونگ رچا کر پاکستان کو سفارتی نقصان پہنچایا، نقصان پہنچا کر اب کہتے ہیں سائفر کا معاملہ پیچھے رہ گیا، اب الزام نہیں لگاؤں گا۔‘

وفاقی وزیر نے پوچھا کہ عمران خان کے جھوٹے بیانیے سے ملک کو جو سفارتی نقصان ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ’آڈیو لیک میں ظاہر ہو چکا سائفر کے معاملے پر من گھڑت اور جھوٹا بیانیہ بنایا گیا، من گھڑت اور جھوٹا بیانیہ بنا کر اس پر ’کھیلنے‘ کی بھی منصوبہ بندی کی گئی، اب کہہ رہے یہ ماضی کا معاملہ ہے۔‘

سینیٹر شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ جلسے جلسوں میں اسی بیانیے پر ملکی اداروں کے خلاف الزام لگائے اور نفرت پھیلائی، یہ بیانیے کی دوڑ میں ملک کے مفاد کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، عمران خان اب سائفر کے معاملے سے دستبردار ہونے کی کوشش نہ کریں۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب مریم اورنگزیب نے کہا کہ امریکی سازش کا بیانیہ پسِ پشت ڈالنے سے بات ختم نہیں ہوگی عمران خان کو جواب دینا پڑے گا۔ ’جس بیانیے پر پورے ملک میں انتشار اور جھوٹ پھیلایا، جواب دیے بغیر صرف دستبرداری کافی نہیں، آج عمران سے سوال نہیں بلکہ آج عمران کی بات پر یقین کرنے والوں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’جھوٹے، ملکی مفاد سے کھیل کھیلنے والے فارن فنڈد فتنے کی بات سُننے والوں کے لئے سوالیہ نشان ہے، اپنے جھوٹ کے لیے آئینی عہدوں سے آئین شکنی کروائی، عمران خان ملک کو تہس نہس کر کے آج امریکی سازش کے بیانیہ سے دستبردار ہو گئے ہیں، عمران خان نے اپنے حامیوں کو پاگل اور بھیڑ بکریاں سمجھ رکھا ہے۔‘

عمران خان کی وضاحت
منڈی بہاوالدین میں لانگ مارچ سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اپنے انٹرویو سے پیدا ہونے والے تنازعے پر بھی بات کی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے حیرت ہے یہاں ایک پروپیگنڈا سیل بیٹھا ہے جو میرے انٹرویو میں سے ایسی چیزیں چنتے ہیں جو میرے خلاف ہوں۔ پراپیگنڈا سیل نے میرے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔ جن دو صحافیوں کو انٹرویو دیا انہیں بھی وضاحت کرنا پڑی کہ ہمارے انٹرویو کو غلط پیش کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم دوستی سب سے کرنا چاہتے ہیں لیکن غلامی کسی کی نہیں کرنا چاہے 26 سال سے یہی کہہ رہا ہوں دوستی سب سے مگر غلامی کسی کی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چین، روس، امریکا سمیت ہر ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔‘عمران خان نے کہا کہ ’انڈیا اگر کشمیر کا مسئلہ حل کرے تو ہم اس کے ساتھ بھی دوستی کرنا چاہتے ہیں۔ میں شروع سے یہ کہتا رہا ہوں۔‘

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یورپ کی چین سےتعلقات کی از سر نو استواری، امریکہ- یورپ تقسیم کو ظاہر کرتی ہے؟

یوکرین تصادم اور روس اور مغرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سےیورپ کے …